03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مختلف قیمتوں والی زمین کی تقسیم کا حکم
85045میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

اپنی زندگی میں جائداد تقسیم کرنے کی صورت میں ہر ہر زمین میں تمام اولاد کو حصہ دینا ضروری ہے؟یا کسی ایک مقام سے مکمل زمین بقدر حصہ دے کر باقی افراد کو الگ الگ جگہوں کا مالک بنایا جائے؟زمین کی تقسیم رقبے کے اعتبار سے ہو گی یا قیمت کے اعتبار سے؟ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ تقسیم میں  ہر ہر زمین سےسب  کو حصہ دینا ضروری نہیں ،بلکہ والد کو یہ اختیار حاصل ہے کہ انصاف اور عدل کا خیال رکھتے ہوئے  اپنی  صوابدید کے مطابق  ان کے درمیان زمین تقسیم کر ے۔  البتہ اپنی صوابدید کا استعمال کرتے ہوئے  معتبر شرعی عذر کے بغیر کسی کے حق میں غیر معمولی  کمی و بیشی   ناجائز ہے ۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين (4/ 444):

‌فالعدل ‌من ‌حقوق ‌الأولاد ‌في ‌العطايا ‌والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى۔

 محمد سعد ذاكر

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

16/ربیع الثانی 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد سعد ذاکر بن ذاکر حسین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب