03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طواف کے چکروں میں نماز پڑھنے کاحکم
88785حج کے احکام ومسائلحج کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

پچھلے سال  میں نے طواف کے چکروں کے درمیان  دو رکعت نماز پڑھی یہ سوچ کر کہ ابھی رش کم ہے کیا میرے لیے یہ صحیح ہے یا اس کی وجہ سے میرے ذمہ دم واجب ہوتا ہے؟

تنقیح:سائل نے فون پربتایا کہ تیسرا چکرچل رہاتھا میں  نماز کے لیےنکلا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طواف کےدرمیان بلاضرورت  نکلنا مکروہ ہے ، اگرضرورت کے تحت  کوئی چکرکےدرمیان نکلےتو ضرورت پورا ہونے کے بعد وہیں سے طواف شروع کرےگا جہاں سے نکلاتھا،نفل نمازضرورت میں داخل نہیں،لہٰذانفل کی نیت سے طواف روکنا درست نہیں  تھا،لیکن ایسا کرنےسے دم لازم نہیں ہوتا  ۔

حوالہ جات

وفي شرح التنوير (2/ 497):  

ولو ‌خرج ‌منه ‌أو ‌من ‌السعي إلى جنازة أو مكتوبة أو تجديد وضوء ثم عاد بنى ،إذا خرج لغير حاجة كره ولا يبطل فقد قال في اللباب ولا مفسد للطواف وعد من مكروهاته تفريقه أي الفصل بين أشواطه تفريقا كثيرا.

بدائع الصنائع :(2/130)              

والموالاة في الطواف ليست بشرط حتى لو خرج الطائف من طوافه لصلاة جنازة أو مكتوبة أو لتجديد  وضوء ثم عاد بنى على طوافه، ولا يلزمه الاستئناف لقوله تعالى: (وليطوفوا بالبيت العتيق) االحج: 29]

 فتح القدير :(3/57)

وإن توالي الأشواط ليس بشرط لصحة الطواف، كمن ‌خرج ‌من ‌الطواف لتجديد وضوء ففعل ثم رجع  بنی.  

رشيدخان

دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی

27/ربیع الثانی/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب