| 89954 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں یہ یہاں خلیجی ممالک سعودی عرب میں آج کل تقریبا اکثر خریداری قسطوں پر ہوا کرتی ہے، لیکن قسطوں پر خریداری کی نوعیت پاکستان جیسے نہیں ہے تھوڑی سی مختلف ہے یہاں سعودیہ عرب میں جب کسٹمر دکان پر خریداری کے لئے آتا ہے تو دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ نقد پر خریداری کر کے چلے جاتے ہیں اور سامان لے جاتے ہیں ۔
دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ اکثر عربوں کے پاس مہینے کے شروع ہی میں پیسے ختم ہوجاتے ہیں تو پھر ان کو اگر کوئی چیز خریدنا ہو تو قسطوں پر خریدتے ہیں پھر قسطوں کے خریداری والے معاملات کے لئے یہاں سعودیہ میں کچھ ادارے ہیں جو دکان مالک اور کسٹمر کے درمیان قسطوں پر خریداری والے معاملے کو سر انجام دیتی ہے اور یہ سارا معاملہ موبائل فون پر ایک ایپ (tabby یا Tamara) کے ذریعے سر انجام ہوتی ہے ہوتا یہ ہے کہ اکثر سعودی لوگوں نے اپنا اکاؤنٹ رجسٹرڈ کیا ہوا ہے ان دو اداروں میں اور ان دو اداروں کا ایپ بھی پلے سٹور پر موجود ہے اور جو دکان قسطوں پر چیزین فروخت کرتی ہے انہوں نے بھی اپنا اکاؤنٹ رجسٹرڈ کیا ہوتا ہے ان اداروں میں پورا پروسس ہوتا ہے رجسٹرڈ کا ، وہ انسٹال کر دیتے ہیں ایپ کا نام بھی یہی تابی اور تمارا ہے بس کسٹومر کو جب قسطوں پر خریداری کا ان کا ارادہ ہوتا ہے تو اس ادارے کے ترو قسطوں پر خریداری کرتے ہیں۔
مثلا کسٹمر دکان آتا ہے پوچھتا ہے کہ تابی تمارا کے ذریعے فروخت کرتے ہو دکان والا کہتا ہے جی ہاں یا دکان کے پورڈ پر تابی تمارا کا لوگو لگا دیتے ہیں جس سے ہر راہ گزر کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ دکان تا بی یا تمارا کے ترو بھی چیزین فروخت کرتا ہے تو کسٹمر دکان آتا ہے چیز پسند کرتا ہے دکان مالک ریٹ بتا تا ہے عموما ریٹ نقد کے مقابلے میں زیادہ بتا تا ہے دونوں کے درمیان رضامندی ہوتی ہے ریٹ پر اب یہاں کسٹمر کے پاس نقد پیسے نہیں ہوتے تو دکان دار سے کہتا ہے کہ تابی تمارا کے ذریعے ادا کروں گا اب دکان دار اور کسٹمر اس ایپ میں تابی تمارا کو ریکوسٹ کرتا ہے کہ میری پیمنٹ کرو مثلا ہزار روپے کوئی خاص طریقہ ہے مجھے یہ طریقہ کنفرم معلوم نہیں کہ کس طریقے سے یہ ایپ استعمال ہوتا ہے اور کس طریقے سے یہ تابی تمارا کو خبر کرتی ہے یا ریکویسٹ کرتی ہے خیر تابی بناتا کو مسج جاتے ہیں فورا ادائگی کا میسج دکان والے ایپ پر آتا ہے کہ یعنی وہ ہزار پیمنٹ ادا کر دیتا ہے یہ پروسس دس منٹ تک چلتا ہے یا اس سے بھی کم وقت میں تابی تمارا کسٹمر کی طرف سے ادائیگی کر دیتا ہے اب یہ پیسے اسی وقت دکان دار کو نہیں ملتے جس دن خریداری کی ہوتی ہے تقریبا تین یا چار دنوں میں یہ پیمنٹ دکان دار کے اکاؤنٹ میں آجاتا ہے اور یہ وضاحت کرتا چلوں کہ تابی یا تمارا دکان دار سے ہزار کے مقابلے میں 80 روپے کاٹتا ہے یعنی 920 روپے دکان دار کو ملتے ہیں یہ 80 روپے میرے خیال سے کمیشن یا پروڈکشن کے کاٹتا ہے یہ تابی تمارا والا دکان دار سے کاٹتا ہے کیوں کہ یہاں قسطوں پر اگر کاروبار کرنا ہو تو انہی اداروں کے ترو کر سکتے ہو اس کے علاؤہ کوئی شخصی طور پر قسطوں پر کاروبار نہیں کر سکتا جیسے پاکستان میں لوگ کرتے ہیں اور اسی اداروں کے ذریعے ہی لوگ دکان میں آکر خریداری کرتے ہیں ۔
اب یہاں کسٹمر چلا جاتا ہے اب یہاں دکان کا معاملہ ختم ہو جاتا ہے اب کسٹمر تابی تمارا کو ہزار روپے 4 یا 6 قسطوں میں ادا کرتا ہے پھر جب کوئی قسط میں تاخیر ہوتی ہے تو کٹوتی بھی نہیں کرتا ہاں اگر کوئی کسٹمر تابی تمارا کو قسط ادا کرنے میں تنگ کرتا ہو تو تابی تمارا ان سے خدمات چین لیتی ہے یعنی آئیندہ یہ بندہ کسی بھی دکان سے قسطوں پر خریداری نہیں کر سکتا ۔یہاں اکثر کاروبار انہی اداروں کے ترو قسطوں پر ہوا کرتی ہے ۔
بعض لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ یہ حرام ہے سود ہے اس لئے انہوں نے اپنی دکان انہی اداروں میں رجسٹرڈ نہیں کی ہوئی ہے جس کی بنا پر کسٹمر بہت کم آتے ہیں نقد خریداری کے لئے ،جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ حلال ہے انہوں نے دکان رجسٹرڈ کیا ہوا ہے ان کا کام ماشاءاللہ کافی اچھا ہے ،لوگ بڑی پریشانی سے دو چار ہے برائے مہربانی اس مسئلہ پر شرعی راہ نمائی فرمائیں ۔مزید معلومات ان کے ویب سائٹ پر موجود ہے آپ وہاں بھی دیکھ سکتے ہیں tabby /Tamara کے نام سے۔
آپ کے دارالافتاء سے ایک فتویٰ شائع ہوا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ہماری معلومات کے مطابق یہ جائز ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں دومختلف کمپنیوں کےذریعےقسطوں پر خریداری کے حکم کے حوالے سےپوچھا گیا ہے:
۱۔تمارا(Tamara)
۲۔تابی(Tabby)
تابی اور تمارا سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں آن لائن قسطوں پرخریداری میں سہولت فراہم کرنے والی الگ الگ کمپنیاں ہیں ،ذیل میں ان دونوں سے متعلق شرعی احکامات ذکر کئے جاتے ہیں:
تمارا ((Tamara کمپنی کی مالی معاملات کا طریقہ کار اور اس کا حکم:
تمارا سعودی عرب میں واقع ایک ایسی کمپنی ہےجو دیگر خلیجی ممالک میں بھی صارفین کو قسطوں پرخریداری کی سہولت فراہم کرتی ہے،ان کے اپنے آفیشل ویب سائٹ اور سائل کے فراہم کردہ دستاویزات کے بیان کےمطابق یہ کمپنی باقاعدہ مستند علماءکرام پر مشتمل ایک شریعہ بورڈکی زیرنگرانی اپنے تمام مالی معاملات ان کے بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق سرانجام دیتی ہے۔لہذا تماراکمپنی کے ذریعے قسطوں پر خریداری کرنا جائز ہے۔
تابی ((Tabby کمپنی کے مالی معاملات کا طریقہ کار :
تابی دبئی میں واقع ایک کمپنی ہے جو صارفین کو قسطوں پر خریداری کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ان کے آفیشل ویب سائٹ کے بیان کے مطابق یہ کمپنی اپنے صارفین کو خریداری کے وقت ایک مختصر مدت کا قرضہ فراہم کرتی ہے جس کاطریقہ کار درج ذیل ہے۔
BNPL (اب خریدو، بعد میں ادا کرو) پروڈکٹ صارفین کو مالی معاملات کو منظم کرنے میں مدد دیتا ہے، جس کے تحت صارفین ٹابی کمپنی سے قلیل مدتی قرض کی درخواست کر سکتے ہیں تاکہ خریداری کو آسان بنایا جا سکے اور ادائیگی کو چھوٹی اور/یا طے شدہ قسطوں ("قسطیں") میں تقسیم کیا جا سکے، بجائے اس کے کہ پوری رقم ایک ساتھ ادا کی جائے۔
کسی بھی Tabby پلیٹ فارم پر، چاہے آن لائن ہو یا اسٹور کے چیک آؤٹ پوائنٹ پر، Tabby کو بطور ادائیگی کا طریقہ منتخب کیا جاسکتاہے، اورصارفین کو ایک یا زیادہ ادائیگی کے اختیارات ("payment option") کی طرف رہنمائی دی جاتی ہے۔
البتہ کمپنی کی مالی معاملات کے ضوابط میں درج ذیل کچھ غیر شرعی امور بھی پائے جاتے ہیں؛
۱۔ کلیکشن چارجز کا اطلاق : اگر کوئی قسط کی ادائیگی رہ جائے۔ اگر قسط مقررہ تاریخ کے بعد چودہ (14) دن کے اندر ادا نہ کی جائے، تو اضافی کلیکشن چارجزاسی شرح پر وصول کیا جائے گا جو پہلے متعین کی گئی ہے۔
کلیکشن چارجز عام سروس چارجز سے الگ چارجز ہوتے ہیں جو صارف پر تاخیر سے ادائیگی کی وجہ سے لازم کیاجاتا ہے جوکہ سود کے زمرے آتاہے ۔
۲۔قرض کی مدت بڑھانے پر چارجز:آپ کسی بھی ادائیگی کی مقررہ تاریخ کو اس کی معیاد ختم ہونے سے پہلے فیس ادا کر کے بڑھا سکتے ہیں۔ یہ فیس توسیع کی مدت اور قسط کی رقم پر مبنی ہوتی ہے۔ فیس کا حساب اس طرح کیا جاتا ہے کہ قسط کی رقم پر فیصد کے حساب سے نکالی گئی رقم اور مقررہ زیادہ سے زیادہ حد (Cap Value) میں سے کم ترین رقم لی جاتی ہے۔
