| 89019 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میں ......... بنتِ ....... وزیریہ سوال کرنا چاہتی ہوں کہ ہم دو بھائی اور پانچ بہنیں ہیں۔ ہماری آبائی زمینیں تین قسم کی ہیں: پہلی وہ زمین ہے جس میں ہمارا آبائی گھر اور کھیت وغیرہ شامل ہیں، جو مین روڈ سے کچھ فاصلے پر واقع ہے۔دوسری وہ زمین ہے جو روڈ کے کنارے دکانوں اور گوداموں کی صورت میں موجود ہے، یہ جگہ والد صاحب کے زمانے میں ضلعی حکومت کے پاس بطور گودام (کمرشل کرایہ) پر تھی، اور والد صاحب کی وفات کے بعد جب حکومت نے اپنے لیے مستقل گودام تعمیر کیا تو ہمارے بھائی نے ڈپٹی کمشنر چترال کے نام درخواست دے کر وہ دکانیں واپس حاصل کیں، جس میں واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ یہ ہماری پدری (آبائی) زمین ہے، اور اسی بنیاد پر ڈی سی چترال نے وہ زمینیں واپس کر دیں۔ تیسری زمین دریا کے کنارے واقع ہے، جو والد صاحب کی زندگی میں دو قبیلوں کے درمیان متنازعہ تھی اور اس سلسلے میں عدالتی مقدمہ طویل عرصے تک چلتا رہا۔ ابتدا میں ہمارے قبیلے وزیر بیگ کی جانب سے والد محترم روشن وزیر وکیلِ مختار تھے، بعد ازاں ہمارے بھائی ڈاکٹر سرفراز نے یہ ذمہ داری سنبھالی، حتیٰ کہ عدالت نے فیصلہ ہمارے قبیلے وزیر بیگ قبیلہ کے حق میں جاری کیا اور زمین کو قبیلے کے تمام افراد میں تقسیم کیا، جس میں ہمارے والد کے نام پر بھی حصہ آیا۔ والد صاحب کی وفات کے بعد ہمارے بھائیوں نے ہم بہنوں کو وراثت سے محروم رکھتے ہوئے تمام جائیداد آپس میں تقسیم کر لی، اور جب ہم نے اپنے حق کا مطالبہ کیا تو انہوں نے صرف آبائی گاؤں والے گھر اور کھیتوں کے قریب کی زمین میں سے حصہ دینے پر آمادگی ظاہر کی، جبکہ دکانوں والی اور عدالت کے ذریعے حاصل شدہ زمین میں حصہ دینے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دکانیں ان کی ذاتی ملکیت ہیں، حالانکہ حکومت سے زمین واپس لیتے وقت خود یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ یہ آبائی زمین ہے، اور عدالتی زمین کے بارے میں وہ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے مقدمے پر خرچ کیا تھا، اس لیے وہ اس کے مالک ہیں، حالانکہ ہم بہنوں نے گھر کے تمام کام سنبھالے، بھائیوں کی خدمت کی، اور تعلیم سے محروم رہیں۔ لہٰذا گزارش ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا دکانوں والی زمین اور عدالت کے فیصلے سے حاصل شدہ زمین میں ہم بہنوں کو وراثت کا حصہ ملے گا یا نہیں؟ جزاکم اللہ خیراً۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ بہنیں بھائیوں کی طرح شرعی وارث ہیں اورشرعی وارث کو کل یابعض میراث سے محروم نہیں کیاجاسکتا،جو شخص کسی وارث کو اس کی میراث سے محروم کرنے کو کوشش کرتاہے وہ درحقیقت اس کی اس وراثت والی حیثیت کو بدلتا ہے، اوراللہ تعالی کے فیصلے کو ناپسند کرتا ہے اور اسے بدلتاچاہتا ہے اور یہ بہت بڑا جرم ہے۔ سورۂ نساء میں میراث کے سارے حصے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِینَ فِیْہَا وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ. وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْہَا وَلَہٗ عَذَابٌ مُّہِینٌ.(۴:۱۳۔۱۴(
’’یہ اللہ کی بتائی ہوئی حدیں ہیں، (اِن سے آگے نہ بڑھو) اور (یاد رکھو کہ) جو اللہ اور اُس کے رسول کی فرماں برداری کریں گے، اُنھیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کریں گے اور اُس کی بتائی ہوئی حدوں سے آگے بڑھیں گے، اُنہیں ایسی آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اُن کے لیے رسوا کر دینے والی سزا ہے۔‘‘
حضرت سلیمان بن موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:
«من قطع ميراثا فرضه الله، قطع الله ميراثه من الجنة» سنن سعيد بن منصور (١/ ١١۸)
جس نےاللہ تعالی کی مقرر کی ہوئی﴿ اپنے وارث کی﴾ میراث کو کاٹ دیااللہ تعالی قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث کاٹیں گے۔ایک اورحدیث میں ہے:
حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛جوشخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین بھی از راہِ ظلم لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پرڈالی جائے گی۔
تفصیل بالا کی روسے معلوم ہوا کہ کسی وارث مثلاً بہنوں کو میراث سے محروم رکھنا سراسر ظلم،ناانصافی، حق تلفی اور الله کے احکام سے کھلی بغاوت ہے ، جو ناجائزاورحرام ہے،لہذا مسئولہ صورت میں والد کی وفات کے بعد ان کی تمام جائیداد — چاہے وہ آبائی زمین ہو، دکانوں والی ہو یا عدالت کے فیصلے سے حاصل شدہ — سب ترکہ میں شمار ہوتی ہے اور اس میں بیٹوں اور بیٹیوں سب کے شرعی حصے مقرر ہیں؛ لہٰذا آپ اور آپ کی بہنوں کو دکانوں والی زمین اور عدالت کے ذریعے حاصل شدہ زمین میں بھی حصہ ملے گا، کیونکہ یہ دونوں جگہیں والد مرحوم کی ملکیت تھیں، بھائیوں کا مختلف بہانوں سے انہیں ذاتی قرار دے کر بہنوں کو محروم کرنا شرعاً ناجائز اور ظلم ہے، اس لیے شرعی لحاظ سے مذکورہ تمام زمینوں میں ہر بہن کا ایک اور ہر بھائی کے دو حصے بنتے ہیں۔
حوالہ جات
قال الله تعالي:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن} [النساء : 11]
وفی مشكاة المصابيح الناشر : المكتب الإسلامي - بيروت - (2 / 197)
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة " . رواه ابن ماجه.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - (10 / 31)
قال الطيبي رحمه الله تخصيص ذكر القيامة وقطعه ميراث الجنة للدلالة على مزيد الخيبة والخسران ووجه المناسبة أن الوارث كما انتظر فترقب وصول الميراث من مورثه في العاقبة فقطعه كذلك يخيب الله تعالى آماله عند الوصول إليها والفوز بها…
وفيه ایضا:
عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»".( باب الغصب والعاریة، ج:1، ص:254، ط: قدیمی كتب خانه)
عن أبي حرة الرقاشي عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألا لا تظلموا، ألا لا یحل مال امرئ إلا بطیب نفس منہ رواہ البیہقي في شعب الإیمان والدارقطني في المجتبی (مشکاة شریف ص ۲۵۵)
روی الامام احمد فی مسندہ:
علی الید مااخذت حتی تودیہ،رواہ الامام [3] احمد فی مسندہ والائمۃ ابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ فی سننھم و الحاکم فی صحیحہ المستدرك عن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔
روى مسلم في صحيحه :
وفی رد المحتار:
الترکۃ في الاصطلاح ماترکہ المیت من الأموال صافیا عن تعلق حق الغیر بعین من الأموال۔ ( کتاب الفرائض، کراچي ۶/۷۵۹، مکتبۃ زکریا دیوبند ۱۰/۴۹۳)
وفی تکملہ فتح الملہم:
إن الأصل الأول في نظام المیراث الإسلامي: أن جمیع ماترک المیت من أملاکہ میراث للورثۃ ۔ (کتاب الفرائض، جمیع ماترک المیت میراث، مکتبۃ اشرفیۃ دیوبند ۲/)
وفی شرح المجلۃ:
إن أعیان المتوفي المتروکۃ عنہ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصہم۔ (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز، مکتبۃ اتحاد دیوبند ۱/۶۱۰، رقم المادۃ: ۱۰۹۲)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
22/05/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


