| 89294 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے وراثت میں ایک گھر چھوڑا جو تقسیم کےلیے ایک بیٹے نے فروخت کیا ،مگر تقسیم سے پہلے وہ سارے پیسے لے کر بھاگ گیا اور کسی بھائی بہن کو اس کا حصہ نہیں دیا ۔کچھ عرصے بعد اس کا انتقال ہو گیا اور پتہ چلا کہ اس نے کچھ پیسے بیمہ پالیسی میں جمع کیے تھے ،اب کمپنی وہ دے رہی ہے (1):کیا کمپنی سے وہ پیسے لینا جائز ہے؟ یا صرف وہ پیسے لے سکتے ہیں جو مرحوم نے جمع کرائے تھے؟(2): جو پیسے کمپنی سے لیں گے تو وہ بہن بھائیوں میں کس حساب سے تقسیم ہوں گے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۱ -:جتنے پیسے مرحوم نے جمع کروائے تھے وہ لے کروراثت میں تقسیم کر لیے جائیں۔باقی اضافی رقم جو کمپنی دے رہی ہے وہ سود کے حکم میں ہے،وہ لے کر بلانیتِ ثواب صدقہ کرنا ضروری ہے۔نیز یہ صدقہ کسی مستحق زکاۃ رشتہ دار کو بھی دیا جاسکتا ہے،لہذااگر ورثہ میں کوئی مستحق ہو تو اس کو دیے جائیں۔
۲-:اگر ورثہ میں صرف بھائی اوربہنیں ہوں ان کے علاوہ کوئی اور وارث نہ ہو توہر بھائی کو بہن کے مقابلہ میں دگنا حصہ ملے گا ۔
حوالہ جات
الصحيح المسلم(3/1219):
عن جابر -رضي الله عنه-قال:لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا،وموكله، وكاتبه،وشاهده،وقال:هم سواء.
سورۃالنساء(11):
يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين.
المبسوط(11/87):
وإن مات الغاصب فالمغصوب منه أحق به من سائر الغرماء؛ لأنه زال ملكه ويده بسبب لم يرض به.
تبين الحقائق(5/226):
وإن مات الغاصب فالمغصوب منه أحق به من سائر الغرماء على مثال الرهن والمبيع قبل القبض.
محمد وجیہ الدین
دارالافتاءجامعہ الرشید کراچی
18 /جماد ی الثانیہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد وجیہ الدین بن نثار احمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


