03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حکومت سے جانور کی خوراک (ونڈا) لینے کی بجائے نقد رقم لینے کا حکم
89188جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

حکومت جانور پالنے والوں کو ایک کارڈ دیتی ہے، جس سے وہ ’’ونڈا‘‘ یعنی جانوروں کی خوراک حاصل کرتے ہیں اور حکومت ہر ایک لاکھ پر2500 روپے ٹیکس بھی لیتی ہے، بعض لوگ خوراک لینے کی بجائے دکاندار کے پاس جا کر کہتے ہیں کہ حکومت ہم سے تو 2500 روپے لیتی ہے، تم ہم سے 4000 لے لو اور ہمیں خوراک دینے کی بجائے کارڈ سے نقد رقم نکال کر دے دو۔کیا عام لوگوں کے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟ اور کیا دکاندار کا ان سے زیادہ پیسے لے کر خوراک کی جگہ نقد رقم نکال کر دینا شرعاً درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی اسکیم سے متعلق معلومات کے مطابق حکومتِ پنجاب کی طرف سے مویشی پالنے والوں کے لیے27 ہزار روپے فی جانور کے حساب سے 135000روپے سے 270000روپے تک 5ماہ کے لیے بغیر سود کے قرض دیا جاتا ہے، اس کی رجسٹریشن کے لیے "لائیو اسٹاک کارڈ" جاری کیا جاتا ہے، اس کارڈ کی بنیاد پر کسی بھی رجسٹرڈدکان دار سے ونڈا یعنی جانور کی خوراک حاصل کی جاسکتی ہے، البتہ اس میں فی لاکھ 2500 سو روپیہ ٹیکس لگتا ہے، ٹیکس کی رقم کاٹنے کے بعد بقیہ رقم کے عوض ونڈا دیا جاتا ہے، اس طرح بلا سود قرض کی فراہمی کا دورانیہ120 دنوں پر مشتمل ہے، جبکہ اگلے 30 دن اس رقم کی واپسی کے لیے مختص ہیں، اس مدت کے دوران کارڈ استعمال نہ کرنے کی صورت میں یہ بلاک ہو جاتا ہے۔[1]

مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں صورتِ مسئولہ میں مذکورہ اسکیم کے  تحت دکان دار سے ونڈا کی بجائے نقد رقم لینا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ کارڈ درحقیقت وصولیٴ قرض کے لیے ایک حق  کی نمائندگی کرتا ہے کہ آپ اتنے روپے کے عوض کسی بھی رجسٹرڈ دکاندار(ڈيلر) سے ونڈاخرید سکتے ہیں، اب اس شخص کا دکان دار کو ڈیڑھ ہزار روپیہ چھوڑ کر اس سے نقد رقم وصول کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، اس میں حکومت سے دھوکہ دہی کے علاوہ سود کا عنصر بھی پایا جاتا ہے، کیونکہ یہ شخص دکان دار سے چھیانے ہزار روپے وصول کر کے مخصوص مدت کے بعد حکومت کو ایک لاکھ روپیہ مکمل ادا کرے گا اور یہ در اصل قرض پر نفع ہے، جس کو شرعاً سود شمار کیا جاتا ہے۔

جہاں تک حکومت  کی طرف سے فی  لاکھ 2500 سو روپیہ ٹیکس کاٹنے کا تعلق ہے تواصولی طور پر حکومت کوٹیکس کے نام سے اضافی رقم نہیں لینی چاہیے، بلکہ جتنی رقم کا ونڈا دیا جائے اتنی ہی رقم وصول کرنی چاہیے، لیکن اگر حکومت کی طرف سےنقد رقم کی بجائے ونڈا یعنی جانوروں کی خوراک ہی  دی جاتی ہےاور اس میں فی لاکھ 2500 روپیہ ٹیکس کاٹ کر بقیہ رقم کے عوض ونڈا دیا جاتا ہے تو اس صورت میں یہ معاملہ جائز ہے اور اس کی توجیہ یہ کی جا سکتی ہے کہ حکومت نے ادھار کی وجہ سے مہنگے داموں ونڈا فروخت کیا، یعنی ساڑھے ستانوے ہزار روپے کا ونڈا لاکھ روپے میں دیا اور فریقین کی رضامندی سے یہ معاملہ شرعاً جائز ہے۔


[1] Livestock and Dairy Development Department Punjab.

حوالہ جات

مسند الحارث (1/ 500) مركز خدمة السنة والسيرة النبوية - المدينة المنورة:

عن عمارة الهمداني قال: سمعت عليا يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كل قرض جر منفعة فهو ربا»

النتف في الفتاوى (1/ 440) مؤسسة الرسالة،بيروت:

البيوع الجائزة: فأما الجائز فاولها بيع المساومة وهو المطالبة بالسلعة بالثمن والمعلوم ولا خلاف فيها بين علماء المسلمين.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

12/جمادی الاخری1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب