| 89377 | وقف کے مسائل | وقف کے متفرّق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ
ہماری بستی میں ایک شخص نے اپنی ملکیتی زمین مسجد کے لیے وقف کر دی ہے، وقف کی کارروائی مکمل ہو چکی ہے اور حدودِ اربعہ بھی متعین ہیں، مگر ابھی مستقل تعمیر شروع نہیں ہو سکی۔لوگوں اس کی تعمیر کے خوالے سے کچھ اختلاف ہے تو اس لیے یہ تجویز زیرِ غور ہے کہ مسجد کی جگہ محفوظ رکھنے اور اس کے مسجد ہونے کے اظہار کے لیے وہاں چند نمازیں ادا کر لی جائیں، اور پھر تعمیر مکمل ہونے تک باقاعدہ جماعت کا اہتمام مؤخر رکھا جائے۔
پوچھنا یہ ہے کہ:
کیا اس طرح چند نمازیں ادا کرنے کے بعد تعمیر مکمل ہونے تک نماز موقوف رکھنا شرعاً جائز ہے، یا ایک مرتبہ نماز ادا ہو جانے کے بعد اس جگہ پر دائمی اور مستقل طور پر نماز قائم کرنا شرعاً لازم ہو جاتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اس کی تو گنجائش ہے کہ جب تک مسجد کی پوری تعمیر نہ ہو آپ اس میں نماز شروع ہی نہ کریں تاکہ وہ ابھی مسجد شرعی نہ بنے،لیکن اس کی گنجائش نہیں ہے کہ ایک مرتبہ اس میں باقاعدہ اذان اور نماز شروع کردی جائے جس کی وجہ سے وہ شرعی مسجد بن جائےاورپھر وہاں لمبے عرصے تک یکسرنمازیں موقوف کی جائیں۔مسجد شرعی بن جانے کے بعدوہاں نماز کادائمی اہتمام ضروری ہوگا۔ البتہ وقتی مجبوری کی وجہ سے اگرکچھ وقت کےلیے نمازیں تعمیروالے حصے میں موقوف کرکےمسجدکے احاطے کے اندرہی کسی مناسب جگہ یا اندرجگہ نہ ہوتومسجد سے باہرمتصل کسی مناسب جگہ ادا کی جاتی رہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔
حوالہ جات
من سرہ ان یلقی اللہ غدا سلماً فلیحافظ علی ھٰؤُلاء الصلوات حیث ینادی بھن فان اللہ شرع لنبیکم سنن الھدیٰ و انھن من سنن الھدٰی و لو انکم صلیتم فی بیوتکم کما یصلی ھذا المتخلف فی بیته لترکتم سنة نبیکم و لو ترکتم سنة نبیکم لضللتم و ما من رجل یتطھر فیحسن الطھور ثٓٓٓٓم یعمد الی مسجد من ھذہ المساجد الا کتب اللہ له بکل خطؤة یخطو ھا حسنة و یرفعه بھا درجة و یحط عنه بھا سیئته و لقد رایتنا و ما یتخلف عنھا الا منافق معلوم النفاق و لقد کان الرجل یؤتی به یھادٰی بین الرجلین حتیٰ یقام فی الصف۔ (صحیح مسلم ص ۲۳۲ جلد ۱)
وفی ابی داؤد :
وَ مَا مِنْکُمْ مِنْ اَحْدٍ الّا وَ لَه مَسْجِدٌ فِیْ بَیْتِہٖ وَ لَو صَلَّیْتُمْ فِیْ بُیُوتِکُمْ وَ تَرَکْتُمْ مَسَاجِدَ کُمْ تَرَکْتُمْ سُنَّة نَبِیِّکُمْ وَ لَوْ تَرَکْتُمْ سُنَّة نَبِیِّکُمْ لَکَفَرْ تُمْ (ص ۸۸ باب التشدید فی ترک الجماعۃ)
أخبرنا جابر بن عبد اﷲ، أن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم قال: أعطیت خمسًا لم یعطہن أحد قبلي: نصرت بالرعب مسیرۃ شہر، وجعلت لي الأرض مسجداً وطہوراً۔ الحدیث (صحیح البخاري، کتاب التیمم ۱/۴۸، رقم:۳۳۳، ف:۳۳۵)
ولایشترط الصلوۃ في البلد بالمسجد فتصح بفضاء فیہا۔ (طحطاوي علی المراقي، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، دارالکتاب دیوبند
توسعةُ المسجدِ إذا كانت جاريةً وكان أداءُ الصلاةِ فيه متعذِّرًا أو فيه مشقّةٌ، فيُصلَّى بالجماعةِ في مكانٍ آخرَ قريبٍ منه داخلَ حدودِ السورِ.([1])
[1] ۔ آپ کے مسائل اوران کاحل https://jang.com.pk/news/1152266
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
26/06/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


