| 89211 | اقرار اور صلح کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ ، میں نے ایک شخص سے ویزہ لیا، اس ویزہ میں ہمارے ساتھ فراڈ ہوگیا۔ اب وہ شخص مجھے کہہ رہا ہے کہ آپ پوری رقم (640000)کے حقدار نہیں ۔تب ہم نے ایک جرگہ بٹھایا اس جرگہ نے 19 ستمبر کو یہ فیصلہ کیا کہ مجھے آدھی رقم(320000) واپس کی جائے گی اور رقم واپسی کی ترتیب 3دن بعد تھی مگر ویزہ والے ایجنٹ ٹال مٹول کرتے رہے ۔
اس کے بعد 23 اکتوبر کو میں نے اس ایجنٹ سے رابطہ کیا اور میں نے کہا کہ مجھے جس وقت اس رقم کی ضرورت تھی آپ نے رقم واپس نہیں کی اب مجھے مزید نقصان ہوگیا ہے اور آپ جرگہ کے فیصلے پر پورے نہیں اترے لہذا آپ مجھے پانچ لاکھ کی رقم واپس کریں باقی رقم میں معاف کردوں گا جس پر اس ایجنٹ نے حامی بھر دی اور کہا ٹھیک ہے آپ اس جرگہ کے فیصلے کے مطابق تین لاکھ بیس ہزار کی رقم لیں اور معاہدہ کرلیں ۔۔باقی جو ایک لاکھ اسی ہزار کی رقم ہے وہ ہم آپس میں بیٹھ کر معاہدہ بھی کرلیں گے اور رقم کی واپسی کی ترتیب بھی ۔۔۔میں نے حامی بھر لی ۔
اس کے بعد ایجنٹ نے دو لاکھ کی رقم 26 اکتوبر کو دی اور ایک بیس کا ٹائم یکم نومبر رکھا اور معاہدہ کیا کہ آپ اس مسئلہ کو نہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث لائیں گے اور ناہی کسی سے بالمشافہ تذکرہ کریں گے ۔۔
چنانچہ میں نےیکم نومبر کی یقین دہانی پر معاہدہ کرلیا مگر پھر وہی پرانی عادت کہ ایک بیس آج دیں گے، کل دے دیں گے اس طرح ٹال مٹول کرتے کرتے وہ بقیہ رقم(120000)10 نومبر کو دیکر ایجنٹ نے خود معاہدہ کی پاسداری نہیں کی اور معاہدہ کو سبوتاژ کیا اور اسکے ساتھ ساتھ وہ بقیہ ایک لاکھ اسی ہزار کی رقم جسکا ایجنٹ نے کہا تھا کہ ہم آپس میں بیٹھ کر معاہدہ اوررقم واپسی کی حتمی ایام بھی متعین کرلیں گے اس بات سے بھی ایجنٹ منحرف ہوگئے ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا میں اس پہلے والے معاہدہ کا پابند ہوں جس کو ایجنٹ نے خود سبوتاژ کیا اور اپنی کہی بات سے پھر گئے یا میں پابند نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جرگہ نے جو فیصلہ کیا ہے شرعا آپ دونوں اس کے پابند ہیں ، باقی جرگے کے فیصلے کے بعد جب آپ لوگوں نے مل کر آپس میں جو وعدہ یا صلح کی ہے شریعت کی رو سے اس کو پورا کرنے پر زور دیا جاتا ہے، لیکن چونکہ اس نے صلح کی پابندی نہیں کی تو آپ بھی پابند نہیں ہیں۔
حوالہ جات
تفسیر ابن الکبیر:(3/285)
وقولہ تعالی:(و أوفوا بالعھد) أی الذی تعاھدون علیہ الناس و العقود التی تعاملونھم بھا فإن العھد و العقد کل منھما یسأل صاحبہ عنہ (إن العھد کان مسؤلا) أی عنہ.
الفتاوی الہندیۃ:(3/397)
الحكم فيما بين الخصمين كالقاضي في حق كافة الناس وفي حق غيرهما بمنزلة المصلح.
فتح القدیر:(7/317)
قوله ولكل واحد من المحكمين أن يرجع ما لم يحكم عليهما لأنه مقلد من جهتهما) إذ هما الموليان له فلهما عزله قبل أن يحكم كما أن للسلطان أن يعزل القاضي قبل أن يحكم ولو حكم قبل عزله نفذ وعزله بعد ذلك لا يبطله فكذا هذا (وإذا نفذ حكمه لزمهما لصدور حكمه عن ولاية كاملة عليهما) فقط لأنه لا يكون دون الصلح وبعدما تم الصلح ليس لواحد أن يرجع.
الأصل للإمام محمد بن الحسن الشیبانی:(10/580)
أبو عبد الله محمد بن أبي حفص قال: أخبرنا أبي قال: أخبرنا محمد بن الحسن عن أبي يوسف عن عبيد الله بن أبي حميد عن أبي بكر الهذلي عن أبي مليح بن أسامة عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه كتب إلى أبي موسى الأشعري أن الصلح جائز بين المسلمين إلا صلح حرم حلالا أو أحل حراما. وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد.
الأصل للإمام محمد بن الحسن الشیبانی:(11/69)
وإذا كان لرجل على رجل دين من ثمن متاع إلى أجل مسمى فصالحه على أن يجعله حالا فهو جائز، وهو حال، وليس هذا بصلح، إنما هذا رجل قال: قد جعلت ما علي من الدين حالا.
زبیر احمد بن شیرجان
دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی
12/06/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


