| 89168 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
علی کی بیوی کا نام ع...... ہے۔اس کی بیوی کی شکل علی کی سابقہ محبوبہ ....... سے ملتی ہے۔ علی نے ایک دن ع .... کو پیار سے .......... (سابقہ محبوبہ)کہا ،لیکن اس کے بعد اس نے ع...... کوکبھی ......(محبوبہ والانام) نہیں کہا ۔اگر علی اکیلے میں کہے" آ ...... (محبوبہ) کو طلاق" تو کیا علی کی بیوی ع...... کو طلاق واقع ہوگی؟علی اپنی محبوبہ کو بھولنا چاہتا تھا اس نے کاغذپر بھی بغیر نیت لکھا" آ..........(محبوبہ) تجھے طلاق"۔کتاب " الفاظ طلاق کے اصول" جو کہ مفتی شعیب عالم صاحب نے لکھی ہے اور جامعہ بنوریہ کی ویب سائیٹ سے بھی ڈاون لوڈ کی جاسکتی ہے۔ صفحہ نمبر 121میں لکھا ہے:کہ اضافت یا نیت طلاق کے معاملے میں اضافت کے ضروری ہونے میں تو کلام نہیں ،لیکن جب اضافت نہ ہو یا ہو مگر صریح نہ ہو تو پھر شوہر کی نیت دیکھی جائے گی کہ اس کا منشا بیوی کو طلاق دینے کا تھا یا نہیں؟اگر وہ بیان کر دیتا ہے کہ اس کا مقصد اپنی زوجہ کو طلاق دینے کا تھا تو طلاق واقع سمجھی جائے گی اور یوں قرار دیا جائے گا کہ اگرچہ لفظوں میں اضافت مفقود ہے مگر نیت موجود ہے ۔ کیا تحریر درست ہے؟
کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص طلاق کی نیت سے تنہائی میں طلاق کا لفظ طلاق کی نیت سے نکالے تو اس کی بیوی مطلقہ شمار ہوگی اگرچہ اس کی اضافت نہ تھی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صور ت مسؤلہ میں علی کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی ۔کیونکہ نا م بدل جانےسےجس طرح نکاح منعقد نہیں ہوتا ،اسی طرح طلاق بھی واقع نہیں ہوگی۔ہاں اگر بیوی سامنے موجودہو اور اس کوغلط نام سےخطاب کرکےطلاق دی جائےتو طلاق واقع ہوجائےگی۔
مذکورہ بالا کتاب کی عبارت درست ہے ،جس کا مطلب یہی ہےکہ اگرشوہر نے تنہائی میں لفظ طلاق کہا او ر بیوی کی نیت بھی کی تھی تو اگرچہ لفظوں میں اضافت موجودنہ ہو، پھربھی نیت کی وجہ سے بیوی پر طلاق واقع ہوجائےگی۔لیکن اگر اس نے کوئی نیت نہیں کی تو تنہائی میں محض لفظ طلاق کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی ۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين :(3/ 292)
ولو حلف إن خرج من المصر فامرأته عائشة كذا واسمها فاطمة لا تطلق استحسانا.
حاشية ابن عابدين : (3/ 26)
غلط وكيلها بالنكاح في اسم أبيها بغير حضورها لم يصح) للجهالة وكذا لو غلط في اسم بنته إلا إذا كانت حاضرة وأشار إليها فيصح، قوله: (لم يصح) لأن الغائبة يشترط ذكر اسمها واسم أبيها وجدها.
حاشية ابن عابدين: (3/ 248)
ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته.
رشيدخان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
08/جمادی الثانیۃ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


