| 89853 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک امام مرکزی جامعہ مسجد میں گزشتہ 31 سال سے امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دے رہا ہے اس نے ایک 2nd امام رکھا ہوا ہے جب امام موجود نہ ہو تو دوسرا امام جماعت کروا دیتا ہے جبکہ کمیٹی کی طرف سے متعین کردہ امام وہی امام ہے جو 31 سال سے خطابت و امامت کروا رہا ہے ہوا یہ کہ گزشتہ دنوں پنجاب حکومت کی طرف سے جو امام کارڈ جاری ہونے تھے اس کے لئے تحصیل کے ہائی سکول میں گورنمنٹ کی ایک ٹیم آئی جس میں علاقے کے علماء اور آئمہ مساجد کو بلایا گیا انکے سامنے امام کارڈ کی بریفننگ دی گئی اس کے چند روز بعد علاقے کی پولیس کے ہمراہ امام کارڈ کی ٹیم مرکزی مسجد آئی اور امام اول کی ضروری تصاویریں لیں اور ریکارڈ میں شامل کر کے چلے گئے جب امام ثانی کو پتہ چلا تو اس نے علاقے کی ایک سیاسی شخصیت کے ذریعے خفیہ طریقے سے امام اول کے تمام ڈاکومنٹس کینسل کروا دئیے اور اس کی جگہ اپنے ڈیٹے کا اندراج کروا دیا اور پھر امام اول کو بتایا بھی نہیں اندراج کروانے کے بعد امام ثانی امام اول کو مختلف مواقع پر یہ بات کہتا رہتا کہ آپ کو امام کارڈ سے جو تنخواہیں ملیں گی اس میں سے کچھ حصہ آپ مجھے دیں جبکہ خفیہ طور سے وہ اپنا کام کر چکا اب جب کارڈ جاری ہوا تو وہ تو امام ثانی کو کال آئی اور وہ تنخواہ لے کر سائیڈ ہو گیا بعد میں جب لسٹ لگی کہ کون کون ہے جس کا کارڈ بنا ہے تو اس میں امام ثانی مرکزی جامعہ مسجد کے امام منتخب ہیں بعد میں تحقیق کرنے پہ پتا چلا یہ تو سازش ہوئی ہے اس سب پہ کمیٹی بھی کافی ناراض ہوئی اور پورے علاقہ والے کہ یہ تو سب نا حق ہوا ہے ۔
١۔ کیا اس شخص کا اس طرح کرنا اور یہ پیسے استعمال کرنا جائز ہیں؟
۲۔ اس طرح کے شخص کی امامت کا کیا حکم ہے اس معاملے کو واضح فرما دیں.
۳۔اگر اس شخص کو کمیٹی مسجد سے فارغ بھی کر دے تو وہ تو گورنمنٹ کے ڈاکومنٹس میں رجسٹرڈ ہو گیا ہے اور اس کو ہٹانا یا کارڈ کینسل کروانا یہ بھی نا ممکن سا ہے تو امام اول کے لئے کیا حکم ہے جبکہ ایگزیکٹ حق تو امام اول کا ہی تھا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
﴿١﴾امامِ ثانی کا امامِ اول کے علم اور اجازت کے بغیر سرکاری ریکارڈ میں اس کے ڈاکومنٹس منسوخ کروا کر خود کو مرکزی جامعہ مسجد کا امام درج کروانا شرعاً صریح دھوکا، خیانت اور ظلم ہے۔ اس طریقے سے حاصل کی گئی تنخواہ حرام ہے اور اس کا استعمال جائز نہیں، اس پر توبہ اور رقم واپس کرنا لازم ہے۔
﴿۲﴾فقہی اعتبار سے اگرچہ امامِ ثانی کے پیچھے نمازپڑھنے سے ادا ہو جائےگی، لیکن اگر وہ اپنے مذکورہ اعمال پر مصر رہتا ہے، توبہ نہیں کرتا اور اپنی غلطی کی تلافی نہیں کرتا، تو وہ فاسق ٹھہرے گا اور فاسق کو امام بنانا مکروہ ہے،امامِ اول اور کمیٹی اسے مسجد سے فارغ کرنے کا پورا حق رکھتی ہے۔ جبکہ امامِ اول مظلوم ہے، اس پر کوئی گناہ نہیں اور اسے شرعاً حق حاصل ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے کمیٹی اور متعلقہ اداروں سے رجوع کرے۔
﴿۳﴾یہ کہنا کہ "کارڈ کینسل کروانا ناممکن ہے" درست معلوم نہیں ہوتا۔ کمیٹی اپنے لیٹر پیڈ پر متعلقہ حکومتی ادارے (اوقاف یا ضلعی انتظامیہ) کو درخواست دے، جس میں مسجد کے 31 سالہ ریکارڈ اور امامِ اول کی تعیناتی کا ثبوت دیا جائے اور بتایا جائے کہ امامِ ثانی نے دھوکے سے نام درج کروایا ہے۔ سرکاری ریکارڈ درست کرواکرمسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔
امامِ اوّل ریکارڈ کی درستگی تک صبر و تحمل سے کام لے، قانونی راستہ اختیار کرے، اور کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے جو دین اور دینداروں کی بدنامی کا سبب بنے۔
حوالہ جات
مسند احمد میں ہے:
"حدثنا وكيع قال: سمعت الأعمش قال: حدثت عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب."(ج: 36، صفحه: 504، رقم الحدیث: 22170، ط: مؤسسة الرسالة)
وفی المسلم :
" (102) وحدثني يحيى بن أيوب، وقتيبة، وابن حجر جميعا، عن إسماعيل بن جعفر . قال ابن أيوب: حدثنا إسماعيل قال: أخبرني العلاء ، عن أبيه ، عن أبي هريرة « أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال: أصابته السماء، يا رسول الله. قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس؟ من غش فليس مني."(ج:1، ص:69، ط: دار المنھاج)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(النساء29)
عن أبى أمامة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”من اقتطع حق مسلم بيمينه حرم الله عليه الجنة وأوجب له النار.“ قالوا: وإن كان شيئا يسيرا يا رسول الله؟! قال: ”وإن كان قضيبا من أراك.“ قالها ثلاثا._ مؤطاامام مالک حدیث: 587.
الفتاوى الهندية (2/ 167)
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق.
المبسوط للسرخسي (4/ 95)
قال - صلى الله عليه وسلم - «على اليد ما أخذت حتى ترد»
حاشیۃ طحطاوی :
"كره إمامة "الفاسق" العالم لعدم اهتمامه بالدين فتجب إهانته شرعا فلا يعظم بتقديمه للإمامة وإذا تعذر منعه ينتقل عنه إلى غير مسجده للجمعة وغيرها وإن لم يقم الجمعة إلا هو تصلى معه"۔(کتاب الصلاۃ، فصل فی بیان الأحق بالإمامة، ص:303، 304، ط:دار الکتب العلمیة)
"قال في البحر: وحاصل ما في القنية: أن النائب لايستحق شيئاً من الوقف؛ لأن الاستحقاق بالتقرير، ولم يوجد، ويستحق الأصيل الكل إن عمل أكثر السنة. وسكت عما يعينه الأصيل للنائب كل شهر في مقابلة عمله، والظاهر أنه يستحق؛ لأنها إجارة وقد وفى العمل بناء على قول المتأخرين المفتى به من جواز الاستئجار على الإمامة والتدريس وتعليم القرآن … وقال في الخيرية: بعد نقل حاصل ما في البحر: والمسألة وضع فيها رسائل، ويجب العمل بما عليه الناس وخصوصاً مع العذر، وعلى ذلك جميع المعلوم للمستنيب وليس للنائب إلا الأجرة التي استأجره بها.(شامی 4/420، کتاب الوقف، ط: سعید)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
۳۰/۷/۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


