| 85046 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
بچوں میں ناچاقی کی وجہ سے اپنی تمام جائیداد مسجد یا کسی دینی ادارے کو دینا چاہے تو کیا حکم ہوگا ؟ کس حد تک ایسا کرنا جائز ہے؟
تنقیح : کاروباری زمینیں تقریبا اٹھارہ سال پہلے بیٹوں میں تقسیم کر چکے ہیں، جبکہ بیٹیوں کو محروم رکھا،پھر بعد میں جب بچوں میں کچھ ناچاقیاں ہوئیں تو انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ باقی تمام زمینیں فروخت کر کے اللہ کے راستے میں خرچ کروں گا ، تاکہ اپنی آخرت ہی سنوار لوں،اس کےبعد مختلف مواقع میں کچھ جائیدادیں وقف بھی کیں ،کچھ زمینیں اب بھی باقی ہیں۔
پہلی تقسیم مکمل صحت کی حالت میں ہوئی تھی ، اس کے بعد دو سال سے عمر کے تقاضے اور شوگر کی وجہ سے کمزوری ہوگئی ہے۔کبھی کبھی کسی جنازے کے لیے گھر سے نکلتے ہیں ۔ ورنہ گھر پر ہی رہتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زندگی اور صحت کی حالت میں انسان کو اپنی جائیداد میں تصرف کا مکمل اختیار حاصل ہو تا ہے۔وہ اپنی ساری جائیداد وقف بھی کرسکتا ہے،اگر چہ یہ پسندیدہ نہیں۔
مذکورہ صورت میں چونکہ بچوں کو پہلے جائیداد میں سے کافی حصہ دے چکے ہیں ۔اور اب بھی ان کی ملکیت میں کچھ جائیداد باقی ہے ، لہذا یہ تمام مال اللہ کے راستے میں وقف کرنے والی صورت نہیں ہے ، البتہ ان کے لیے وقف سے زیادہ یہ ضروری ہے کہ جن بیٹیوں کو جائیداد سے محروم رکھ کر وہ اللہ کے ہاں گناہ گار ٹہرے ہیں ان کو ان کا حصہ ادا کر دیں۔
بیماری جو ذکر کی گئی ہے وہ مرض الموت میں نہیں آئے گی اور نہ ہی اس پر مرض المو ت کے احکام جاری ہوں گے۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين (2/ 357):
اعلم أن الصدقة تستحب بفاضل عن كفايته وكفاية من يمونه، وإن تصدق بما ينقص مؤنة من يمونه أثم، ومن أراد التصدق بماله كله وهو يعلم من نفسه حسن التوكل والصبر عن المسألة فله ذلك وإلا فلا يجوز، ويكره لمن لا صبر له على الضيق أن ينقص نفقة نفسه عن الكفاية التامة۔
الموسوعة الفقهية الكويتية (37/ 5):
وذهب الحنفية إلى أن مرض الموت: هو الذي يغلب فيه خوف الموت، ويعجز معه المريض عن رؤية مصالحه خارجا عن داره إن كان من الذكور، وعن رؤية مصالحه داخل داره إن كان من الإناث، ويموت على ذلك الحال قبل مرور سنة، سواء كان صاحب فراش أو لم يكن، هذا ما لم يشتد مرضه ويتغير حاله، فيعتبر ابتداء السنة من تاريخ الاشتداد۔
محمد سعد ذاكر
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
16/ربیع الثانی /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعد ذاکر بن ذاکر حسین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


