03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض دینے کی بجاۓکوئی چیز قسطوں پر فروخت کرنا
88901خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

   کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس معاملے کے متعلق کہ زید کو تین لاکھ روپے قرض کی ضرورت ہوتی ہے، وہ خالد کے پاس جاتا ہے تو خالد اس سے کہتا ہے کہ میرا معاملہ یہ ہے ،کہ میں ایک لاکھ روپے پر 60 ہزار روپے کماتا ہوں تم میرے ساتھ چلو، میں تمہارا مسئلہ حل کرتا ہوں، زید کہتا ہے کہ ٹھیک ہے۔ خالد زید کو ساتھ لے کر رکشوں کے شوروم میں جاتا ہے اور وہاں سے بالکل نیا رکشہ 3 لاکھ روپے نقد میں خرید لیتا ہے اور چابی زید کے حوالے کر دیتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ تم مجھے دو سال میں 4 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کردینا ( یعنی ہر ایک لاکھ پر 60 ہزار روپے نفع) زید اسی وقت اس رکشے کو مارکیٹ میں دو لاکھ 90ہزار یا دو لاکھ 95 ہزار روپے میں فروخت کر دیتا ہے اور اپنی ضرورت پوری کر لیتا ہے۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا خالد کا اس طرح معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ کیا یہ سود سے  بچنے کے لیے حیلہ  تو  نہیں ہے؟ اگر اس صورت میں خالد شوروم سے رکشہ خرید کر زید کو 4 لاکھ 80 ہزار روپے میں دو سال کی قسطوں پر فروخت کر دے تو اس کا کیا حکم ہے؟ جبکہ خالد پہلے ہی اس کو بتا چکا تھا کہ میں ایک لاکھ پر 0 6ہزار کماتا ہوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسٔولہ میں  خالد  کا  زید کو دو سال کی قسطوں پر رکشہ  فروخت کرنا جائز ہے ۔  خالداگر رکشہ خرید کر قبضہ کرلےاور پھر باقاعدہ ایجاب وقبول کر کے زید کو بیچےتوا س میں کوئی خرابی نہیں ،تاہم کسی علاقائی   عالم  یا مفتی کی رہنمائی میں ایسا کریں تو بہتر ہوگا ۔نیز اگر فریقین کا مقصدسود سے بچنا ہے تو ایسا کرنا مستحب ہوگا ۔اگر نفع کمانے کی بجائے خالد قرض دیتا تو اسے زیادہ ثواب ملتا،البتہ بیچنا بھی بلا کراہت جائز ہے ۔ تاہم یہ بات ذہن میں  رہےکہ کسی کی مجبوری   سے فائدہ اٹھا کر بے جا نفع  کمانا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

حوالہ جات

( بحوث  فی قضایا    فقہیۃ  معاصرۃ:2/58)

أما التورق، فدور البائع الأول فيه لا يتجاوز من أنه يبيع سلعته إلى أجل بثمن أكثر من ثمن السوق، وهو عقد مشروع عند جمهور الفقهاء، ثم لا علاقة له بما يفعل المشتري بالسلعة بعد الشراء؛ لأنه لا يبيعها إليه مرة أخرى، وإنما يبيعها في السوق. وإنّ الذي يشتريها من المشتري الأول هو الذي يدفع إليه الثمن الأقل، والذي يدفع إليه المشتري الأول الثمن الآجل هو البائع الأول، فكان دافع الثمن الأقل غير آخذ الثمن الأكثر الأجل، والربا إنما يتحقق إذا كان دافع الأقل وآخذ الأكثر واحداً، فإذا اختلف الدافع والآخذ اختلافاً حقيقياً، اندفعت شبهة الربا .

(حاشية ابن عابدين(5/326:

فإن الأجل قابله قسط من الثمن، والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب وما لم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة؛ لأنه من العين المسترجعة لا العين مطلقا وإلا ‌فكل ‌بيع ‌بيع ‌العينة اهـ، وأقره في البحر والنهر والشرنبلالية وهو ظاهر، وجعله السيد أبو السعود محمل قول أبي يوسف، وحمل قول محمد والحديث على صورة العود.

(فتح القدير للكمال بن الهمام:((6/224مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ  )

ثم الذي يقع في قلبي أن ما يخرجه الدافع إن فعلت صورة يعود فيها إليه هو أو بعضه كعود الثوب أو الحرير في الصورة الأولى، وكعود العشرة في صورة إقراض الخمسة عشر فمكروه، وإلا فلا كراهة إلا خلاف الأولى على بعض الاحتمالات كأن يحتاج المديون فيأبى المسئول أن يقرض بل أن يبيع ما يساوي عشرة بخمسة عشر إلى أجل فيشتريه المديون ويبيعه في السوق بعشرة حالة، ولا بأس في هذا .

 حنبل اکرم 

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

11/جمادی الاولی 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب