| 89731 | حدیث سے متعلق مسائل کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
کیا لوگوں کو ضعیف حدیث پر عمل کرنے کیلئے ترغیب دی جا سکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جمہور محدثین و فقہائے کرام نے حدیثِ ضعیف پر عمل کرنے کے لیے درج ذیل شرائط بیان کی ہیں:
- حدیث کا ضعف شدید نہ ہو، یعنی ایسا ضعف ہو جو متابعات اور شواہد سے منجبر ہوسکتا ہو۔ لہذا جس راوی کی عدالت یا ضبط پر شدید جرح کی گئی ہو اس کی روایت کسی بھی حال میں قبول نہیں کی جائے گی ۔
- وہ حدیث کسی دوسری صحیح حدیث یا اصولِ دین سے متصادم نہ ہو اور اس کی اصل شریعت میں موجود ہو۔
- اس کے ثبوت کا اعتقاد نہ رکھا جائے، بلکہ ضعیف ہونے کا اعتقاد رکھا جائے ؛ تاکہ حضور ﷺ کی طرف کسی غیر محقق قول کی نسبت لازم نہ آئے۔
- حدیث سے احکام شرعیہ ، مثلا حلال و حرام اور احکام اعتقادیہ کا ثبوت یا نفی نہ ہوتی ہو، بلکہ حدیث سے محض ترغیب وترہیب کا فائدہ ہوتا ہو۔
- حدیث کا تعلق ایسے عمل کی فضیلت سے ہو جو فی الجملہ دوسرے قوی دلائل سے ثابت ہو، مثلا تلاوتِ قرآن پاک، ذکر واذکار، صدقہ کرنے، لوگوں کے ساتھ نیکی کرنے وغیرہ نیک کاموں کی فضیلت اور جھوٹ، خیانت وغیرہ گناہ کے کاموں پر وعید سے متعلق ہو۔
- اس کی تشہیرنہ کی جائے، تاکہ کہیں عوام الناس جنہیں صحیح اور ضعیف حدیث کا علم نہیں ہوتا اسے صحیح ثابت شدہ اور سنت نہ سمجھیں۔
اگر کسی ضعیف حدیث میں مذکورہ شرائط پائی جائیں تو پھر فضائلِ اعمال، ترغیب و ترہیب، قصص اور مغازی وغیرہ میں اس پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
تاہم اگر ضعف شدید ہو یا روایت موضوع ہو تو اسے بیان کرنا اور اس کی بنیاد پر ترغیب دینا جائز نہیں۔
حوالہ جات
قال عبد القاهر الجرجاني في "درج الدرر في تفسير الآي والسور" (2/20):
"فعن أحمد بن حنبل قال: إذا روينا عن رسول الله في الحلال والحرام والسنن والأحكام تشددنا في الأسانيد، وإذا روينا في فضائل الأعمال، وما لا يضع حكما ولا يرفعه تساهلنا في الأسانيد. وأظن أن الإمام أحمد لم يرد بهذه المقولة الأحاديث الضعيفة المتهالكة التي لا تجبر، أو الأحاديث الموضوعة المختلقة على النبي صلى الله عليه وسلم، ولكنه أراد الأحاديث التي يمكن أن تجبر بغيرها سواء بالمتابعة أو الشواهد".
وقال السخاوي في "القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع" (صـ 255):
"وقد سمعت شيخنا مرادا يقول وكتبه لي بخطه أن شرائط العمل بالضعيف ثلاثة، الأول متفق عليه: أن يكون الضعف غير شديد، فيخرج من انفرد من الكذابين والمتهمين بالكذب ومن فحش غلطه، الثاني: أن يكون مندرجا تحت أصل عام، فيخرج ما يخترع بحيث لا يكون له أصل أصلا، الثالث: أن لا يعتقد عند العمل به ثبوته لئلا ينسب إلى النبي صلى الله عليه وسلم ما لم يقله".
توجيه النظر إلى أصول الأثر (2/ 653):
وقد ذكر الحافظ ابن حجر أن للأخذ بالحديث الضعيف في الفضائل ونحوها عند من سوغ ذلك ثلاثة شروط :
أحدها أن يكون الضعيف غير شديد الضعف فيخرج من انفرد من الكذابين والمتهمين بالكذب ومن فحش غلطه وقد نقل بعضهم الاتفاق على ذلك.
الثاني أن يندرج تحت أصل معمول به.
الثالث أن لا يعتقد عند العمل به ثبوته بل يعتقد الاحتياط.
وقد ذكر هذين الشرطين ابن عبد السلام وابن دقيق العيدويظهر من الشرط الثالث أنه يلزم بيان ضعف الضعيف الوارد في الفضائل ونحوها كي لا يعتقد ثبوته في نفس الأمر مع أنه ربما كان غير ثابت في نفس الأمر.
شرح مقدمة صحيح مسلم(2/ 9 بترقيم الشاملة آليا):
وباب الفضائل كما هو معروف عند الجمهور، أن الأحاديث الضعيفة يعمل بها في فضائل الأعمال، يعمل تورد في المغازي والسير والتفسير وغيرها من الأبواب التي يتسامح فيها جمهور أهل العلم.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
16/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


