| 88395 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
اگر دوران معاہده میری وفات ہو جائے تو کیا معاہدہ ختم ہو جائے گا؟کیا میرے ورثاء پر شرعی طور پر یہ قرض لازم ہوگا؟کیا معاہدے میں پہلے سے یہ شرط رکھنا جائز ہوگا کہ وفات کی صورت میں ادائیگی لازم نہیں رہے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر مکان خریدا ہے تو وفات کے بعدبھی معاہدہ برقرار رہے گا،اس کی قیمت کی ادائیگی ورثہ کے ذمہ ضروری ہے،ترکہ میں سے پہلے یہ قرضہ ادا کیاجائے گا،اس صورت میں یہ شرط رکھنا کہ وفات کی صورت میں ادائیگی لازم نہیں رہے گی، معتبر نہیں ہے،بلکہ یہ آپ کے ذمہ قرض ہے،جوکہ آپ کے ترکہ میں سے ورثہ اداکریں گے۔
اگر خریداری نہیں کی ہے بلکہ فقط لینے کا وعدہ کیا ہے تو پھر ورثہ پر شرعا ادائیگی لازم نہیں ہوگی،بلکہ یہ جائیداد آپ اور آپ کے بھائیوں اور بہنوں کے درمیان اپنے حصوں کے طور پر تقسیم ہوگی، آپ کا حصہ فقط آپ کے ورثہ کو ملے گا۔
حوالہ جات
وفی الدر المختاروحاشیة ابن عابدین(6/760):
ثم تقدم دیونہ التی لھا مطالب من جھة العباد۔
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
21/ صفر 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


