| 89017 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کا 2004 میں انتقال ہوا۔ اس وقت ان کی ایک بیوی، تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں۔ اس کے بعد مرحوم کی بیوی کا انتقال 2012 میں ہوا۔ جائیداد کی موجودہ قیمت 30 لاکھ روپے ہے، نقدی کے حساب سے حصص تقسیم کر کے حصےمتعین فرمائے۔
تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ 2012 میں بچوں کی والدہ کا جب انتقال ہوا ،اس وقت مرحومہ کےان تین بیٹوں اور پانچ بیٹیوں کے علاوہ والدین، تین بہنیں اور ایک بھائی زندہ تھے۔میت اور ورثہ کےفرضی نام:میت کانام عادل اس کی بیوی کانام حنیفہ ہے،تین بیٹوں کا نام: عمر، بکر اورزیدہے ۔پانچ بیٹیوں کا نام: سائرہ،صابرہ،صائمہ،خالدہ اورزبیدہ ہے،میت ثانی (حنیفہ )کےوالدکانام خیرمحمداور والدہ کانام ذاکرہ ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم نے اپنے انتقال کے وقت (2004 میں) جو جائیداد ،نقدرقم، سونا ،چاندی، مکان، کار و بار، ضرورت کی اشیاء، الغرض جو کچھ چھوٹا بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض ہے، وہ سب ان کا ترکہ شمارکیا جائے گا۔ اس میں سے سب سے پہلے ان کے تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطور احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعددیکھاجائےگاکہ اگر ان کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیاجائے گا۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیروارث کےحق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو وہ ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو کچھ بچے اس میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کو %17.42424 اور ہر بیٹی کو8.712% ملے گا۔ مرحوم کی بیوی کا حصہ اس کےورثہ میں تقسیم ہوگا، جس میں سے مرحومہ (بچوں کی والدہ)کے والد کو کل مال سے %2.08333 اور مرحومہ بچوں کی والدہ) کی والدہ کو %2.08333 حصہ ملے گا۔
صورت مذکورہ میں ہر بیٹے کو پانچ لاکھ بائیس ہزار سات سو ستائیس روپے(522727) ہر بیٹی کو دو لاکھ اکسٹھ ہزار تین سو تریسٹھ روپے (261363) اور حنیفہ (میت ثانی) کے والد (خیر محمد) کو باسٹھ ہزار ار چارسو ننانوےروپے(62499) اور حنیفہ (میت ثانی) کی والدہ (ذاکرہ) کو بھی باسٹھ ہزار ار چارسو ننانوےروپے (62499) ملیں گے۔
یاد رہے کہ اگر فوری طور پر یہ تقسیم نہ ہوگی تو جب بھی تقسیم ہوگی اس وقت کی قیمت کے حساب سے تقسیم
کی جائے گی۔
|
نمبرشمار |
ورثہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
ملنےوالی رقم |
|
1 |
خیرمحمد (میت ثانی حنیفہ کےوالد) |
11 |
2.08333% |
9. 624999 |
|
2 |
ذاکرہ (میت ثانی حنیفہ کی والدہ) |
11 |
2.08333% |
9.624999 |
|
3 |
بیٹا بکر |
92 |
17.42424% |
.2 522727 |
|
4 |
بیٹا عمر |
92 |
17.42424% |
522727.2 |
|
5 |
بیٹازید |
92 |
17.42424% |
522727.2 |
|
6 |
بیٹی |
46 |
8.71212% |
261363.6 |
|
7 |
بیٹی |
46 |
8.71212% |
261363.6 |
|
8 |
بیٹی |
46 |
8.71212% |
261363.6 |
|
9 |
بیٹی |
46 |
8.71212% |
261363.6 |
|
10 |
بیٹی |
46 |
8.71212% |
261363.6 |
|
|
کل مجموعہ: |
528 |
99.9999% |
29,99999.4 |
حوالہ جات
قال الله تعالي :يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَولَٰدِكُم لِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ ٱلأُنثَيَينِۚ ...وَلِأَبَوَيهِ لِكُلِّ وَٰحِدٖ مِّنهُمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُۥ وَلَد... [النساء: 11]
وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكتُم إِن لَّم يَكُن لَّكُم وَلَد فَإِن كَانَ لَكُم وَلَد فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكتُمۚ... [النساء: 12]
رشيدخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
20 /جمادی الا ولی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


