| 88897 | طلاق کے احکام | طلاق سے رجو ع کا بیان |
سوال
میں نے اپنی بیوی کو 2017 میں یہ بات کہی تھی کہ تم میری طرف سے فارغ ہو اس کے بعد ہم الگ ہو گئے ۔ اس کے تین سال بعد میں نے نئے حق مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کیا ،اب دوبار ہ ایک سال پہلے میں نے اس کو تین طلاق اسٹام پیپر پر لکھ کر بھیج دیے،اس میں میں نے نکاح کی تاریخ غلط لکھوا دی2015 ۔میرا پہلا نکاح 2015 میں ہوا ا تھاجو کہ بعد میں ختم ہو گیا تھا، جبکہ دوسرا نکاح 2019 میں ہوا ا تھا ۔ہمارے دو بچے ہیں ،اب ہم رضا مندی سے رجوع کرنا چاہتے ہیں ۔کیا اب میں رجوع کر سکتا ہوں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کی ایک طلاق 2017میں واقع ہوچکی تھی ،پھر جب آپ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں اسٹام پیپر پر لکھ کر دیں تو ان میں سے دو واقع ہوگئیں تو کل تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں۔تین طلاقوں کے بعد رجوع یا تجدید نکاح کی کوئی گنجائش نہیں ، اور تاریخ صحیح یا غلط لکھنے سے طلاق پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي ),3/ 246(:
قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءتهففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو.
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي) 4/ 177(:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها) والأصل فيه قوله تعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}
سلیم اصغر بن محمد اصغر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
10/جمادی الاولی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سلیم اصغر بن محمد اصغر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


