03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چچا کے بیٹے کی موجودگی میں چچا کے پوتوں کی وراثت کا حکم
87970میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

حاجی محمد نبی کےچاربیٹے تھے،محمد کبیر ،بیروجان ،محمد کریم،اورشیروجان ،محمد کبیر کاصرف ایک بیٹامحمد ظریف تھا،محمد ظریف کےدو بیٹےعبد الرزاق اورجعفرخان تھے،عبد الرزاق کی کوئی اولاد نہ تھی اور اس کا انتقال بھی ہوچکاہے،محمد ظریف کے دوسرے بیٹےجعفر خان کی صرف ایک شادی شدہ بیٹی ہے،جعفر خان اور اس کی بیوی کا انتقال ہو چکا ہے -

صورت مسئولہ میں اب مرحوم جعفر خان کا کوئی بھائی یاچچا نہیں ہے،البتہ والد کے تین چچاؤں میں سے محمد کریم کا ایک بیٹامحمد رضاحیات ہے،جبکہ بقیہ کی  اولاد  میں سے تو کوئی حیات نہیں،البتہ ان کی اولاد کی اولاد حیات ہے،سوال یہ ہے کہ کیا مرحوم جعفر خان کی شادی شدہ بیٹی کے ساتھ مرحوم جعفر خان کےوالد کے چچاؤں کی اولاد مرحوم کے ترکہ میں حقدار ہوگی یانہیں ؟اور اگر حقدار ہے تو ترکہ میں سے انہیں کتنا حصہ ملے گا ؟

تنقیح:جعفرخان کی بیوی کا انتقال اس سے پہلے ہوگیا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت میں جعفر خان کا کل ترکہ(وہ سونا،چاندی،نقدی،جائیداد یا ان کے علاوہ کوئی بھی چھوٹی بڑی چیز جو انتقال کے مرحوم کی ملکیت میں تھی) دو حصوں میں تقسیم ہوگا، ایک حصہ ان کی بیٹی کو ملے گااور  دوسرا حصہ محمد رضا کو ملے گا  ،جبکہ محمدرضا کے علاوہ جعفر مرحوم کے والد کے دیگر بھائیوں کے پوتوں کو میراث میں کوئی حصہ نہیں ملے گا۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (6/ 775):

"(ثم جزء جده العم) لأبوين ثم لأب ثم ابنه لأبوين ثم لأب (وإن سفل ثم عم الأب ثم ابنه ثم عم الجد ثم ابنه) كذلك وإن سفلا فأسبابها أربعة: بنوة ثم أبوة ثم أخوة ثم عمومة (و) بعد ترجيحهم بقرب الدرجة (يرجحون) عند التفاوت بأبوين وأب كما مر (بقوة القرابة فمن كان لأبوين) من العصبات ولو أنثى كالشقيقة مع البنت تقدم على الأخ لأب (مقدم على من كان لأب) لقوله - صلى الله عليه وسلم - «إن أعيان بني الأم يتوارثون دون بني العلات» . والحاصل: أنه عند الاستواء في الدرجة يقدم ذو القرابتين وعند التفاوت فيها يقدم الأعلى".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

13/محرم 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب