| 89575 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
فریق اوّل:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مسماۃ سمیرہ اور اس کی ساس کے درمیان کئی دنوں سے جھگڑا جاری تھا۔ اسی دوران کاشف ولدِ جناب گل (سمیرہ کا شوہر) گھر میں داخل ہوا اور اس نے اپنی بیوی سمیرہ کو چھ (6) دفعہ کہا: ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘، اور پھر کہا: ’’نکل جا‘‘۔ اس موقع پر ایک پڑوسی خاتون، مسماۃ شکریہ بھی موجود تھیں، جو اس بات کی گواہ ہیں۔
العبد، مسماۃ سمیرہ، فریق دوم:بعد از سلام عرض ہے کہ میری بیوی اور میری والدہ کے درمیان آپس میں جھگڑا ہوا تھا۔ اس پر والدہ نے مجھ سے کہا کہ اپنی بیوی سمیرہ کو طلاق دے دو۔ تو اسی اثنا میں، یعنی مورخہ 2025/10/18 کو بوقت صبح تقریباً 9 یا 10 بجے، میں نے اپنی بیوی مسماۃ سمیرہ سے ان الفاظ میں کہا: "ذہ تادا طلاق در کوم" (میں تمہیں طلاق دیتا ہوں)۔اوریہ الفاظ میں نے تین بار دہرایا۔ کیا طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مسئولہ صورت میں تین طلاق واقع ہوگئی ہیں ،لہذا بیوی شوہر کے لیے مکمل طور پر حرام ہوچکی ہے۔
حوالہ جات
سورۃالبقرة: (227 - 230)
" فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ..."(230).
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 209)
... إذا تشاجر الرجل مع امرأته فقال لها بالفارسية هرار طلاق برا ولم يزد على هذا تقع الثلاث لأن هذا فارسي قوله ألف تطليقة لك، ولو قال ألف تطليقة لك تقع الثلاث لأنه لو قال: لك ألف تطليقة تقع الثلاث....
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 216)
وفي «المنتقى» : إذا قالت: طلقني طلقني طلقني بدون حرف الواو فقال: الزوج قد طلقتك أنه يقع ثلاث تطليقات ولم تشترط نية الزوج الثلاث.
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 213)
فروع: كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين.
محمد شاہ جلال
دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
09/رجب/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


