| 88224 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے والد صاحب کا انتقال آٹھ سال پہلے ہوا ،میرے والد نے خوب محنت کی اور اپنی جائیداد بنائی ،والد کی اس جائیداد میں 100% محنت والد کی اپنی ذاتی رہی ،ہمارے دادا کی کوئی وراثت یا جائیداد کچھ نہیں تھی ،والد کے پیچھے مجھ سمیت ہم تین بھائی اور پانچ بہنیں رہ گئےاور ایک میری والدہ ہیں، اب ہمارے خاندان کے کچھ بڑے یہ کہہ رہے ہیں کہ جائیداد میں دادی کا حصّہ بھی ہے ،کیا میرے والد کی اس جائیداد میں دادی کا حصہ ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کتنا فیصد ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر ماں کی زندگی میں بیٹے کا انتقال ہوجائے تو بیٹے کی اولاد ہونے کی صورت میں ماں کو اس کی وراثت میں چھٹا حصہ(16.666%) ملتا ہے،چاہے جائیداد وغیرہ بیٹے نے ذاتی محنت سے بنائی ہو،یا والد کی وراثت سے ملی ہو،اس لئے مذکورہ صورت میں بھی مرحوم کی والدہ (آپ کی دادی)کو ان کے ترکہ(وہ سونا،چاندی،نقدی،جائیداد یا ان کے علاوہ کوئی بھی چھوٹی بڑی چیز جو وفات کے وقت ان کی ملکیت میں تھی) میں سے چھٹا حصہ ملے گا۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية "(6/ 449):
"والثالثة - الأم ولها ثلاثة أحوال: السدس مع الولد وولد الابن أو اثنين من الإخوة والأخوات من أي جهة كانوا".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
27/محرم1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


