03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسلامی بینکاری میں عقد سلم اور استصناع کا طریقہ کار
88916متفرق مسائلمتفرق مسائل

سوال

     موجودہ اسلامی بینکوں میں استعمال ہونے والے عقدِ سلم اور عقدِ استصناع کےبنیادی شرائط کیاہیں؟نیزاسلامی بینکاری  میں مروجہ عقد استصناع او رعقد سلم کا طریقہ کار شریعتِ مطہرہ کے مطابق ہیں یا ان میں ربا کاارتکاب ہوتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 ہماری معلومات کےمطابق پاکستان میں غیرسودی بینکیں مستندشرعی ایڈوائزرکی نگرانی میں کام کررہی ہیں۔نیز موجودہ اسلامی بینک کے نظام میں کمپلائنس آڈٹ اور ایڈوائزری سرگرمیاں معیاری اوراطمینان بخش ہیں۔اس لیے اسلامی بینکوں میں ہونے والی عقد سلم اور استصناع   کاطریقہ کار شریعت کے مطابق ہے۔

چونکہ موجودہ اسلامی بینک اورغیرسودی  مالیاتی ادارے متوازی سلم اور متوازی استصناع  کے طریقےاستعمال کررہےہیں، اس لیےاس طریق کارکےصحیح ہونےکےلیے سلم کی  عام شرائط (یعنی جنس ،نوع ،وصف اورمدت کے تعین )کےساتھ درج ذیل شرائط کی رعایت  بھی ضروری ہے:

  1. متوازی سلم میں بینک دو مختلف معاہدوں میں داخل ہوتاہے،ایک میں بینک یا مالیاتی ادارہ  خریدار اور دوسرےمیں فروخت کنندہ ہوتاہے،ان میں سے ہر عقد دوسرے سےالگ اور مستقل ہوناچاہیے۔ان میں سےایک کے حقوق اور ذمہ داریاں دوسرے عقد کے حقوق اور ذمہ داریوں پر موقوف نہ ہوں۔
  2. متوازی سلم (Parallel Salam)صرف  تیسرےفریق کےساتھ جائزہے،لہذا پہلے عقد میں جو فروخت کنندہ تھا وہ دوسرے عقد میں خریدار نہیں بن سکتا۔

متوازی سلم کی طرح متوازی استصناع میں بھی  مذکورہ دوشرطوں کےعلاوہ یہ بھی ضروری ہےکہ جوچیزبنوائی جائے اس کےبنوانےکاعرف ہو،یعنی عام طورپر لوگ ان چیزوں کا   آڈردےکربنواتےہوں۔

حوالہ جات

فتح القدير للكمال بن الهمام: (7/ 71)

عن ابن عباس قال قدم النبي صلى الله عليه وسلم والناس يسلفون في التمر السنة والسنتين والثلاث. فقال: ‌من ‌أسلف في شيء فليسلف في كيل معلوم ووزن معلوم إلى أجل معلوم.

     وفي البخاري عن عبد الله بن أبي أوفى قال: إنا كنا لنسلف على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر رضي الله عنهما في الحنطة والشعير والتمر والزبيب.

        المعاییرالشرعیۃ:(280/281)

يجوزللمسلم اليه أن يعقدسلماموازياًمستقلاًمع طرف ثالث للحصول علي سلعة مواصفاتهامطابقة للسلعة المتعاقدعلي تسليمهافي السلم الأول ليتمكن من الوفاءبالتزامه فيه .يجوزللمسلم أن يعقدسلماموازياًمستقلاًمع طرف ثالث لبيع سلعة مطابقه في مواصفاتهاللسلعة التي اشتراهابعقدالسلم الأول.في كلتاالحالتين المذكورتين لايجوزربط عقدسلم بعقدسلماأخر.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي: (5/ 223)

 (والاستصناع) هو طلب عمل الصنعة (بأجل) ذكر على سبيل الاستمهال لا الاستعجال فإنه لا يصير سلما (سلم) فتعتبر شرائطه(جرى فيه تعامل أم لا) وقالا الأول استصناع (وبدونه) أي الأجل (فيما فيه تعامل) الناس (كخف وقمقمة وطست) (صح) الاستصناع (بيعا لا عدة) على الصحيح ثم فرع عليه بقوله (فيجبر الصانع على عمله ولا يرجع الآمر عنه) ولو كان عدة لما لزم.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (5/ 2)

وأما جوازه، فالقياس: أن لا يجوز؛ لأنه بيع ما ليس عند الإنسان، لا على وجه السلم، وقد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم، ويجوز استحسانا؛ لإجماع الناس على ذلك،وأما شرائط جوازه (فمنها) : بيان جنس المصنوع، ونوعه وقدره وصفته،(ومنها) : أن يكون مما يجري فيه التعامل بين الناس،(ومنها) : أن لا يكون فيه أجل.

            المعاییرالشرعیۃ:(307)

يجوأن تبرم المؤسسة بصفتها مستصنعا عقد استصناع مع الصانع للحصول على مصنوعات منضبطة بالوصف المزيل للجهالة وتدفع ثمنها نقدا عند توقيع العقد وتبيع لطرف آخر بعقد استصناع مواز مصنوعات تلتزم بصنعها بنفس مواصفات ما اشتريه إلى أجل بعد أجل الاستصناع الاول وذلك بشرط عدم الربط بين العقدين.

رشیدخان

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

11/جمادی الاولی/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب