| 87971 | وقف کے مسائل | مدارس کے احکام |
سوال
چندہ کے حوالے سے مسئلہ پوچھنا ہے کہ بعض مدارس کے منتظمین سالانہ چندہ کرتے ہیں،باقاعدہ لوگوں کے پاس جا کرچندہ وصول کرتے ہیں ،پھر اسی سے اساتذہ کرام کی تنخواہوں ،ان کےاور بچوں کے کھانے پینے وغیرہ کا انتظام کرتے ہیں -
دوسری طرف بعض مدارس کے منتظمین بچوں سے مختصر فیس لیکر نظام چلا رہے ہیں ،باقاعدہ چندہ نہیں کرتے ،البتہ وقتاً فوقتاً بقدرِ ضرورت مثلاً تعمیرات، پروگرام وغیرہ کے موقع پر لوگوں تک چندہ کا پیغام پہنچاتے ہیں، لیکن فرداً فرداً چندہ نہیں کرتے، ہاں کوئی خود چندہ دے تو قبول کرتے ہیں،دونوں حضرات کے حوالے سے مختصراً عرض یہ ہے کہ جو چندہ وصول کرتے ہیں، ان کے متعلق لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ہر وقت چندہ کےلئے گھوم پھر رہے ہیں، ان کا کام بس یہی ہے،یہ حضرات چندہ دے کر احسان جتلاتےہیں اوربوجھ سمجھتے ہیں اور جو منتظمین باقاعدہ چندہ نہیں کرتے، بلکہ عام اعلان کر دیتے ہیں کہ تعمیرات جاری ہے یا پروگرام قریب ہے اپنی استطاعت کے مطابق تعاون فرمائیں -
تو ان کے متعلق کہا کرتے ہیں کہ یہ بڑے متکبرانہ انداز سے مدرسہ چلا رہے ہیں،یہ ہمارے پاس آکر ہمیں خصوصی طور پر چندہ کاکیوں نہیں بولتے ہیں،لہذا اس حوالے سے شرعی راہنمائی اور اعتدال کا راستہ مطلوب ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پہلے دور میں مساجد ومدارس کا انتظام وانصرام حکومتِ وقت کیا کرتی تھی،لیکن اب جبکہ حکومتیں اس سے غافل ہیں ،اس لئے اب عوام الناس میں سے اہل خیر کے تعاون سے ہی یہ کام ممکن ہے اور اشاعت دین کی خاطر اپنا مال خرچ کرنے اور دوسروں کو اس کی ترغیب دینے میں شرعا کوئی حرج نہیں،بلکہ باعثِ ثواب ہے،اس لئے مدرسے کی ضروریات پوری کرنے کے لئے سوال میں ذکر کئے گئے دونوں طریقوں سے چندہ کرنا درست ہے،البتہ دونوں صورتوں میں اس بات لحاظ رکھنا لازم ہے کہ ایسا کوئی طریقہ نہ اپنایا جائے جس سے دین اور اہل دین کی بے توقیری یا توہین لازم آئے،بلکہ باوقار اور مہذب طریقہ اپنایا جائے،تاکہ عوام الناس کی جانب سے مہتمم کو سوال میں ذکر کئے گئے طعنوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
نیز عوام الناس میں سے اہل خیر کو چاہیے کہ ضرورت محسوس ہونے پر ازخود جاکر متعلقہ ادارے سے تعاون کریں کہ اسی سے ان کو تعاون کا حقیقی ثواب ملے گا اور ایسے اہل خیرسے تو چندہ مانگنے اور ان کے تعاون کو قبول کرنے سے ہی گریز کرنا چاہیے جو اس بات کے خواہاں ہوں کہ مدارس کے ذمہ دار حضرات ان کے در پر جاجاکر چندے کی درخواست کریں،یا چندہ دینے کے بعد منتظمین کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنائیں،کیونکہ اس سے دین اور اہل دین کی بے توقیری لازم آتی ہے۔
حوالہ جات
.......
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
13/محرم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


