| 89424 | پاکی کے مسائل | نجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان |
سوال
اگر کوئی کپڑا پورا گیلا (یعنی اچھی طرح بھیگا ہوا) ہو اور اس کی ایک طرف ناپاکی لگ جائے، تو کیا گیلا ہونے کی وجہ سے پورا کپڑا ناپاک ہو جائے گا؟ یا صرف کپڑے کے اس حصے/طرف کی ناپاکی شمار ہوگی جہاں ناپاکی لگی ہے اور دوسرا حصہ پاک رہے گا؟ نیز یہ کپڑا جس جگہ رکھا ہو، کیا وہ جگہ بھی پوری ناپاک ہو جائے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اگر کپڑا پورا گیلا ہو اور اس پرلگنےوالی نجاست کا اثریعنی نمی، بواوررنگ کپڑے کی دوسری طرف یا دیگر حصوں تک سرایت کرجائے، تو جہاں تک وہ نجاست سرایت کرےاس کو پاک کرنا لازمی ہے۔اگر کپڑا یساہو کہ اس کےگیلےہونےکےباوجودنجاست دوسری طرف یاباقی حصوں تک سرایت نہ کرے تو صرف اس طرف یاحصہ کو پاک کرنا کافی ہے جس پر نجاست لگی ہے۔
اگر ناپاک گیلا کپڑا عینِ نجاست (جیسے پیشاب یا خون) سے گیلا ہو، تو اس ناپاک گیلے کپڑے کا اثر یعنی رنگ، بو یا نمی اگر کسی پاک چیز پر ظاہر ہو جائے تو وہ چیز ناپاک ہو جائے گی۔ اور اگر اس کا اثر ظاہر نہ ہو تو وہ چیز ناپاک نہیں ہوگی۔اور اگر ناپاک گیلا کپڑا عینِ نجاست سے گیلا نہ ہو، بلکہ ناپاک پانی سے گیلا ہو، تو اگر ناپاک کپڑا اتنا گیلا ہو کہ نچوڑنے سے قطرےٹپک جائے تو جس چیز کووہ کپڑا لگے وہ ناپاک ہو جائےگی۔ اور اگر کپڑا اتنا گیلا نہ ہو کہ نچوڑنے سے قطرہ ٹپکے، تو وہ چیز ناپاک نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار:(ص48)
(و) يطهر محل (غيرها) أي غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفا وإلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد، به يفتى.(وقدر) ذلك لموسوس (بغسل وعصر ثلاثا) أو سبعا (فيما ينعصر) مبالغا بحيث لا يقطر، ولو كان لو عصره غير قطر طهر بالنسبة إليه دون ذلك الغير، ولو لم يبالغ لرقته هل يطهر؟ الاظهر نعم للضرورة.(و) قدر (بتثليث جفاف)أي انقطاع تقاطر (في غيره) أي غير منعصر مما يتشرب النجاسة وإلا فبقلعها كما مر، وهذا كله إذا غسل في إجانة،أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقا بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس هو المختار.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (1/ 42)
وإن كانت غير مرئية يغسلها ثلاث مرات. كذا في المحيط ويشترط العصر في كل مرة فيما ينعصر ويبالغ في المرة الثالثة حتى لو عصر بعده لا يسيل منه الماء ويعتبر في كل شخص قوته.... وما لا ينعصر يطهر بالغسل ثلاث مرات والتجفيف في كل مرة؛ لأن للتجفيف أثرا في استخراج النجاسة وحد التجفيف أن يخليه حتى ينقطع التقاطر ولا يشترط فيه اليبس.
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح: (ص158)
ولو ابتل فراش أو تراب نجسا" وكان ابتلالهما "من عرق نائم" عليهما "أو" كان من "بلل قدم وظهر أثر النجاسة" وهو طعم أو لون أو ريح "في البدن والقدم تنجسا" لوجودها بالأثر "وإلا" أي وإن لم يظهر أثرها فيهما "فلا" ينجسان....كما لا ينجس ثوب جاف طاهر لف في ثوب نجس رطب لا ينعصر الرطب لو عصر" لعدم انفصال جرم النجاسة إليه. واختلف المشايخ فيما لو كان الثوب الجاف الطاهر بحيث لو عصر لا يقطر فذكر الحلواني أنه لا ينجس في الأصح.
رشيدخان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
22/جمادی الثانیۃ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


