| 89412 | تاریخ،جہاد اور مناقب کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
کیا ہم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اماں جان کہ سکتے ہیں ؟ جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو اماں جان کہا جاتا ہے، پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا جو کہ صاحبزادی ہیں ان کو اماں جان کیسے کہا جاسکتا ہے ؟ اس کی وضاحت فرما دیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی بھی بڑی عمرکی خاتون کو احترام کی خاطر اماں جان کہا جاسکتاہے، اس لیے اگر کوئی شخص سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں محبت کی بناءپر اماں جان سے تعبیر کرتاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)(3/470)
(وإن نوى بأنت علي مثل أمي) ، أو كأمي، وكذا لو حذف علي خانية (برا، أو ظهارا، أو طلاقا صحت نيته) ووقع ما نواه لأنه كناية (وإلا) ينو شيئا، أو حذف الكاف (لغا) وتعين الأدنى أي البر، يعني الكرامة.
الفتاوى الهندية (1/ 507)
وإن لم تكن له نية فعلى قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - لا يلزمه شيء حملا للفظ على معنى الكرامة كذا في الجامع الصغير والصحيح قوله هكذا في غاية البيان.
محمد امداداللہ بن مفتی شہیداللہ
متخصص دارالافتاء جامعۃ الرشید
6/رجب/ 1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | امداد الله بن مفتی شہيد الله | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


