03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہرمارتا پیٹتا ہو،نان نفقہ نہ دیتاہو،نہ طلاق دیتا ہوتوعدالت سےخلع لیاجاسکتاہے؟
87957طلاق کے احکاموہ اسباب جن کی وجہ سے نکاح فسخ کروانا جائز ہے

سوال

سوال:!ہم نے اپنی بیٹی کانکاح 2021  میں کیا تھا۔ جس نے یہ رشتہ کروایا تھا اس نے بتایا تھا کہ لڑکے کا ہوٹل ہے،نکاح کے بعد ہمیں پتا چلا کہ لڑکے کا کوئی ہوٹل  وغیرہ نہیں ہے، پھر ہم نے سوچا کہ اس کو کچھ پیسے دے دیتے ہیں کہ کوئی کاروبار وغیرہ کرے گا۔ ہم نے اس کو اسی ہزار 80000 روپے دیے،جو وہ کچھ دن میں کھاگیا،پتا نہیں کیا، ہمیں پتا چلا کہ لڑکا جوا وغیرہ کھیلتا ہے تو ہم نے کوشش کی، رشتہ ادھر ہی ختم کر دیتے ہیں تو اس کے گھر والے ہمارے پاس آئےہمیں رضا مند کرنے کیلئے، ان سب کے بہت اصرار پر اور کچھ بڑوں کے سمجھانے پراور نکاح ہونے کی وجہ سے ہم مان گیے، پھر اس کے بعد2022 میں شادی ہو گئی اور رخصتی بھی ہوگئی،رخصتی کے وقت  جس گاڑی میں بارات آئی تھی،اس کا کرایہ  بھی ہماری بچی سے لے کر دیا ۔ شادی کے ایک ہفتہ کے اندر جو زیور ہم نے دیا تھا وہ سب ان لوگوں نے بیچ دیا کہ قرض والوں کو دینا ہے،جو شادی میں قرض لیا تھالیکن ہم نے یہ سب اگنور کر دیا کہ کوئی بات نہیں، پھر اس کے بعد وہ کچھ دن فارغ پھرتا رہا، کام نہیں کرتا تھا تو وہ ہمارے پاس فیصل آباد آ گیا کہ میں ادھر ہی کام کروں گا تو ہم نے اس کو کام  لگوادیا، کچھ دن کے بعد اس سے ایک قرض لینے والا فیصل آباد ہی آگیا تو وہ کہنے لگا کہ میں بائک بیچوں گا، جو ہم نے اپنی بیٹی کو جہیز میں دی تھی، اس بات پر ان دونوں میاں بیوی کی لڑائی ہوئی، ہماری بچی کہنے لگی کہ میں بائیک نہیں بیچنے دوں گی ،لیکن لڑکی کے والد نے اپنی بیٹی کو سمجھایا کہ لڑائی نہ کرو، گاڑی پھر آجائے گی، وہ گاڑی قرض والا لے گیا۔ پھر وہ کچھ دن ہمارے پاس رہا اور اس کا سارا خرچہ ہم لوگ اٹھاتے تھے،کچھ دن بعد اس کے گھر والوں نے اس کو بلا لیا،اس نے فیصل آباد میں موبائل قسطوں پر لیا تھا، اس کی قسط دینے کے ٹائم وہ کہتا تھا لڑکی کو کہ اپنے گھر والوں کو کہیں وہ قسط دیں گے ،اس بات پر لڑائی کرتا تھا،اس دوران اس نےفیصل آباد میں  تین چار فیصل بیسی ڈالی ہوئی تھیں جو وہ شروع میں لےکر چلا گیا، اس کی بقایابیسی ہم نےبھری ،

اس دروان اللہ پاک نےبچی کوبیٹادیا،وہ نہیں آیا،نہ آپریشن کےٹائم ،بچےکی شکل بھی نہیں دیکھی ،اب تک توہم نےیہ سب باتیں برداشت کررہےتھے،کہ کوئی بات نہیں ،بچی کاگھربستارہے،لیکن اس باراس نےحدکردی پھر ہم نے سوچا کہ یہ لڑکاشروع دن سےہمیں تنگ  کرتا آرہا ہے۔ ہم نے بچی کو سمجھایا ،اس سے فیصلہ لے لیتے ہیں، پھر بچی کچھ دن ہمارے گھر بیٹھی رہی۔ پھر لڑکے کی کال و غیرہ آنے لگی تو لڑکی نے کہا بیٹھ کر بات کرتے ہیں، تو ہم نے صلح کر لی۔ پھر وہ ہماری بچی کو لیکر اپنے گھر جھنگ چلا گیا، پھر بھی کو وہ بچی کو تنگ کرنے لگ،ا مار پیٹ کرنے لگا، جہیز کا سامان بیچنا شروع کر دیا، فریج ، گیزر وغیرہ سب مہنگی اشیاء بیچ دی، اس بات پر دونوں میاں بیوی کی لڑائی ہونے لگی،اس دوران لڑکا کام وغیرہ بھی نہیں کرتا تھا، لڑکے کی اپنے بھائیوں سے بھی لڑائی ہو گئی، اس کے بعد ان کو گھر سے نکلوا دیا، پھر وہ فیصل آباد آگیاکہ  میں ادھر ہی رہوں گا ،ادھر ہی کام کروں گاپھر ہم نے اس کو دوبارہ کام  لگواکردیا، اس دوران اللہ پاک نے اُن کو پھر سے خوشی دی،پھربھی  دونوں میاں بیوی کی اکثر لڑائی ہوتی رہتی تھی،پھر وہ چھوڑکر چلا گیا ،پھر ہم ان کے گھر گیے،اس کے بڑوں سے بات کرنے ،ان لوگوں نے ہمیں بہت بے عزت کیا اور گھر سے دھکے دے کر نکال دیا۔ پھر ہم نے ان سے کہا جو سامان موجود ہے وہ ہمیں دے دو اور بچی کو طلاق دے دو، جو تم لوگوں نے بیچ دیا وہ ہم نہیں لیتے۔ لیکن ان لوگوں نے کہا ،نہ ہم طلاق دیں گے نہ سامان دیں گے تم لوگ عدالت سے لیلو لیکن ہم نے اپنے شہر کے بہت سے معززلوگوں کو اکٹھا کر کے پنچائیت کی کہ ہمارا فیصلہ کرو، لیکن وہ کسی بات پر بھی نہ  آئے۔ وہ سب کو کہنے لگے کہ عدالت سے لےلو، اب کا فیصلہ عدالت میں ہوگا، پھر ہم عدالت چلےگیے، حج صاحب نے لڑکی سے پوچھا تم کیا چاہتی ہو؟ لڑکی نے کہا میں طلاق چاہتی ہوں کیونکہ یہ کام بھی نہیں کرتا، جوا کھیلتا ہے اور میرا سارا جہیز کا سامان بیچ دیا ، مجھے مجبور کرتا ہے کہ اپنے گھر والوں سے مجھے پیسے لےکر دو، میں نے بہت دفعہ لےکر دیے جو ہزاروں میں ہیں،جج نے لڑکے سے پوچھا تم کیا چاہتے ہو؟ لڑکے نے کہا میں بسانا چاہتا ہوں ،جج نے پوچھا تم کتنا کماتے ہو ؟تو اس نے کہا چھ سو 600 ر رہے مہینہ کماتا ہوں، تو جج  نے کہا پھر ٹھیک ہے،لڑکی  تجھ سے طلاق لینا چاہتی ہے، حج نے جو اس سے سوال کیےوہ  سب میں جھوٹا ثابت ہوا تو جج نے ہمارے حق میں فیصلہ  سناتے ہوئے خلع  دے دیا۔

اس کےبعد ہم نے میونسپل  کمیٹی کی طرف سے ہر مہینہ ان کے گھر نوٹس بھجوائے،تین مہینے تک وہ کسی نوٹس پر نہیں آیا ، تو میونسپل کمیٹی والوں نے ہمیں قانونی طور پر طلاق لکھ کر دے دی،لڑکے نے دستخط نہیں کیےتھے، اب اس بات کو ڈیڑھ سال ہو گیا ہے۔ نہ  ہمیں سامان ملا، نہ ہی اس نے لکھ کر یا بول کر طلاق دی۔ وہ کہتا ہے کہ میں اس کو طلاق نہیں دوں گا اس کو ساری زندگی ایسے ہی ذلیل کروں گا، اس دوران  کچھ دن پہلے لڑکے نے دوسری شادی کرلی ہے،دوسری لڑکی کے گھر والوں کو کہا کہ ہم نے پہلی بیوی کو طلاق دے دی ہے، ہم نے عدالت کی طلاق کو مان کر دوسری شادی کی ہے، اس لڑکے کی بہن کی ریکار ڈنگ ہمارے پاس موجود ہے، جس میں وہ بول رہی ہے کہ ہم نے اس لڑکی کو یعنی پہلی بیوی کو طلاق دے دی ہے۔

 اب آپ ہماری شرعی راہنمائی فرمائیں، طلاق ہوئی یا نہیں ؟ ہماری بیٹی کے دو بچے ہو گئے ہیں، ہم نے اپنی بیٹی کی آگے شادی کرنی ہے ، ہم بہت پریشان ہیں عدالت تو کہتی ہے کہ طلاق ہو گئی ہے، اب آپ ہی راہنمائی فرما دیں، اس تحریر میں ہم نے جو و باتیں لکھی ہیں، سب سچ ہیں ہم ان سب باتوں کے ذمہ دار ہیں۔

ویسے ہم نے طلاق کے پیپر پر اس کا انگوٹھے کا نشان لگایا ہوا ہے، اس کو اس بات کا نہیں پتا،وہ اب ہمیں بہت تنگ کر رہا ہے ہم سب کو وہ اب بہت گالیاں دیتا ہے ، لڑکی کو وہ بہت بد نام کرتا ہے، الٹی سیدھی باتیں کرتا ہے، ہم بہت پریشان ہیں،برائےمہربانی رہنمائی فرمادیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں اگرواقعتاشوہرکی طرف سےایسارویہ ہو،مستقل لڑائی جھگڑا،دودفعہ صلح کےبعد بھی  بیوی  اوربچوں کانان نفقہ نہیں دےرہااورعدالت میں بھی پیش ہوکریہ کہہ چکاہےکہ میں طلاق نہیں دونگا،اس کےبعد بھی  نان نفقہ کاانتظام نہیں کرتاتواس کےبعدچونکہ شرعی طورپراسباب فرقت میں سےایک سبب "تعنت فی النفقہ"پایاجاتاہے(یعنی شوہرگنجائش کےباوجود بیوی بچوں کانان نفقہ نہ دے)اس لیے بیوی کوشرعی طورپر یہ اختیارحاصل ہےکہ وہ عدالت کےذریعہ فسخ نکاح/ تفریق کروالے،لیکن ضروری ہےکہ فسخ نکاح کاجوشرعی طریقہ ہے،اس کےمطابق فسخ نکاح کروایاجائے ایسی صورت میں عدالت کےذریعےفسخ نکاح کاطریقہ (جو  حکیم الامۃ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی مشہورکتاب الحیلۃ الناجزہ للحلیلۃ العاجزہ میں مذکورہے)اختیارکیاجاسکتاہے۔

"الحیلۃ الناجزۃ للحلیلۃ العاجزہ" ص 101:

صورت تفریق یہ ہےکہ عورت اپنامقدمہ  قاضی اسلام یامسلمان حاکم اوران  کےنہ ہونےکی صورت میں جماعت مسلمین  کےسامنےپیش کرےاورجس کےپاس پیش ہووہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کےذریعہ سےپوری تحقیق کرےاوراگرعورت کادعوی صحیح ثابت ہوکہ باوجود وسعت کےخرچ نہیں دیتا،تواس کےخاوند سےکہاجائےکہ اپنی عورت کےحقوق اداء کرویاطلاق دےدو،ورنہ ہم تفریق کردیں گے،اس کےبعد بھی اگروہ کسی صورت پرعمل نہ کرےتوقاضی یاشرعاجواس کےقائم مقام ہو،طلاق واقع کردے،اس میں کسی مدت کےانتظا راورمہلت کی باتفاق مالکیہ  ضرور ت نہیں۔۔۔

مذکورہ بالاتفصیل کےمطابق فیصلہ کیاجائےتووہ عدالت کافیصلہ شرعامعتبرہوگااگرچہ عدالتی فیصلہ میں خلع لکھاگیاہواوریہ فسخ نکاح  طلاق بائن کےحکم میں ہوگا، اس کےبعدعورت عدت(تین ماہواریاں)گزارکردوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔

اوراگرعدالت کےچکرلگانامشکل ہوں اوریہ گمان ہوکہ عدالت میں فیصلہ میں تاخیرہوگی،جیساکہ آج کل عدالتوں  کی صورت حال ہےتوپھراس کاآسان طریقہ یہ ہےکہ عورت جماعۃ المسلمین(چندعلماء ومفیتان کرام کی جماعت/یامعتبردارالافتاء کےچندمفتیان کرام )کےسامنےدوگواہوں کی موجودگی میں اپنادعوی ثابت کرےاوریہ جماعت یادارالافتاءکےحضرات گواہوں کےذریعہ پورےمعاملےکی اچھی طرح تحقیق کریں،پھرشرعی طریقےکےمطابق  فسخ نکاح کافیصلہ  کردیاجائےتوبھی یہ فیصلہ شرعامعتبرہوگا۔

