| 89364 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
میرا پہلا نکاح کفو میں کورٹ میرج کے ذریعے ہوا۔ یہ نکاح بغیر ولی کی اجازت کے ہوا، اس وقت شرعی احکام کا علم کم تھا اور ہم دونوں کم عمر اور ناسمجھ تھے، اس نکاح کے بعد ہمارے درمیان معمول کے اختلافات بڑھتے گئے۔ میری ذہنی حالت پہلے ہی کمزور تھی اور میں شدید گھبراہٹ، بےچینی، ڈر، غصے اور پسپائی کی کیفیت میں رہتا تھا۔
طلاق کے حوالے سے تین مختلف مجالس میں پیش آنے والے واقعات دارالافتاء کی ہدایت کے مطابق، میں تینوں واقعات کو علیحدہ مجالس کے طور پر، اصل الفاظ کے ساتھ پیش کر رہا ہوں۔
پہلی مجلس:
ہم دونوں میں جھگڑا ہوا،گھبراہٹ اور سخت ذہنی دباؤ کے دوران میں نے موبائل میسج میں یہ الفاظ لکھے:
"میں نے تمہیں طلاق دی" یہ جملہ تین بار لکھا۔
لیکن یہ الفاظ شدید گھبراہٹ، ذہنی اضطراب، اور کنفیوژن کی حالت میں لکھے گئے۔میری ذہنی حالت اس وقت بالکل نارمل نہ تھی، ہاتھ کانپ رہے تھے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ماند پڑی ہوئی تھی، اور شعوری ارادہ موجود نہیں تھا۔
دوسری مجلس:
کچھ وقت بعد دوبارہ شدید بحث اور جذباتی ماحول بنا، اسی پریشانی، ڈر اور غصے میں میں نے دوبارہ کہا: "میں نے تمہیں طلاق دی"یہ الفاظ بھی واضح نیت اور ارادے کے بغیر تھے۔میری ذہنی کیفیت ایسی ہوتی تھی کہ جذبات پر قابو نہیں تھا، دماغ خالی ہو جاتا تھا، مسلسل Panic اور Overthinkin میں مبتلا رہتا تھا۔میری نیت نکاح ختم کرنے کی نہیں تھی-صرف غصے میں بے ربط جملے نکل جاتے تھے جن پر مجھے بعد میں خود بھی حیرت ہوتی تھی۔
تیسری مجلس:
ایک دفعہ میری اہلیہ نے غصے میں کہا: "اگر تم مجھ سے اتنے بیزار ہو تو مجھے طلاق کیوں نہیں دے دیتے؟"
اس وقت میں مکمل دباؤ، گھبراہٹ اور جذباتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ان کے اس جملے کے جواب میں میں نے صرف یہ کہا: "ہاں دی"یہ لفظ بھی کسی ارادی طلاق کے طور پر نہیں تھا، بلکہ: دباؤ، ذہنی بیماری،شدید اضطراب،
Overthinking،خوف،اور Momentary loss of control کی حالت میں کہا گیا تھا۔
اہم حقیقت:
تینوں واقعات میں: نیتِ طلاق موجود نہیں تھی، الفاظ دباؤ اور نفسیاتی بیماری کے دوران نکلے،کوئی قاطع اور واضح ارادہ نہ تھا،میری ذہنی کیفیت اختیار سے باہر ہو جاتی تھی، مجھے بعد میں خود یاد نہیں رہا تھا کہ کیا کہا یا لکھا ہے۔
شدید ذہنی بیماری (Medical Condition) پھر میں نے مسلسل گھبراہٹ، ڈپریشن، خوف، غصے،اضطراب اور ذہنی کمزوری کے باعث ڈاکٹر سے رجوع کیا، ڈاکٹر نے تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد یہ تشخیص کی:
Generalized Anxiety Disorder (GAD) Associated with Anger, Impulsivity & Irritability Loss of control during panic episodes.
ڈاکٹر کے بیان کے مطابق:
میری اس کیفیت میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ممکن نہیں ہوتا،جذبات، غصہ اور پریشانی انسان کے عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے، ایسے شخص کے اقوال شرعی حکم میں قابلِ اعتماد نہیں ہوتے،پھر ہم نےدونوں خاندانوں کی موجودگی میں، صحیح طریقے سے نیا نکاح کیا،ولی موجود تھے،گواہ موجود تھے،حق مہر طے کیا گیا،باقاعدہ نکاح خواں نے نکاح پڑھایایہ نکاح مکمل طور پر شرعی اور درست تھا۔اس کے ساتھ میرا علاج بھی شروع ہوا جو گزشتہ 14-13 سال سے باقاعدگی سے مختلف ادویات جاری ہے ۔اس کے بعد:ہماری دونوں بچیاں اسی نکاح کے بعد پیدا ہوئیں،اس نکاح کے بعد کبھی بھی کوئی طلاق کے الفاظ نہیں کہے گئےزندگی نارمل گزرتی رہی۔
یہ مسئلہ دوبارہ کیوں اٹھا؟کچھ عرصہ قبل میری اہلیہ نے سوشل میڈیا پر بعض بیانات سنے جن میں کہا جاتا تھا کہ اس طرح طلاق واقع ہوجاتی ہےان بیانات نے ان کے دل میں وہم پیدا کیا،اور اسی وجہ سے ہم نے دوبارہ تحقیق کا سلسلہ شروع کیا۔ موجودہ صورتِ حال میں میں نے اس سارے معاملے پر متعدد علماء سے رجوع کیا: کئی علماء نے کہا کہ یہ طلاق ثابت نہیں ہوتی۔ڈاکٹر اور نفسیاتی معالج بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ میری ذہنی کیفیت میں ارادی طلاق معتبر نہیں۔
اب میں چاہتا ہوں کہ جامعۃ الرشید مکمل تفصیل سن کردرج ذیل سوالات کے بارے میں شرعی فیصلہ دے:
1. پہلے نکاح میں شرعاً طلاق واقع ہوئی تھی؟
2. اگر نہیں، تو دوسرا نیا نکاح اپنی جگہ مکمل صحیح اور قائم ہے؟
3. میری ذہنی بیماری اور نیت کی عدم موجودگی کا شرعی حکم کیا ہے؟
طبی حالت اور معالج سے رابطے کی درخواست:
میں مؤدبانہ گزارش کرتا ہوں کہ براہِ کرم میرے معالج سے ضرور رابطہ کریں اور ان سے میری طبی و نفسیاتی کیفیت کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ میں پچھلے 13–14 سال سے مختلف ادویات لے رہا ہوں، جن میں اینزائیٹی اور ڈپریشن کے لئے متعینہ ادویات شامل ہیں، اور میں معالج کی نگرانی میں مختلف تھیراپیز اور میڈیکیشن کے تحت علاج جاری رکھے ہوئے ہوں۔ میری ذہنی عارضہ اور اس کے زیرِ علاج ہونے کی حالت کے نتیجے میں جو جذباتی اتھل پتھل اور فوری ردِ عمل پیدا ہوئے، وہ میرے اختیار میں نہیں تھے اور انہی طبی وجوہات کی بنا پر بعض فیصلے اور پیغامات جو میں نے کچھ برس قبل بھیجے، اب مجھے واضح طور پر یاد نہیں، یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ اس بیماری کے باوجود میں اپنے گھر والوں کے ساتھ ایک باعزت زندگی گزار رہا تھا مگر اس حالیہ مسئلے نے ہمارا خاندانی نظام کوبری طرح متاثر کیا۔ میں درخواست کرتا ہوں کہ ہر نقطے کو نہایت دقت سے دیکھا جائے اور اگر آپ کو ضرورت محسوس ہو تو اپنے طبی مشاورین سے بھی رائے لے کر میری صورتِ حال میں کوئی شرعی گنجائش ہو تو وہ فراہم فرمائیں تاکہ میں اپنی فیملی کو دوبارہ آباد کر سکوں۔ اگر آپ چاہیں تو میں معاہدہ، قسم یا کسی بھی قسم کی حلف برداری دینے کے لئے تیار ہوں تاکہ میری حالت اور نیت کی سچائی واضح ہو سکے۔میں اپنی اہلیہ سے بھی تصدیق کر کے آپ کو درکار مزید معلومات فراہم کر سکتا ہوں۔
بیانِ حلف (قسم / حلف نامہ) “میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر سچ کہتا ہوں کہ اوپر بیان کی گئی تمام تفصیلات میرے علم اور یادداشت کے مطابق بالکل سچی، درست اور حقیقت پر مبنی ہیں۔اگر دارالافتاء چاہے تو میں باقاعدہ قسم اٹھانے، حلف نامہ جمع کرانے، یا تحریری و زبانی گواہی دینے کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہوں۔
میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میرے دل میں کبھی بھی اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ یا نیت موجود نہیں تھی،اور جو الفاظ غصہ، بیماری، گھبراہٹ اور اضطرابی کیفیت میں نکلے وہ میرے اختیار، قوتِ فیصلہ اور ارادے کے بغیر نکلے۔میں سچ کہتا ہوں کہ مجھے ان واقعات کی واضح یاد بھی نہیں، اور یہ سب میری ذہنی بیماری کے شدید دور میں ہوا۔ میری اس کیفیت میں روزمرہ کی زندگی میں اور بھی بہت مسائل ہوئے جن کا ذکر طویل ہو جائے گا بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اس سب کے گواہان میرے گھر والے، میرے دوست احباب اور میری اہلیہ بذات خود ہیں۔ امید کرتا ہوں عدل و انصاف اور بیماری کو مدنظر رکھتے ہوئے جواب دیا جائے گا۔جزاک اللہ خیرا
جواب تنقیح:1. لڑکی کزن ہے،خاندان ایک ہے،مالی اعتبارسے بھی کوئی خاص فرق نہیں۔2. پہلے نکاح کے بعد حقوق زوجیت اداہوتے رہے۔
وضاحت: سائل کی اہلیہ نے یہ بتائی کہ جب شوہر نے یہ الفاظ کہے تھے اس وقت یہ غصہ میں ضرور تھے، مگر یہ ہوش وحواس میں تھے، نیز یہ بھی بتایا کہ ان کے خاندان میں غصہ کا مسئلہ تو ہے، مگر ایسا نہیں کہ غصہ کی حالت میں ہوش وحواس کھو بیٹھتے ہوں، جب اس نے طلاق کے یہ الفاظ کہے تھے اس وقت بھی یہ غصہ میں تھے، مگر ہوش وحواس میں تھے ، اس کے علاوہ ماشاء اللہ یہ ہر چیز سمجھتے ہیں، تعلیم یافتہ ہیں، باقی انزائٹی کا ان کو مسئلہ ہے، جس کی یہ دوائی لے رہے ہیں۔
نیز سائل اور اس کی بیوی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا ذہنی طور پر بیماری ہونا رشتہ داروں اور دیگر لوگوں میں معروف نہیں تھا۔ سائل کے بقول طلاق کا واقعہ سترہ اٹھارہ سال پرانا ہے، جبکہ دوائی تیرہ سال سے لینا شروع کی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جواب سے پہلے بطورِ تمہید دو باتیں جاننا چاہیے :
1۔ اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد اپنے بارے میں ذہنی طور پر مریض ہونے کا دعوی کرے تو ایسی صورت میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اصول یہ لکھا ہے کہ اگر ایسے شخص کا ذہنی بیماری میں مبتلا ہونا لوگوں میں معروف ہو تو اس کے حلفیہ بیان کے ساتھ اس کا دعوی قبول کیا جائے گا، ورنہ موقع پر موجود گواہوں کے مطابق فیصلہ ہو گا، اگر موقع کے گواہ اس کے نارمل نہ ہونے کی گواہی دیں تو اس کی بات معتبر ہو گی، ورنہ نہیں۔(کذا فی رد المحتار و احسن الفتاوی:162/5) اور یہی بات بعض نفسیات کے ماہر ڈاکٹروں نے بتائی ہے کہ موقع کے گواہوں کا اعتبار کیا جائے گا۔
2۔ سائل کی ذہنی بیماری (Generalized Anxiety Disorder) سے متعلق رپورٹس کی تفصیل درج ذیل ہے:
سائل نے ایک رپورٹ سوال کے ساتھ بھیجی ہے، جو کہ موجودہ رپورٹ ہے، جس میں لکھا ہوا ہے کہ یہ تیرہ سال سے علاج کروا رہے ہیں، اسی طرح ڈاؤ یونیورسٹی کے نفسیات کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر شعیب احمد صاحب نے کی رپورٹ میں بھی تیرہ سال کا ہی ذکر ہے، نیز اس رپورٹ میں سائل کے باقاعدہ شراب پینے کا بھی ذکر ہے۔ ایک اوررپورٹ سائل کے پہلے معالج ڈاکٹر سندوش صاحب سے منگوائی گئی، جس میں طلاق کے وقت شراب نوشی کی نفی کی گئی ہے۔نیز نفسیات کے ماہرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ بیماری دائمی نہیں ہوتی، بلکہ آدمی پر کبھی کبھار اس بیماری کا حملہ ہوتا ہے اور اس وقت آدمی کے لیے اپنے افعال پر کنٹرول کرنا کچھ مشکل ہوتا ہے۔
ان دونوں رپورٹس کے بارے میں مزید دو ڈاکٹروں سے آراء لی گئیں، ان میں سے ایک کی رائے یہ تھی کہ صرف طلاق دیتے وقت سائل کی صورتِ حال کا اعتبار کیا جائے گا، بعد میں لکھی جانے والی رپورٹس کا اعتبار نہیں، کیونکہ اس مرض کی کیفیت تبدیل ہوتی رہتی ہے، اس لیے اس کے بعد ڈاکٹر کچھ نہیں بتا سکتا۔ دوسرے ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اگر اس وقت بیماری کا حملہ تھا تو سائل کی بات معتبر ہوسکتی ہے، مگر سائل کی ظاہری صورتِ حال چونکہ مشکوک ہے، اس لیے کوئی حتمی بات کہنا مشکل ہے، اتنی بات ضرور ہے کہ دوسری رپورٹ میں شراب استعمال نہ کرنے کی جو حتمی بات لکھی گئی ہے، درست نہیں، کیونکہ طلاق کے موقع پر ڈاکٹر صاحب گھر پر موجود نہیں تھے،اس لیے وہ یقین کے ساتھ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ شراب کا اثر نہیں تھا؟
مذکورہ بالا تفصیل اور میاں بیوی کے بیان کی روشنی میں درج ذیل امور معلوم ہوئے:
الف: میاں بیوی کے بیان کے مطابق ان کی ذہنی بیماری رشتہ داروں میں معروف نہیں ہے اور موقع پر سائل کی کیفیت نارمل نہ ہونے پر بھی گواہ موجود نہیں ہیں، نیز میاں بیوی اور سائل کے بھائی کے بیان کے مطابق طلاق کا واقعہ پیش آنے کے وقت سائل کسی ڈاکٹر کے ہاں زیرِ علاج نہیں تھے۔
ب: شراب کے استعمال کے بارے میں پہلی رپورٹ میں تصریح ہے(He reports alcohol use for the past 18 years.) یعنی یہ گزشتہ اٹھارہ سال میں باقاعدہ شراب استعمال کرتے رہے ہیں، دوسری رپورٹ میں اگرچہ اس کی نفی کی گئی ہے، مگر طلاق دیتے وقت شراب استعمال نہ کرنے کا یقینی دعوی محلِ نطر ہے۔
ج: جس شخص کو کبھی کبھار ذہنی توازن درست نہ ہونے کی بیماری لاحق ہو تو ایسی صورت میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اصول یہ لکھا ہے کہ تندرست ہونے کی حالت میں اس شخص کے تمام اقوال افعال معتبر ہوتے ہیں، جبکہ بیماری کی حالت میں اس کے اقوال وافعال کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔
اس تمہید کے بعد سوال کا جواب یہ ہے کہ چونکہ طلاق کا واقعہ پیش آنے سے پہلے سائل کا دماغی طور پر بیمار ہونا لوگوں میں معروف نہیں تھا اور طلاق کے موقع کے گواہ بھی موجود نہیں ہیں جو اس بات کی گواہی دیں کہ اس وقت اس شخص کی ذہنی حالت درست نہیں تھی، لہذا سائل کا ذہنی طور پر بیمار ہونے کا دعوی شرعاً ثابت نہیں، خصوصاً جبکہ اس پر شراب کا اثر ہونے کا احتمال بھی موجود ہے اور شراب کے نشہ میں بہرحال طلاق واقع ہو جاتی ہے، زیادہ سے زیادہ سائل کے حلفیہ بیان کے مطابق دیانتاً (اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان شرعی حکم) طلاق کے عدمِ وقوع کا حکم لگایا جا سکتا ہے، لیکن یہ دیانت پر مبنی حکم عورت کے حکم میں معتبر نہیں ہو گا، کیونکہ شرعی اعتبارسےعورت قضاء کے مطابق عمل کرنے کی پابند ہے، یعنی جیسے قاضی مدعی، مدعی علیہ اور گواہوں کی ظاہری صورتِ حال کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند ہوتا ہے، اسی طرح عورت پربھی اپنی ذات کے حق میں شوہر کی ظاہری صورتِ حال پر ہی عمل کرنا ضروری ہے اور بغیر شرعی ثبوت کے اس کے لیے شوہر کی طرف سے خلافِ ظاہر دعوی پر عمل کرنا جائز نہیں، اس لیے تمہید کے شروع میں فقہائے کرام رحمہم اللہ کے بیان کردہ اصول کی روشنی میں سائل کے اپنی بیوی کو تین مرتبہ "میں نے تمہیں طلاق دی" کہنے سے عورت کے حق میں قضاءً اس پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی تھی، اس کے بعدبغیرحلالہ کے آپ دونوں کا اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں تھا۔
- قضاءً تین طلاقیں واقع ہو جانے کے بعد آپ حضرات کا آپس میں کیا گیا نکاح بھی شرعاً درست نہیں ہوا، کیونکہ اس کے بعد بغیر حلالہ کے شرعاًنکاح معتبر نہیں ہوتا، بلکہ تین طلاق کے بعد پہلے شوہر سے نکاح شرعاً درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرے، پھر وہ شخص حقوقِ زوجیت (ہمبستری) بھی ادا کرے اور پھر وہ اپنی رضامندی سے اس عورت کو طلاق دے دے یا وہ فوت ہو جائے تو اس کی عدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح درست ہے، ورنہ نہیں، لہذا اس طرح مکمل طریقہٴ کار پر عمل کیے بغیر آپ دونوں ابھی تک جتنا عرصہ اکٹھے رہے ہیں وہ شرعا ناجائز اور گناہ کبیرہ ہوا، اس پر اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ واستغفار کرنا اور آئندہ کے لیے اس طرح کے کبیرہ گناہ سے اجتناب کرنا لازم ہے۔ یاد رہے کہ اس میں آدمی کی جہالت اور شرعی مسائل سے ناواقفیت کا عذر بھی شرعاً معتبر نہیں، کیونکہ دارالاسلام میں علم دین حاصل کرنے میں ہر آدمی مکمل آزاد ہوتا ہے، اس لیے دارالاسلام میں احکامِ شرع سے جہالت شرعاً قابلِ اعتبارعذر نہیں ہے۔
- ذہنی بیماری کے بارے میں پہلے سوال کے جواب میں عرض کیا جا چکا ہے کہ طلاق کے وقت ذہنی طور پر بیماری کا حملہ ہونا شرعاً ثابت نہیں۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:
حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5264) دار طوق النجاة:
وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.
سنن أبي داود (2/ 259) المكتبة العصرية، صيدا – بيروت:
حدثنا أحمد بن محمد المروزي، حدثني علي بن حسين بن واقد، عن أبيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: {والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء، ولا يحل لهن أن يكتمن ما خلق الله في أرحامهن} [البقرة: 228] الآية، " وذلك أن الرجل كان إذا طلق امرأته، فهو أحق برجعتها، وإن طلقها ثلاثا، فنسخ ذلك، وقال: {الطلاق مرتان} [البقرة: 229]
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 244) الناشر: دار الفكر-بيروت:
مطلب في طلاق المدهوش وقال في الخيرية: غلط من فسره هنا بالتحير، إذ لا يلزم من التحير وهو التردد في الأمر ذهاب العقل. وسئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش، أجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق بلا برهان. اهـ. قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.
الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ............... فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل، نعم يشكل عليه ما سيأتي في التعليق عن البحر. وصرح به في الفتح والخانية وغيرهما، وهو: لو طلق فشهد عنده اثنان أنك استثنيت وهو غير ذاكر، وإن كان بحيث إذا غضب لا يدري ما يقول وسعه الأخذ بشهادتهما وإلا لا اهـ مقتضاه أنه إذا كان لا يدري ما يقول يقع طلاقه وإلا فلا حاجة إلى الأخذ بقولهما إنك استثنيت، وهذا مشكل جدا، وإلا أن يجاب بأن المراد بكونه لا يدري ما يقول أنه لقوة غضبه قد ينسى ما يقول ولا يتذكره بعد، وليس المراد أنه صار يجري على لسانه ما لا يفهمه أو لا يقصده إذ لا شك أنه حينئذ يكون في أعلى مراتب الجنون، ويؤيده هذا الحمل أنه في هذا الفرع عالم بأنه طلق وهو قاصد له، لكنه لم يتذكر الاستثناء لشدة غضبه، هذا ما ظهر لي في تحرير هذا المقام، والله أعلم بحقيقة المرام ثم رأيت ما يؤيد ذلك الجواب، وهو أنه قال في الولوالجية: إن كان بحال لو غضب يجري على لسانه ما لا يحفظه بعده جاز له الاعتماد على قول الشاهدين، فقوله لا يحفظه بعده صريح فيما قلنا والله أعلم.
الفتاوى الهندية (1 / 473) دار الفكر، بیروت:
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
23/جمادی الاخری1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


