| 88405 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم!
ہمارے ایک عزیز کا سوال ہے کہ وہ ایک فلیٹ کے مالک ہیں، شادی شدہ ہیں اور تین بیٹیوں کے والد ہیں۔ وہ اپنی وفات کے بعد اپنی جائیداد کے دو تہائی (2/3) حصے کی وصیت اپنی مذکورہ شرعی ورثاء (بیوی اور تین بیٹیوں) کے لیے مساوی حصوں میں کرنا چاہتے ہیں، اور اپنی بیوی کو اپنی وفات کے بعد اس جائیداد کی منتظم مقرر کرنا چاہتے ہیں۔ کیا شرعی اعتبار سے وہ ایسا کر سکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعاً کسی وارث کے لیے وصیت کرنا معتبرنہیں،وصیت صرف غیر وارث کےلیے ہوسکتی ہے، البتہ اگروہ کرلے اور انتقال کے بعد دیگر ورثہ اپنی خوشی سے اس وصیت پرعمل کی اجازت دیدیں تواس کی گنجائش ہے، بشرطیکہ وہ سب ورثہ عاقل بالغ ہوں۔ تاہم اگر دیگر ورثہ اس وصیت پر عمل کرنےکیلئےراضی نہ ہوں تو پھر اس طرح کی وصیت باطل ہوگی،اوراس کا اعتبارنہیں ہوگا۔
یہ شخص اگر اپنا یہ فلیٹ صرف اپنے ان چار ورثہ کودینا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی زندگی ہی میں اس کو ہبہ(گفٹ) کردے،اور ساتھ میں قبضہ بھی دیدے اس طور پر کہ اپنے تمام اختیارات اور حقوق ان کے حق میں منتقل کرلے،اس مکان میں موجود اپنا سامان بھی ان کو گفٹ کردے یا اپنے ساتھ کچھ وقت کے لیے باہر لیجائے،یا ان کے پاس بطور امانت رکھوادے،جب یہ مرحلہ مکمل ہوجائے تو اہلیہ اور بچیوں کا اس مکان پر قبضہ مکمل سمجھاجائے گا،لہذا یہ شخص ان کے ساتھ دوبارہ اس مکان میں رہنا شروع کرسکتاہے۔
اگر یہ مکان قابل تقسیم ہے یعنی تقسیم کرنے سے اس کے فوائد ختم نہیں ہوں گے بلکہ چاروں کےلیے اپنے اپنے حصے سے فائدہ اٹھانا ممکن ہو،اس میں رہائش کے لیے کمرہ ،باورچی خانہ،اور واش روم موجود ہو،تو ایسی صورت میں ہرایک کاحصہ متعین کرکے دیدے۔
اگر مکان ناقابل تقسیم ہے یعنی چھوٹا ہے کہ تقسیم کرنے سے اوپر ذکرکردہ صورت کے مطابق ہرایک کو اپنے حصے سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں مل سکتا ہے تو پھر مشترکہ طور پر گفٹ کردیدے۔
حوالہ جات
وفی سنن أبى داود (3 / 73)
عن شرحبيل بن مسلم سمعت أبا أمامة سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول « إن الله قد أعطى كل ذى حق حقه فلا وصية لوارث ».
وفی الدر المختار (6 / 649)
وشرائطها أي شرائط الوصية۔۔۔(و) كونه (غير وارث) وقت الموت.
وفی الفتاوى الهندية - (6 / 90)
ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي حتى كان لهم الرجوع بعد ذلك، كذا في فتاوى قاضي خان ويعتبر كونه وارثا أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية حتى لو أوصى لأخيه وهو وارث ثم ولد له ابن صحت الوصية للأخ……. وفي كل موضع يحتاج إلى الإجازة إنما يجوز إذا كان المجيز من أهل الإجازة نحو ما إذا أجازه وهو بالغ عاقل صحيح، كذا في خزانة المفتين."
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
22/ صفر 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