مذکورہ صورت میں جج نےاگر مذکورہ بالاشرعی طریقے کے مطابق گواہوں کے ذریعے تحقیق کرنے کے بعد خلع کافیصلہ کیاہےتویہ فیصلہ نافذہےاوراس کے نتیجے میں نکاح فسخ ہوچکاہے،فیصلہ کی تاریخ سےبیوی عدت گزارکردوسری جگہ شادی کرسکتی ہے۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی فی سورۃ البقرة آیت  229 :

فان خفتم ألایقیماحدوداللہ فلاجناح علیہما فیماافتدت بہ۔

" الھندیة"1  /488 :

اذاتشاقا الزوجان وخافاأن لایقیما حدوداللہ فلابأس بأن تفدی نفسہا منہ بمال یخلعہا بہ۔

"ردالمحتارعلی الدرالمختار" 12/109 :

وشرطہ کالطلاق (وھواھلیة الزوج وکون المراة محلاللطلاق منجزا،اومعلقاعلی الملک،امارکنہ فھوکمافی البدائع اذاکان بعوض الایجاب والقبول لانہ عقد علی الطلاق بعوض ۔

الموسوعة الکویتیة" 29/  54:

الطلاق:نوع من انواع الفرقة وھوملک للزوج وحدہ ،ذالک ان الرجل یملک مفارقة زوجتہ اذاوجد مایدعوہ الی ذالک بعبارتہ وارادتہ المنفردة ،کماتملک الزوجة طلب انھاء علاقتھاالزوجیة اذاوجد مایبررذالک،کاعسارالزوج بالنفقة،وغیبة الزوج،وماالی ذالک من اسباب اختلف الفقہاءفیھاتوسعةوتضییقا۔ولکن ذالک لایکون بعبارتھاوانما بقضاء القاضی  الاان یفوضھا الزوج بالطلاق فانھافی ھذہ الحالۃ تملکہ بقولھاایضا۔

وذھب المالکیة الی اٴن واجب الحکمین الاصلاح اولا،فان عجز اعنہ لتحکمالشقاق کان لھماالتفریق بین الزوجین دون توکیل ،ووجب علی القاضی ،امضاء حکمھمابھذالتفریق ،اذااتفقاعلیہ وان لم یصادف ذالک اجتھادہ ۔

التفریق لسوء المعاشرة :

نص المالکیة علی ان الزوجة اذااضربھازوجھاکان لھاطلب الطلاق منہ لذالک،سواءتکرر منہ الضررام لا،کشتمھا،وضربھا ضربامبرحا،وھل تطلق بنفسھاھنابامرالقاضی اویطلق القاضی عنھا؟قولان للمالکیة ولم ارمن الفقہاء الآخرین من نص علیہ بوضوح ،وکانھم لایقولون بہ مالم یصل الضررالی حد اثارة الشقاق ،فان وصل الی ذالک ،کان الحکم کماتقدم ،من لہ حق الطلاق ۔بحوالہ "فتاوی عثمانی "2/462 :"

"ردالمحتارعلی الدرالمختار"3/444:

وحکمہ ان)الواقع بہ(ولوبلامال)وبالطلاق الصریح)علی مال طلاق بائن(وثمرتہ فیمالوبطل البدل  کماسیجیء۔

"المبسوط" 8 /  311:"قال اللہ تعالی فی سورۃ البقرۃ( آیت: 227)

وإن عزموا الطلاق فإن الله سميع عليم۔۔۔وهو إشارة إلى أن عزيمة الطلاق بما هو مسموع وذلك بإيقاع الطلاق أو تفريق القاضي ، والمعنى فيه أن التفريق بينهما لدفع الضرر عنها عند فوت الإمساك بالمعروف ، فلا يقع إلا بتفريق القاضي كفرقة العنين ، فإن بعد مضي المدة هناك لا تقع الفرقة إلا بتفريق القاضي بل أولى ؛ لأن الزوج هناك معذور وهنا هو ظالم متعنت ، والقاضي منصوب لإزالة الظلم فيأمره أن يوفيها حقها ، أو يفارقها ، فإن أبي ناب عنه في إيقاع الطلاق وهو نظير التفريق بسبب العجز عن النفقة ۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

10/محرم الحرام 1447ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب