03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عملہ کی ماہانہ تنخواہ میں تیس سے کم وبیش دنوں کا حساب نہ کرنے کا حکم
89854اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ ہمارا ایک ریسٹورنٹ ہے اور ہم اپنے عملے کو ماہانہ تنخواہ دیتے ہیں، ہم ہمیشہ30 دن کے حساب سے تنخواہ طے کرکےادا کرتے ہیں، جبکہ حقیقت میں مہینوں کی دنوں کی تعداد مختلف ہوتی ہے، مثلاً:

   •        اکثر مہینے 31 دن کے ہوتے ہیں۔

   •        کچھ مہینے 30 دن کے ہوتے ہیں۔

   •        اور فروری 28 یا 29 دن کا ہوتا ہے۔

جب مہینہ 31 دن کا ہوتا ہے تو ہم اضافی ایک دن کی الگ سے کوئی رقم نہیں دیتے،اور جب مہینہ 28 یا 29 دن کا ہوتا ہے تو پھر بھی ہم پورے 30 دن کی تنخواہ ادا کرتے ہیں، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں:

  1. کیا ہمارا یہ طریقۂ کار شرعاً درست ہے؟

 2. اگر درست نہیں ہے تو تنخواہ دینے کا صحیح شرعی طریقہ کیا ہونا چاہیے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں جب عملہ کی تنخواہوں کا حساب مہینہ کے آخر میں کیا جاتا ہے اور ادائیگی بھی شمسی اعتبارسے ہر ماہ مکمل ہونے پر کر دی جاتی ہے تو اس صورت میں عرف کی وجہ سے ایک دن کی کمی بیشی کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، کیونکہ عرف میں شمسی ماہ کے مکمل ہونے پر ملازم اس ماہ کی مکمل تنخواہ کا مستحق ہو جاتا ہے، خواہ ایک دن  پہلے مہینہ پورا ہو جائے یا ایک دن بعد، لہذا آپ کا سوال میں ذکر کیا گیا طریقۂ کار شرعاً درست ہے۔

حوالہ جات

۔۔۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

2/شعبان المعظم1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب