| 89963 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سوال یہ ہے کہ میری بہن یہاں سے کسی دوسرے گاؤں چچا کے گھر گئی ہوئی تھی بہنوئی کراچی میں تھا تو بہنوئی نے کل اپنے گھر میں کسی وجہ سے اپنی والدہ سے لڑائی کی تھی تو اس لڑائی کی وجہ سے بہنوئی غصے میں تھا اس نے اپنی بیوی کو کال کر دی کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں لیکن طلاق دینے والے کے دماغ میں تھا کہ موبائل پر طلاق نہیں ہوتی جب لڑکی کے بھائیوں کو معلوم ہوا تو وہ لڑکی جن کے گھر پر تھی انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ اس کے شوہر نے طلاق دے دی ہے جو کہ ہم نے سنا ہے شوہر سے جب پوچھا گیا کہ تم نے طلاق دی تو وہ کہنے لگا کہ دو طلاقیں دی ہیں بعد میں شوہر نے خود تصدیق کی کہ میں نے تین طلاقیں ہی دی ہیں لیکن اس کی نیت میں یہ تھا کہ موبائل پر طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی اس مسئلے پر مفتیان کیا فرماتے ہیں کہ طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
موبائل فون پر طلاق دینے سے بھی شرعا طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ لہذا شوہر نے اگر موبائل فون پر تین طلاقیں دے دی ہیں تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاق واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو گئی ہے۔ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے.
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 235):
(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح..
النتف في الفتاوى للسغدي (1/ 327):
فالمفصح على سبعة اوجه
احدها ان يقول لها انت طالق او انت طالق واحدة او انت طالق اثنتين او انت طالق ثلاثا او أنت الطلاق او طلقتك او يا مطلقة.
فهذه الالفاظ لا تحتاج الى النية والنية فيها لا تعمل شيئا»
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (4/ 177):
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها) والأصل فيه قوله تعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 236):
ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة.
عادل ارشاد
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
20/شعبان المعظم /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


