03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مستقبل کےالفاظ سے طلاق کو معلق کرنے کا حکم
89714طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

زید نے اپنی بیوی کے بارے میں تنہائی میں یہ سوچتے ہوئے کہ: اگر بیوی نے اپنی روش برقرار رکھی، تو میں وہاں موجود لوگوں کو گواہ بنا کر کہوں گا  "تم لوگ گواہ رہو، میں نے اس کو ایک طلاق دی"۔

  (تنہائی میں زید نے یہ الفاظ بڑبڑا کر ادا بھی کر دیے، لیکن اس وقت نہ بیوی موجود تھی، نہ کوئی اور شخص یا گواہ۔ نیت یہ تھی کہ مستقبل میں اگر ایسی صورت پیش آئی تو میں یہ الفاظ کہوں گا) زید کو یہ یاد نہیں کہ بڑبڑاتے وقت اس کی آواز کتنی بلند تھی، یعنی وہ اپنی آواز خود اپنے کانوں سے سن سکتا تھا یا نہیں۔اب سوال یہ ہے کہ: کیا اس صورت میں ان الفاظ سے ایک طلاق  واقع   ہوگئی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ طلاق ماضی یا حال  کے الفاظ سے واقع ہوتی  ہے، مستقبل کے الفاظ  سےطلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی،  لہذا صورت مسئولہ میں زید کا  اپنی بیوی کے بارے میں یہ کہنا : ''میں وہاں موجود لوگوں کو گواہ بنا کر کہوں گا کہ :تم لوگ گواہ رہو، میں نے اس کو ایک طلاق دی'' چونکہ یہ ایک وعدہ اور دھمکی ہے ،طلاق نہیں، اس لیے اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، چاہے بعد میں بیوی وہی روش برقرار بھی رکھے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن الهمام  رحمہ اللہ:ولا يقع بأطلقك ‌إلا ‌إذا ‌غلب ‌في ‌الحال، ولو قالت أنت طالق فقال: نعم طلقت. ولو قال له في جواب طلقني لا تطلق وإن نوى. )فتح القدير  :4/ 7)

في تنقيح الفتاوى الحامدية:صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق ‌إلا ‌إذا ‌غلب ‌في ‌الحال كما صرح به الكمال بن الهمام .(تنقيح الفتاوى الحامدية:1/ 38)

قال العلامۃ ابن  ابن عابدین  رحمہ اللہ:بخلاف قوله طلقي نفسك فقالت أنا طالق أو أناأطلق نفسي لم يقع ؛لأنه وعد . جوهرة.ما لم یتعارف أو تنو الإنشاء.(رد المحتار:4/548)

سخی گل بن گل محمد             

دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی                                            

/19رجب المرجب ،1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سخی گل بن گل محمد

مفتیان

سعید احمد حسن صاحب / مفتی محمد صاحب