| 88557 | نماز کا بیان | جمعہ و عیدین کے مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمارا علاقہ"چور بند"بڑے بڑے برفانی پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ پہاڑوں کے دامن سے چوٹیوں کے درمیان کے رقبے میں مختلف اقوام کی جدا جدا بستیاں ہیں۔ ہر بستی کے اپنے رسم و رواج ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ان پہاڑی اور منتشر بستیوں میں، جہاں ہر محلے اور بستی کی اپنی مسجد اور ائمہ ہیں، وہاں شرعاً نمازِ جمعہ اور عیدین کی ادائیگی جدا جدا درست ہے یا نہیں؟
ان منتشر بستیوں میں ایک بستی ڈیری بھی ہے۔ ڈیری ایک معروف پہاڑی نما بستی ہے جو پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔ یہ بستی مختلف محلوں پر مشتمل ہے، جن کی مجموعی آبادی دو سو (200) سے زائد گھروں پر مشتمل ہے۔ ہر محلہ چند گھروں پر مشتمل ہے اور تقریباً ہر محلے میں مسجد و امام موجود ہے۔
ڈیری میں تین بڑے مساجد اور چھ چھوٹے مساجد ہیں۔ بڑے مساجد میں ائمہ و خطباء مقرر ہیں جبکہ چھوٹے محلوں کی مساجد میں پنجگانہ نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے۔ ڈیری کے مرکزی حصے میں بازار، پولیس چوکی، اسپتال، تعلیمی ادارے، مدارس، اور تمام بنیادی و شہری سہولیات موجود ہیں۔ اردگرد کی بستیاں سہولیات کے لیے ڈیری پر انحصار کرتی ہیں۔
ڈیری کے تین بڑے مساجد میں نماز جمعہ اور عیدین کا اہتمام ہوتا ہے، جن میں اطراف سے لوگ بھی شریک ہوتے ہیں اور اندازاً پندرہ ہزار (15,000) کے قریب مکلفین نماز ادا کرتے ہیں۔
لہٰذا گزارش ہے کہ کیا بستی ڈیری میں نماز جمعہ اور عیدین کی ادائیگی (الگ الگ محلوں میں) شرعاً درست ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ڈیری بازار کی تمام مساجد میں نماز جمعہ اور عیدین کا قیام شرعاً جائز ہے، کیونکہ سائل نے جو حالات ڈیری کے بیان کیے ہیں اورآن لائن اس کےکانقشہ دیکھنے سےہماری تحقیق کے مطابق بھی ڈیری عرفاً شہر کےحکم میں ہے، لہٰذا بلاشبہ وہاں کےمختلف محلوں میں جمعہ اور عیدین قائم کرنا درست اور صحیح ہے۔
البتہ ڈیری کے اطراف میں پھیلی ہوئی الگ الگ چھوٹی بستیوں میں جمعہ اور عیدین کا قیام شرعاً درست نہیں، اس لیے کہ وہ نہ تو خود شہر یا قریہ کبیرہ کے حکم میں آتی ہیں اور نہ ہی ڈیری شہر کی فناء شمار ہوتی ہیں۔ صرف اس وجہ سے کہ پورے علاقے کو ایک نام سے یاد کیا جاتا ہے، وہاں جمعہ اور عیدین کے قیام کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اگر ایسا مان لیا جائے تو پھر ہر صوبہ یا پورا ملک چونکہ ایک نام رکھتا ہے، وہاں کی ہر چھوٹی آبادی میں جمعہ قائم کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، حالانکہ فقہاء نے اسے دلیل نہیں بنایا۔
لہٰذا:
خود ڈیری شہر اور اس کی تمام بڑی مساجد میں نماز جمعہ و عیدین قائم کرنا بالکل درست ہے۔ جبکہ اطراف کی علیحدہ بستیوں میں جمعہ و عیدین درست نہیں، وہاں فرض نماز کے طور پر ظہر ادا کی جائے گی۔
حوالہ جات
وفی مصنف ابن أبي شيبة - ترقيم عوامة - (2 / 101)
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : لاَ جُمُعَةَ ، وَلاَ تَشْرِيقَ إِلاَّ فِي مِصْرٍ جَامِعٍ.
وفہ الدر المختار للحصفكي - (ج 2 / ص 148)
(ويشترط لصحتها) سبعة أشياء: الاول: (المصر وهو .....وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض
يقدرعلى إقامة الحدود كما حررناه فيما علقناه على الملتقى.....(أو فناؤه) بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أولا، كما حرره ابن الكمال وغيره(لاجل مصالحه)كدفن الموتى وركض الخيل،والمختار للفتوى تقدیرہ
بفرسخ، ذكره الولوالجي.)
وفی رد المحتار - (ج 6 / ص 44)
تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق.
رد المحتار - (ج 6 / ص 44)
لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة ؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر .
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
29/3/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