۳۔مختصرالمیعاد قرضہ کو طویل المیعاد بنانے پر فیس : مختصر ادائیگی کی منصوبہ بندی کو طویل ادائیگی کی منصوبہ بندی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ اس پر متعلقہ سروس فیس لاگو ہوگی۔
نقد ادائیگی میں کم اور تاخیر سے ادائیگی پر زیادہ قیمت وصول کرنا تو جائز ہےالبتہ تاخیر سےادائیگی کیلئے کوئی بھی مدت شروع میں ہی متعین کی جاسکتی ہے ،جس پر کمپنی پہلےسے طے شدہ قیمت وصول کرنےکا مجاز ہوگا ،لیکن ایک دفعہ مدت مقرر کرنے ک بعد دوبارہ مدت بڑھانے پر اضافی رقم کا مطالبہ کرنا قرض پر مشروط اضافہ کرنا ہےجو کہ ایک سودی معاملہ بن جاتاہے ۔
چونکہ کسی معاملے کے حلال وحرام ہونے کا مدار درحقیقت وہ معاہدہ ہوتا ہے جو فریقین کے درمیان طے پاتا ہے، تابی کمپنی کی سہولت حاصل کرنے والا صارف کمپنی کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں لی جانے والی رقم واپس نہ کر سکا تو ایک متعین شرح کے ساتھ جرمانہ کے نام پر سود ادا کروں گا۔اس طرح مندرجہ بالا شرائط کی وجہ سےیہ ایک سودی معاہدہ بن جاتا ہے ۔جس طرح سود کا لینا حرام ہے اسی طرح اس کا معاہدہ کرنا بھی شرعا ناجائز اور حرام ہے۔
تاہم اگر کسی جگہ شدید ضرورت ہو اورادائیگی کیلئے دوسرا کوئی متبادل طریقہ میسرنہ ہوتوبدرجہ مجبوری ایسی صورت میں مندرجہ ذیل شرائط کےساتھ تابی کمپنی کی خدمات حاصل کرنے کی گنجائش ہے:
۱۔کسٹمرمقررہ وقت سے پہلےپہلےاس رقم کی ادائیگی کااہتمام کرےتاکہ سود عائدہونےکاامکان باقی نہ رہے۔
۲۔کسٹمراس سہولت کو غیر شرعی امورمیں استعمال نہ کرے۔
۳۔اگرضرورت کسی دوسرے متبادل سے پوری ہورہی ہوتوبہتریہ ہےکہ تابی کمپنی کی سہولت کواستعمال نہ کرے۔
۴۔اگر چہ کسٹمر سود عائد ہونے سے پہلے پہلے ادائیگی کردے ،تاہم چونکہ تابی کمپنی کے ساتھ ایک سودی معاہدہ ہوا تھا ،لہذا کسٹمر پر لازم ہے کہ وہ یہ سودی معاہدہ کرنے پر توبہ و استغفار بھی کرے۔
حوالہ جات
بحوث في قضايا فقهية معاصرة(ص12)
"أما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثون، فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد،بشرط أن يبت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم، وبثمن متفق عليه عند العقد."
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري(6/ 203)
"قوله (وما لا يبطل بالشرط الفاسد القرض) بأن قال أقرضتك هذه المائة بشرط أن تخدمني شهرا مثلا فإنه لا يبطل بهذا الشرط وذلك؛ لأن الشروط الفاسدة من باب الربا وأنه يختص بالمبادلة المالية وهذه العقود كلها ليست بمعاوضة مالية فلا تؤثر فيها الشروط الفاسدة ذكره العيني"
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي(5/ 169)
"لأن الربا هو الفضل الخالي عن العوض، وحقيقة الشروط الفاسدة هي زيادة ما لا يقتضيه العقد ولا يلائمه فيكون فيه فضل خال عن العوض وهو الربا بعينه"
الاختيار لتعليل المختار (3/ 9)
"ولو صالحه على ألف مؤجلة بخمسمائة حالة لم يجز ; لأنه اعتياض عن الأجل، ولا يجوز ; لأن المعجلة خير من المؤجلة، فيكون التعجيل بإزاء ما حط عنه فلا يصح."
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (4/ 62)
"إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي…والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."
صدام حسین
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
/02شعبان 1447/ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صدام حسین بن ہدایت شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


