| 88785 | حج کے احکام ومسائل | حج کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
پچھلے سال میں نے طواف کے چکروں کے درمیان دو رکعت نماز پڑھی یہ سوچ کر کہ ابھی رش کم ہے کیا میرے لیے یہ صحیح ہے یا اس کی وجہ سے میرے ذمہ دم واجب ہوتا ہے؟
تنقیح:سائل نے فون پربتایا کہ تیسرا چکرچل رہاتھا میں نماز کے لیےنکلا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
طواف کےدرمیان بلاضرورت نکلنا مکروہ ہے ، اگرضرورت کے تحت کوئی چکرکےدرمیان نکلےتو ضرورت پورا ہونے کے بعد وہیں سے طواف شروع کرےگا جہاں سے نکلاتھا،نفل نمازضرورت میں داخل نہیں،لہٰذانفل کی نیت سے طواف روکنا درست نہیں تھا،لیکن ایسا کرنےسے دم لازم نہیں ہوتا ۔
حوالہ جات
وفي شرح التنوير (2/ 497):
ولو خرج منه أو من السعي إلى جنازة أو مكتوبة أو تجديد وضوء ثم عاد بنى ،إذا خرج لغير حاجة كره ولا يبطل فقد قال في اللباب ولا مفسد للطواف وعد من مكروهاته تفريقه أي الفصل بين أشواطه تفريقا كثيرا.
بدائع الصنائع :(2/130)
والموالاة في الطواف ليست بشرط حتى لو خرج الطائف من طوافه لصلاة جنازة أو مكتوبة أو لتجديد وضوء ثم عاد بنى على طوافه، ولا يلزمه الاستئناف لقوله تعالى: (وليطوفوا بالبيت العتيق) االحج: 29]
فتح القدير :(3/57)
وإن توالي الأشواط ليس بشرط لصحة الطواف، كمن خرج من الطواف لتجديد وضوء ففعل ثم رجع بنی.
رشيدخان
دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی
27/ربیع الثانی/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


