03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سنی لڑکی کا نومسلم شیعہ سے نکاح کا حکم
89795طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میرا سوال ہے کہ اگر کوئی لڑکا شیعہ مسلک سے تعلق رکھتا تھا، وہ سچے اور صدق دل سے اللہ کی رضا کے لیے تبدیل ہو کر اہل السنت والجماعت سے ہوگیا ہے اورتبدیل ہوئے ٹائم ہو گیا کیا اب  ان سے نکاح جائز ہے؟

وضاحت: لڑکے کو سنی ہوئے پانچ سال کا عرصہ گزر چکا ہے، البتہ لڑکے کے علاوہ اس کے والدین سمیت خاندان والے سب لوگ شیعہ مسلک سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور لڑکا اپنے والدین کے ساتھ ہی رہتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اگر واقعتاً لڑکا صدقِ دل سے اہل السنہ والجماعہ کے عقائد اختیار کر چکا ہے اور اس نے  شیعہ مسلک کے عقائد و اعمال مکمل طور پر چھوڑ دیے ہیں تو اس صورت میں سنی لڑکی کا ایسے لڑکے سے نکاح کرنا درست ہے۔ لیکن اگر لڑکا نکاح کی خاطر صرف ظاہری طور پر مسلمان ہوا ہے اور اس کے دل میں عقائد شیعہ والے ہی ہیں تو اس صورت میں حکم بدل جائے گا، جس کی تفصیل ذکر کرکے دارالافتاء سے دوبارہ سوال پوچھا جا سکتا ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 271) الناشر: دار الكتب العلمية،بيروت:

ومنها إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا} [البقرة: 221] ولأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين إليه وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل: {أولئك يدعون إلى النار} [البقرة: 221] لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر، والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النار؛ لأن الكفر يوجب النار، فكان نكاح الكافر المسلمة سببا داعيا إلى الحرام فكان حراما.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

28/رجب المرجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب