| 88394 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
معاہدہ طے پانے کے بعد اگر میں گھر میں مرمت یا تعمیراتی کام کرواتا ہوں، تو
1۔اگر معاہدہ مکمل نہ ہو سکا تو مرمت کے اخراجات کا شرعی حل کیا ہوگا؟
2۔اگر مرمت کے باعث گھر کی قیمت میں اضافہ ہو تو اس اضافی ویلیو کا فائدہ کس کو پہنچے گا؟
3۔کیا مرمت پر خرچ کی گئی رقم میرے حصے میں شمار کی جا سکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر یہ پراپرٹی آپ ان سے خرید لیتے ہیں تو اس کے اخراجات اور فوائد سب آپ کے ہیں،مرمت میں خرچ کی گئی رقم بھی آپ کے ذمہ ہے،اگر صرف وعدہ کر کے یہ پراپرٹی لیتے ہیں تو پھر اخراجات اگر آپ نے دیگر حصہ داروں کی مرضی یا تائید سے کیے ہیں وہ آپ وصول کرسکتے ہیں،ورنہ نہیں ،البتہ قیمت میں اضافی ویلیو میں سب حصہ دار شریک ہوں گے۔
حوالہ جات
و فی درر الاحکام ( 3/ 313):
الاحتمال الثالث - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بإذن الشريك الآخر أي أن تكون التعميرات الواقعة للمعمر وملكا له فتكون التعميرات المذكورة ملكا للمعمر ويكون الشريك الآخر قد أعار حصته لشريكه.الخ ۔
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
21/ صفر 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


