| 89463 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھانے پینے کے مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے گھر کا پکا ہوا کھانا کھانے کا شرعی حکم کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے ہاتھوں کا پکا ہوا کھانا اگر گوشت کے علاوہ ہو، اور اس بارے میں حلال اور پاک ہونے کا یقین ہو ، تو اس کا کھانا جائز ہے، لیکن اسے معمول بنانا مناسب نہیں۔اور اگر ان کے ہاتھوں کا پکا ہوا کھانا گوشت کا ہو، تو اس کےجواز کی صورت یہ ہے کہ وہ گوشت کسی مسلمان یا اہل ِکتاب(یہود و نصاریٰ) کا ذبیحہ ہو،لیکن اہلِ کتاب کےذبیحہ کے حلال ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ واقعی اپنے اصل دین پر قائم ہوں (محض نام کے یہودی یا عیسائی نہ ہوں)، اور ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو، تو ایسی صورت میں ان کا ذبیحہ جائز ہوگا، اگرچہ پکانے والا غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔
لیکن چونکہ آج کل کے اکثر یہود و نصاریٰ اپنے اصل دین پر قائم نہیں رہے، بلکہ ان میں اکثر دہریے بن چکے ہیں ۔ اس لیے ان کے ذبیحہ سے اجتناب کرنا بہتر ہے۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی:"وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ ۗ "[سورة الأنعام:121]
قال اللہ تعالی:الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۖ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ ۖ [المائدۃ:5]
قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ: ولا بأس بطعام اليهود والنصارى من أهل الحرب، ولا فرق بين أن يكونوا من بني إسرائيل أو من نصارى العرب، ولا بأس بطعام المجوس كلها إلا الذبيحة.(البحر الرائق :8/232)
وفی الفتاوى العالمكيرية :ولا بأس بطعام اليهود والنصارى كله من الذبائح وغيرها ويستوي الجواب بين أن يكون اليهود والنصارى من أهل الحرب أو من غير أهل الحرب وكذا يستوي أن يكون اليهود والنصارى من بني إسرائيل أو من غيرهم كنصارى العرب ولا بأس بطعام المجوس كله إلا الذبيحة، فإن ذبيحتهم حرام ..... وحكي عن الحاكم الإمام عبد الرحمن الكاتب أنه إن ابتلي به المسلم مرة أو مرتين فلا بأس به وأما الدوام عليه فيكره كذا في المحيط. (الفتاوى العالمكيرية :5/ 347)
وفی المحيط البرهاني:ولا بأس بطعام اليهود والنصارى كله من الذبائح وغيرها لقوله تعالى: {وطعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم} (المائدة: 5) من غير فصل بين الذبيحة وغيرها، ويستوي الجواب بين أن يكون اليهود والنصارى من بني إسرائيل أو من غيرهم، كنصارى العرب؛ لأن ما تلونا من الآية لم تفصل.ولا بأس بطعام المجوس كله إلا الذبيحة، فإن ذبيحتهم حرام، قال عليه السلام: "سنوا بالمجوس سنة أهل الكتاب غير ناكحي نسائهم، ولا آكلي ذبائحهم". (المحيط البرهاني: 5/361)
وفی النتف في الفتاوى:ولا يألكون من اطعمة الكفار ثلاثة اشياء:اللحم والشحم والمرق ولا يطبخون في قدروهم حتى يغسلوها.
(النتف في الفتاوى:2/ 707)
وفی الفتاوی الھندیۃ: قال محمد رحمه الله : ويكره الأكل والشرب في أواني المشركين قبل الغسل ومع هذا لو أكل أو شرب فيها قبل الغسل جاز ولا يكون آكلا ولا شاربا حراما وهذا إذا لم يعلم بنجاسة الأواني فأما إذا علم فأنه لا يجوز أن يشرب ويأكل منها قبل الغسل ولو شرب أو أكل كان شارباوآكلا حراما۔۔۔ولم يذكر محمد - رحمه الله تعالى - الأكل مع المجوسي ومع غيره من أهل الشرك أنه هل يحل أم لا وحكي عن الحاكم الإمام عبد الرحمن الكاتب أنه إن ابتلي به المسلم مرة أو مرتين فلا بأس به وأما الدوام عليه فيكره كذافي المحيط . (الفتاویالھندیۃ: 347/5)
سخی گل بن گل محمد
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
/02رجب المرجب ،1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سخی گل بن گل محمد | مفتیان | سعید احمد حسن صاحب / مفتی محمد صاحب |


