| 89900 | پاکی کے مسائل | موزوں پرمسح کرنے کا بیان |
سوال
مفتی صاحب ! میڈیکیٹڈ پلاسٹر (Medicated Plaster) یا درد کا پلاسٹر ایک ایسی طبی پٹی ہے جو پٹھوں کے کھچاؤ، جوڑوں کے درد اور موچ کی صورت میں متاثرہ جگہ پر حرارت اور ادویات پہنچانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ طبی لحاظ سے اسے بار بار اتارنے سے پلاسٹر کی اثر پذیری ختم یا کم ہو سکتی ہے اور درد میں اضافہ، جلد کے چھلنے یا الرجی کا خطرہ ہوتا ہے اور علاج کا تسلسل ٹوٹنے سے شفا یابی کا عمل سست پڑ سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر جسم پر کوئی ظاہری زخم موجود نہ ہو، تو ایسی پٹی لگے ہونے کی صورت میں وضو اور غسل کا شرعی حکم کیا ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر جسم پر کوئی ظاہری زخم نہ ہو تب بھی میڈیکیٹڈ پلاسٹر (٘Medicated plaster) کا شرعاً وہی حکم ہے جو پٹی یا جبیرہ کا ہے، کیونکہ طبی ضرورت کے تحت اسے بار بار اتارنا تکلیف میں اضافے یا شفا یابی میں تاخیر کا باعث بن سکتا ہے۔ لہذا اگر پٹی ہٹانا یا براہِ راست کھال پر مسح کرنا مضر ہو، تو پلاسٹر کو ہٹائے بغیر ہی اس کی پوری سطح پر گیلے ہاتھ سے ایک بار مسح کر لینا کافی ہے۔اور اگر میڈیکیٹڈ پلاسٹر سوراخ دار ہو اور ان سوراخوں سے پانی گزارنے سے درد یا پلاسٹر کی گرفت متاثر نہ ہوتی ہو تو پانی گزارنا بہتر ہے ورنہ صرف مسح کرنا ہی کافی ہے۔
یاد رکھیں نقصان سے مراد وہ معتدبہ(بڑا) نقصان ہے، جس سے بیماری طول پکڑے یا تکلیف میں شدت آئے، معمولی چبھن یا خیالی اندیشے کا شرعاً اعتبار نہیں ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار (1/ 468):
قال العلامة حصکفی رحمہ اللہ: (حكم مسح جبيرة ) هي عيدان يجبر بها الكسر ( وخرقة قرحة وموضع فصد ) وكي ( ونحو ذلك ) كعصابة جراحة ولو برأسه ( كغسل لما تحتها ) فيكون فرضا يعني عمليا لثبوته بظني وهذا قولهما وإليه رجع الإمام، خلاصة، وعليه الفتوى.… ( ويترك ) المسح كالغسل ( إن ضر وإلا لا ) يترك ( وهو ) أي مسحها ( مشروط بالعجز عن مسح ) نفس الموضع ( فإن قدر عليه فلا مسح ) عليها. والحاصل لزوم غسل المحل ولو بماء حار، فإن ضر مسحه، فإن ضر مسحها، فإن ضر سقط أصلا.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق ومعه حاشية الشلبي - الزيلعي (156/1)
قال العلامۃ الزیلعی رحمہ اللہ علیہ: (ويمسح على كل العصابة كان تحتها جراحة أو لا) هذا إذا كان يضره نزعها وغسل ما تحتها كالجبيرة. ولو دخل تحتها موضع صحيح أجزأه المسح للضرورة لأن العصابة لا تعصب على وجه يأتي على موضع الجراحة فحسب بل يدخل ما حول الجراحة تحت العصابة. وسوّى بين الجراحة وغيرها مثل الكي والكسر لأن الضرورة تشمل الكل. وقوله : ويمسح على كل العصابة لأن الواجب انتقل إليها وكذا الجبيرة يمسح على كلها لأن الاستيعاب واجب . وذكر الحسن أن المسح على الأكثر كاف لأنه قائم مقام الكل، ولو انكسر ظفره فجعل عليه دواء أو علكاً فإن كان يضره نزعه مسح عليه . وإن ضره المسح تركه. وشقوق / أعضائه عليها الماء إن قدر وإلا مسح عليها إن قدر وإلا تركه وغسل ما حولها.
رد المحتار على الدر المختار (1/ 471):
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ: (قوله على كل عصابة) أي على كل فرد من أفرادها سواء كانت تحتها جراحة وهي بقدرها أو زائدة عليها كعصابة المفتصد، أو لم يكن تحتها جراحة أصلا بل كسر أو كي، وهذا معنى قول الكنز كان تحتها جراحة أو لا، لكن إذا كانت زائدة على قدر الجراحة، فإن ضره الحل والغسل مسح الكل تبعا وإلا فلا، بل يغسل ما حول الجراحة ويمسح عليها لا على الخرقة، ما لم يضره مسحها فيمسح على الخرقة التي عليها ويغسل حواليها وما تحت الخرقة الزائدة؛ لأن الثابت بالضرورة يتقدر بقدرها كما أوضحه في البحر عن المحيط والفتح.
ظہوراحمد
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
7 شعبان المعظم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


