03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کی رضامندی سے عدالتی خلع کا حکم
89308طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میرا نکاح 2018ء میں....... نامی شخص سے ہوا، اس کی ماں نے شروع میں ہی کہہ دیا تھا کہ پانچ سال تک حمل نہیں ٹھہرنا چاہیے، لیکن اللہ کی طرف سے دو ماہ بعد ہی مجھے امید ہو گئی، جب اس کی ماں کو علم ہوا تو اس نے طرح طرح سے مجھے تکلیف دینا اور تنگ کرنا شروع کیا، بات بات پر طعنہ دینا، گھر کا تمام کام کروانا، بھاری بھاری پانی کی بوتلیں اٹھوانا وغیرہ۔ نتیجہ میں میرا حمل ضائع ہو گیا، پھر مجھے ڈی این سی کے خرچ کا طعنہ دیا جانے لگا، دوسری مرتبہ پھر کچھ عرصہ بعد مجھے اولاد کی امید ہوئی، میں نے ساس کو نہ بتایا، مگر جب ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری ہوا تو میں نے اس کو بتایا، اس نے پھر مجھے خوب تنگ کرنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ میں نے کئی مرتبہ خود کشی کی کوشش کی، طرح طرح کی دوائیں کھائیں، مگر اثر نہ ہوا، میرا شوہر عمیر خود مجھے خود کشی کے طریقے بتاتا کہ ایسا کرو گی تو مر جاؤ گی، دوائیں کھانے سے کون مرتا ہے؟  وہ خود مجھے طرح طرح کی گولیاں کھلاتا رہا، جس سے میرے گردے متاثر ہو گئے، شاید اسی لیے میرے بچے کا بھی ایک گردہ خراب نکلا۔

میں تنگ آ کر اپنے والدین کے گھر آ گئی، شوہر نے کوئی رابطہ نہ کیا،  بچے کی پیدائش کا مکمل خرچ بھی میرے والدین نے اٹھایا، شوہر ہسپتال میں آیا اور ہزار روپیہ دے کر چلا گیا، اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں کیا، صلح کی کوشش کی گئی تو شوہر نے شرائط رکھیں کہ یہ اپنے والدین کے گھر نہیں جائے گی، ان کا کوئی بھی فرد مجھ سے ملنے کی کوشش نہیں کرے گا، میں بھی ان کے گھر نہیں جاؤں  گا، اگر یہ شرائط منظور ہیں تو گھر بیوی کا والد گھر چھوڑ جائے، یہ شرائط ہمیں پہنچیں تو میں نے خلع کی بات کی، شوہر راضی ہو گیا، عدالت میں خلع کا کیس دائر کیا، جب فیصلے کا وقت آیا تو شوہر نے کہا، میں خلع نہیں دوں گا، بلکہ ہمیشہ لٹکا کر رکھوں گا، عدالت نےخلع کی ڈگری جاری کر دی اور بچے کا چار ہزار روپیہ خرچہ شوہر کے ذمہ ڈال دیا، جو اس نے ابھی تک  نہیں دیا، میں صبح میں اسکول اور شام میں ٹیویشن پڑھاتی ہوں، میرے بچے کا گردہ خراب ہے، اس کی دوائی کا خرچ میں خود اٹھاتی ہوں، میں کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہتی، سوالات یہ ہیں:

  1.  پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ خلع معتبر ہے؟ اور کیا میں آگے نکاح کر سکتی ہوں؟
  2. میرے بچے کے علاج اور غذا کا خرچ کس کے ذمہ واجب ہو گا؟

وضاحت: سائلہ نے بتایا کہ دعوی میں یہی مکمل تفصیل لکھی گئی تھی، نان نفقہ نہ دینا بھی جہ لکھی تھی، کیونکہ یہ کھانے پینے کے علاوہ کوئی خرچ نہیں دیتے تھے، البتہ عدالت میں میری طرف سے گواہ نہیں پیش کیے گئے تھے، نیز حلفیہ بیان بھی جمع نہیں کروایا تھا۔ شوہر عدالت میں حاضر ہوا تھا، جج نے ہم دونوں کی علیحدہ علیحدہ بات سنی اور پھر کہا کہ تم دونوں باہر جا کر صلح کرکے معاملہ حل کر لیں، ہم باہر گئے، بچہ بھی میرے پاس تھا، باہر جا کر اس نے مجھ سے اور اپنے بیٹے سے کوئی بات نہیں کی، میں نے بھی ان سے  کوئی بات نہیں کی، واپس عدالت آئے تو جج نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا، میں نے ان کے ساتھ نہیں رہنا، پھر اس نے شوہر سے پوچھا تو انہوں نے بھی کہا ہمیں اکٹھے نہیں رہنا، اس پر جج نے خلع  کی ڈگری جاری کردی۔ البتہ اس نے فیصلے پر دستخط نہیں کیے اور بچے کے بارے میں اس نے کہا تھا کہ یہ بچہ ساری زندگی تمہارے پاس ہی رہے گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی وضاحت کے مطابق شوہر کےعدالت میں حاضر ہونےپرعدالت نے آپ دونوں کو باہر جا کر صلح کرنے کا کہا، لیکن آپ دونوں نےباہر جا کرصلح وغیرہ سے متعلق کوئی بات چیت نہیں کی اور واپس آکر دونوں نے جج سے کہا کہ ہم نے ایک ساتھ نہیں رہنا، یہ شوہرکی جانب سے تعنت اور ہٹ دھرمی  کی واضح دلیل ہے، لہذا شوہر کے انکار پر عورت کو ضرر سے بچانے کے لیے عدالت کا فسخِ نکاح کی ڈگری جاری کرنا شرعاً معتبر اور نافذ ہےاورآپ فیصلہ جاری ہونے کی تاریخ سے آپ کی عدت شروع ہو چکی ہے، عدت گزارنے کے بعد آپ دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہیں۔

یاد رہے کہ عدالت کی جانب سے اگرچہ فیصلہ میں خلع کے الفاظ استعمال کیے گئے ہوں، مگر اس سے خلع مراد نہیں لیا جائے گا، کیونکہ خلع کے لیے فریقین کی رضامندی ضروری ہے، جبکہ مذکورہ صورت میں لڑکا خلع دینے پر تیار نہیں تھا،  اس لیے ان الفاظ کو فسخِ نکاح پر محمول کیا جائے گا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 440) دار الفكر-بيروت:

في التتارخانية وغيرها: مطلق لفظ الخلع محمول على الطلاق بعوض؛ حتى لو قال لغيره اخلع امرأتي فخلعها بلا عوض لا يصح (قوله: أو اختلعي إلخ) إذا قال لها اخلعي نفسك فهو على أربعة أوجه: إما أن يقول بكذا فخلعت يصح وإن لم يقل الزوج بعده: أجزت، أو قبلت على المختار؛ وإما أن يقول بمال ولم يقدره، أو بما شئت فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده.

بداية المجتهد ونهاية المقتصد (4/ 252) دار الحديث – القاهرة:

وأما ثبوت الحق على المدعى عليه بنكوله فإن الفقهاء أيضا اختلفوا في ذلك، فقال مالك، والشافعي وفقهاء أهل الحجاز وطائفة من العراقيين: إذا نكل المدعى عليه لم يجب للمدعي شيء بنفس النكول، إلا أن يحلف المدعي أو يكون له شاهد واحد........... ومن حجة مالك أن الحقوق عنده إنما تثبت بشيئين: إما بيمين وشاهد، وإما بنكول وشاهد، وإما بنكول ويمين.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

16/جمادی الاخری1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب