03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کی ایک صورت میں میاں بیوی کااختلاف(اگر تم نےابھی  مجھ سے ہمبستری نہیں کرائی تو تم میرے لیے صبح حرام ہو گی)
88128طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میرے میاں نے مجھے کہا کہ "اگر تم نےابھی  مجھ سے ہمبستری نہیں کرائی تو تم میرے لیے صبح حرام ہو گی،" اس وقت رات کے 3 بجے کے بعد تک کا وقت تھا،میں ان کو بلاتی رہی وہ اکڑ اور اڑ گئے تھے اور نہیں آرہے تھے، پھر بعد میں کہنے لگے کہ جب تک تم خوشی سے نہیں بلاؤ گی تو میں نہیں آؤں گا ،جس پر میں نے کہا کہ میں خوشی خوشی کیسے بلا سکتی ہوں؟میں خوشی سے نہیں بلاؤں گی،کیونکہ آپ نے ایسا کہا ہے، پھر میں  ان کی منتیں کرتی رہی ،مگر وہ نہ آئے ،پھر میں نےکہا: صبح ہونے والی ہے، آجائیں، مگر وہ نہ آئے ،پھر مجھے غصہ آیا اور میں نے کہا کہ آپ اب اس کمرے میں داخل نہیں ہونا،اور سب کچھ ختم ،پھر بھی وہ نہ آئے،تو میں دوبارہ اٹھ کر گئی اور دوبارہ کہا :آجائیں،  یہ بھی کہا کہ وقت ختم ہونے میں 2 منٹ باقی ہیں پھر بھی نہ آئے  اور وہ تھوڑی دیر بعد آئے، فجر  کا وقت  داخل ہو گیا  تھا یا پھر  ہونے  والا تھا ۔ یہ واقعہ پیش آیا ہے 5،6 یا7اپریل کو ،جب فجر کا وقت 4 بج کے56 یا 58 تک تھا اور ہمبستری 5  بجے تک شروع ہوئی تھی، 10 منٹ  بعد ختم تھی ۔اب آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ انہوں نےصبح کا کہا تھا، صبح تو اصل میں صبح صادق کے بعد یعنی فجر میں شروع ہو جاتی ہے،جبکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ میرا  صبح سے مطلب جب ہم اٹھتے ہیں یعنی سورج نکلنے کے بعد جب فجر کا وقت جب ختم ہو جاتا ہے اور ہم سب سو کے  اٹھتے ہیں ۔ اب آپ سے پوچھنا ہے کہ صبح سے کیا مراد ہوگی؟ فجر ہو گی یا انہوں نے جو کہا ہے وہ بات مراد ہو گی؟اور طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

"اگر تم نےابھی  مجھ سے ہمبستری نہیں کرائی تو تم میرے لیے صبح حرام ہو گی،"

اس جملے میں "ابھی " سے مراد  بظاہر وہ وقت ہے جس میں شوہر مطالبہ کررہاتھا ،لہذااس کا تقاضا یہ ہے کہ جب  اُسی وقت ازدواجی تعلق قائم نہ کیا تو اس بناء پر ایک طلاق بائن واقع ہوجانی چاہیے،تاہم صورت مسئولہ میں "ابھی" سے میاں بیوں دونوں نے مکمل رات مراد لی ہے،یہ نیت خلاف ظاہر نہیں ہے،اس لیے کہ شوہرنے ابھی کےمقابلے میں صبح کا ذکر کیا ہے ،لہذا اس جملے سے متبادر  مطلب یہی بنتاہے کہ اگر رات بھرمیں ہمبستری  نہیں ہوئی  تو صبح  کو طلاق ہوگی۔

پھر صبح کے بارے میں شوہر کی یہ  نیت کہ اس کی مراد عرفی صبح تھی، اصولی طور پر درست ہے ،کیونکہ طلاق وایمان میں الفاظ کے عرفی معنی مراد ہوتے ہیں اور عرف میں صبح کا اطلاق لوگ اس معنی پر کرتے ہیں۔

لہذاموجودہ مسئلہ میں "ابھی "کے بارےمیں  میاں بیوی کی نیت اور صبح کے بارے میں شوہر کی نیت ظاہر کے خلاف نہیں ہے،عرف کے مطابق یہ معنی مراد لیے جاسکتے ہیں،اس لیے اس بنیاد پرکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے،بیوی کو شوہر کی بات پر اعتبار نہ ہوتو وہ اس سے نیت پر قسم لے سکتی ہے،تاہم  بہتر یہ ہے کہ نئے مہر کے ساتھ دوگواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کرلیا جائے ،تاکہ ہرقسم کےشک وشبہ سےبچا جاسکے۔

حوالہ جات

البحرالرائق((281/3:

قال العلامۃ  زین الدین رحمہ اللہ تعالیٰ:قال في النهر ويؤيده ما سيأتي في قوله "كل حل علي حرام ،أو أنت علي حرام، أو حلال اللہ علي حرام"حيث قال المتأخرون: وقع بائنا بلا نية لغلبة الاستعمال بالعرف.....وفي تصحيح القدوري "ومن الألفاظ المستعملة في مصرنا وريفنا: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام".

الدر المختار و حاشیۃ ابن عابدین( 3/785):

والحاصل: أن الحلف بطلاق ونحوه تعتبر فيه نية الحالف ظالما أو مظلوما إذا لم ينو خلاف الظاهر كما مر عن الخانية، فلا تطلق زوجته لا قضاء ولا ديانة، بل يأثم لو ظالما إثم الغموس، ولو نوى خلاف الظاهر، فكذلك لكن تعتبر نية ديانة فقط، فلا يصدقه القاضي بل يحكم عليه بوقوع الطلاق إلا إذا كان مظلوما على قول الخصاف ويوافقه ما قدمه الشارح أول الطلاق من أنه لو نوى الطلاق عن وثاق دين إن لم يقرنه بعدد ولو مكرها صدق قضاء أيضا. اه

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

20/ محرم 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب