03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تصور میں طلسق دینے کا حکم
89639طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میرا نکاح نہیں ہوا ہے ابھی تک!میں ۲ماہ پہلے ایک تصور دیکھا جہاں میری منگیتر ہے وہ نکاح کے بعد دھوکہ دی رہی ہے اور میں اسے دیکھ کر کہہ رہا میں تمہیں طلاق دیتا ہو ابھی اسی وقت الفاظ زبان سے نکل جاتے ہیں منگنی میں۔ ۱) اسکے بعد مجھے وسوسے آنے شروع ہوۓ کے شاید میں نے نکاح کو تو شرط تو نہیں بنایا تھا۔ پھر میں کرسی پر بیٹھ کر واپس ماضی میں جاتا اور زبان سے پوچھتا کیا میں نے ایسے کہا تھا اس وقت میں تم سے نکاح کرو تو؟ اگر تم سے نکاح کیا تو؟ (نام) میں تم سے اب نکاح کرو توپھر میں رک کر کہتا ہو میں نے کہا تھا میں تمہیں طلاق، نام میں تمہیں طلاق۲) اسکے بعد یونیورسٹی گیا وہاں خود سے پوچھا رہا کیا میں نے ایسے کہا تھا کل میں تم سے نکاح کرو تو؟ تم سے نکاح کیا تو؟ اب تم سے نکاح کرو تو؟ (نام) میں اب تم۔ سے نکاح کرو تو ؟ پھر میں کہتا ہو میں نے کہا تھا میں تمہیں طلاق (نام) میں تمہیں طلاق دوبارہ کہتا ہو۱) کیا ان باتوں سے میرا میری منگیتر سے نکاح ایسے صحیح ہوگا یا فضولی نکاح کرنا پڑے گا؟ میں بہت پریشان ہو یہ سب میں نے اکیلے میں خود سے پوچھا چیک کرنے کے لیئےکیا کوئی ایسی غلطی ہوئی ہے جس سے نکاح کرتے ہی طلاق ہوجاۓ اگر طلاق ہوجاۓ گا تو کتنے ہونگےلیکن کبھی ایک جملے میں نکاح کو شرط نہیں بنایا طلاق کاجزاک اللہ میرا پریشانی کی وجہ یہ ہے بعد میں جو شک کی وجہ سے خود سے پوچھے شرطیہ جملے جن میں منگیتر کا ذکر تھا آدھا میں تم سے نکاح کروتو ۔۔۔۔ پھر ماضی کی بات کا دہرانا میں تمہیں طلاق(نام) میں تمہیں طلاق سے کوئی شرط بن گیا کے نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں آپ کی منگیتر پر نکاح کے بعد طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ تصور میں دی گئی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ نیز اگر زبان سے طلاق کے الفاظ نکل بھی گئے ہوں تو چونکہ اس وقت نکاح موجود نہیں تھا اور طلاق کی نسبت نکاح کی طرف نہیں کی گئی، اس لیے نکاح کے بعد آپ کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اسی طرح بعد میں وسوسے کی وجہ سے جو طلاق کے الفاظ منہ سے دہرائے  گئے، ان سے بھی طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ اس میں  بیوی  کی طرف نسبت کے ساتھ طلاق کا قصد نہیں پایا جاتا ہے۔ لہٰذا ایسے وسوسوں سے گھبرانے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ شیطانی وسوسوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اطمینانِ قلب کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے اور حتی الامکان ان خیالات سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 344):

(شرطه الملك) حقيقة كقوله لقنه: إن فعلت كذا فأنت حر أو حكما، ولو حكما (كقوله لمنكوحته) أو معتدته (إن ذهبت فأنت طالق) (، أو الإضافة إليه) أي الملك الحقيقي عاما أو خاصا، كإن ملكت عبدا أو إن ملكتك لمعين فكذا أو الحكمي كذلك (كإن) نكحت امرأة أو إن (نكحتك فأنت طالق).

طحطاوي علی مراقي الفلاح: ۱۱۹

لو أجری الطلاق علی قلبہ وحرک لسانہ من غیر تلفظٍ یُسمع لا یقع، وإن صح الحروف،

 البحر الرائق شرح كنز الدقائق ـ مشكول (9/ 183)

 "لَوْ كَرَّرَ مَسَائِلَ الطَّلَاقِ بِحَضْرَةِ زَوْجَتِهِ، وَيَقُولُ: أَنْتِ طَالِقٌ وَلَا يَنْوِي لَا تَطْلُقُ ، وَفِي مُتَعَلِّمٍ يَكْتُبُ نَاقِلًا مِنْ كِتَابِ رَجُلٍ قَالَ: ثُمَّ يَقِفُ وَيَكْتُبُ : امْرَأَتِي طَالِقٌ، وَكُلَّمَا كَتَبَ قَرَنَ الْكِتَابَةَ بِاللَّفْظِ بِقَصْدِ الْحِكَايَةِ لَا يَقَعُ عَلَيْهِ"

عبداللہ المسعود

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

۱۰/رجب /۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب