| 85045 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
اپنی زندگی میں جائداد تقسیم کرنے کی صورت میں ہر ہر زمین میں تمام اولاد کو حصہ دینا ضروری ہے؟یا کسی ایک مقام سے مکمل زمین بقدر حصہ دے کر باقی افراد کو الگ الگ جگہوں کا مالک بنایا جائے؟زمین کی تقسیم رقبے کے اعتبار سے ہو گی یا قیمت کے اعتبار سے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ تقسیم میں ہر ہر زمین سےسب کو حصہ دینا ضروری نہیں ،بلکہ والد کو یہ اختیار حاصل ہے کہ انصاف اور عدل کا خیال رکھتے ہوئے اپنی صوابدید کے مطابق ان کے درمیان زمین تقسیم کر ے۔ البتہ اپنی صوابدید کا استعمال کرتے ہوئے معتبر شرعی عذر کے بغیر کسی کے حق میں غیر معمولی کمی و بیشی ناجائز ہے ۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين (4/ 444):
فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى۔
محمد سعد ذاكر
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
16/ربیع الثانی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعد ذاکر بن ذاکر حسین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


