03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاق پر مشتمل طلاق نامے پر دستخط کرنے کا حکم
87017طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

السلام علیکم! میرا نام حسنین علی ہے، میری شادی اپریل 2023 میں ہوئی تھی ،میری ایک سال کی بیٹی بھی ہے۔

 شادی کے دو مہینے  بعد میری  بیگم سے لڑائی شروع ہو گئی تھی ،ہماری جب بھی لڑائی ہوتی  تو وہ اپنے گھر والوں کو بلا لیتی تھی ،میری بیگم کے گھر والے ہمیشہ لڑائی کے موقع پر  ایک ہی بات کہتے تھے ہمیں  خلع چاہیے،اور میری بیگم بھی ہمیشہ میرے گھر والوں کے سامنے ایک ہی بات کہتی تھی کہ مجھے خلع چاہیے ،میں ایسے مرد کے ساتھ نہیں رہ سکتی، اسی طرح ہماری زندگی چلتی رہی، اس یکم اگست کی رات کو میری اور میری بیگم کی لڑائی ہوئی، تو لڑائی میں اس نے اپنی امی کو بلا لیا ،اور رات کے تین بجے امی کے ساتھ اپنے گھر چلی گئی، پھر میں نے اپنی بیگم سے 15 دن تک کوئی رابطہ نہیں کیا ،پھر وہ خود گھر واپس آگئی ،اور اس نے کہا کہ میں گھر کا کوئی کام نہیں کروں گی، اور میری بیگم نے امی سے  بدتمیزی  کی تو میں نے اس سے کہا :اپنے گھر کے بڑوں کو بلاؤ اور ہم بیٹھ کے بات کرتے ہیں، اور اس مسئلے کو حل کرتے ہیں ،یہ ہماری لڑائی ایسے کب تک چلے گی۔ 16 اگست کی رات کو میری بیگم کے گھر کے بڑے آئے،  میری ساس نے اپنی بات کہنا شروع کی ،تھوڑی دیر بعد  اس کے ماموں نے پوری بات بھی نہیں سنی ،کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے : اپنی بیٹی اپنے پاس رکھو، اور میری بیٹی میرے ہاتھ میں دے دی ،اور کہا :ہم اپنی بیٹی لے کر جا رہے ہیں ، تو اس میں کافی لڑائی شروع ہو گئی، اور گھر کے باہر کافی لوگ جمع ہو گئے۔ اب میری بیگم اپنی بیٹی  چھوڑنے کو تیار نہیں تھی، اس نے اپنی بیٹی کو لینے کے لیے شور شرابہ شروع کر دیا ،تو اس لڑائی  اور شور شرابہ میں میری بیگم نے میری والدہ کو چماٹ مار دیا ،پھر میرے گھر والوں نے میری بیگم کے گھر والوں کو گھر سے باہر نکال دیا ۔ پھر جب میری دوبارہ  بیگم سے بات ہوئی تو وہ کہنے لگی:  میں نے امی کو جان بوجھ کے نہیں مارا تھا، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ،غلطی سے امی کو چماٹ لگ گیا، میں اس پر قسم کھانے کو بھی تیار ہوں ۔مگر میرے گھر میں سب بہت غصہ اور ناراض تھے خاص طور پہ میری امی کسی حال میں میری بیگم کو رکھنے کے لیے تیار نہیں تھی ،وہ مجھے بار بار کہتی تھی کہ اس سے جان چھڑا، اس کو طلاق دے، اگر تو اس کو طلاق نہیں دے گا تو تو اس کو لے کر کہیں بھی چلا جا ،میں اکیلے رہ لوں گی، مجھے کسی کی ضرورت نہیں۔  میرے  سارے بھائی الگ  رہتے ہیں ،  امی  میرے ساتھ رہتی ہیں، اور وہ کسی بیٹے کے گھر جانے کو تیار بھی نہیں تھی ،اور مجھے کہہ رہی تھی اگر تو اپنی بیگم کو لائے گا تو تیرا میرا رشتہ ختم ،اور مجھے معلوم تھا کہ میری امی بہت ضدی ہیں کسی بیٹے کے گھر نہیں جائیں گی ،میرے والد صاحب کا بھی انتقال ہو چکا ہے، اگرمیں بھی چلا جاؤں گا تو اکیلے رہنا ان کے لیے بہت مشکل ہو جائے گا ، میرے اوپر کافی ذہنی دباؤ تھا، روز مجھے بھائیوں کا فون آتا تھا ،کیونکہ روز امی بھائیوں کو فون کرکے کہتی :  اس کو بول جلدی فیصلہ کرے، جو کرنا ہے کرے، تو کافی دنوں تک میں ٹالتا رہا ،ایک دن کافی ٹینشن میں ا ٓکر میں نے طلاق نامے پر سائن کر دیا۔ میری طلاق دینے کی نیت تو نہیں تھی مگر میرے دل میں خیال آ رہا تھا کہ آنے کے بعد بھی میری بیگم صحیح نہیں رہی، اور دوبارہ لڑائی جھگڑا شروع  کر دیا ، میں گھر والوں کو کیا جواب دوں گا ۔نہ ہی میں نے طلاق نامے کو پڑھا تھا اور نہ ہی زبان سے کچھ کہا تھا، بھائی نے پڑھ کر سنایا ،میں نے ایک نظر اس پہ ڈالی اور اس کے بعد سائن کر دیا۔براہ کرم  رہنمائی فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسئولہ  صورت میں  والدہ کا اکیلے رہنے کی دھمکی دینا  کوئی شرعی اکراہ (زبردستی ) نہیں ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ جب آپ کے بھائی نے آپ کو طلاق نامہ پڑھ کر سنایا ،اس کے بعد آپ نے بھی اس کو ایک نظر دیکھا ،اورطلاق نامے میں تحریر کردہ تین طلاق کا علم ہوتے ہوئے  آپ نے دستخط کردیئے  ۔ لہذا مسئولہ صورت میں منسلکہ طلاق نامہ میں موجود تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوگئی ہے،لہذا موجودہ حالت میں   میاں بیوی میں رجوع  نہیں ہوسکتا، اور عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔

البتہ اگر یہ عورت  اپنے سابقہ خاوند (جس نے تین طلاقیں دی ہیں ) سے ہی نکاح کرنا چاہے تو اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ عورت عدت گزارنے کے بعد غیرمشروط طور پرکسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ شخص عورت  کے ساتھ ہمبستری بھی کرے، پھر وہ اپنی رضامندی سے عورت کو طلاق دیدے یا وہ وفات پا جائے تو اُس خاوند کی عدت گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، ورنہ نہیں۔

حوالہ جات

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله :الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو.(رد المحتار:246/3)

‌ قال العلامة ابن عابدين رحمه الله :ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابة أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اهـ ملخصا.

(رد المحتار:246/3)

قال العلامة الكاساني رحمه الله : ‌وأما ‌بيان ‌أنواع ‌الإكراه ‌فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا.(بدائع الصنائع :175/7)

محمد فیاض بن عطاءالرحمن

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۰۴ رمضان المبارک ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فیاض بن عطاءالرحمن

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب