| 89479 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میں اپنے نکاح نامہ میں چند شرائط شامل کرنا چاہتی ہوں۔ آپ براہِ کرم ان شرائط کا شرعی جائزہ فرما کر فتویٰ دیں کہ کیا یہ شرائط شریعت کے مطابق لکھوانا درست ہے؟ اگر ان میں کسی تبدیلی، بہتری یا مزید کسی شرط کی ضرورت ہو تو مہربانی فرما کر رہنمائی بھی کر دیں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔امین،شرائط یہ ہیں:
1) شوہر میری لکھی ہوئی اجازت کے بغیر دوسری شادی نہیں کرے گا۔
2) شوہر مجھے تعلیم یا نوکری جاری رکھنے سے نہیں روکے گا۔
3) میری تنخواہ، آمدنی اور جائیداد پر میرا مکمل حق ہوگا، اور شوہر اس میں کوئی حصہ نہیں لے گا۔
4) شوہر بیوی پر کسی بھی قسم کا جسمانی، جذباتی یا ذہنی تشدد نہیں کرے گا۔
5) شوہر مجھے اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں سے ملنے یا رابطہ رکھنے سے نہیں روکے گا۔
6) گھر یا رہائش کی تبدیلی، چاہے ملک کے اندر ہو یا باہر، صرف باہمی رضامندی سے ہوگی۔
7) اگر شوہر تین ماہ تک خرچہ نہ دے، مجھ پر کسی بھی قسم کا ظلم کرے، چھ ماہ تک بغیر وجہ کے غائب رہے، یا میری اجازت کے بغیر دوسری شادی کرے، تو مجھے طلاقِ تفویض کا حق حاصل ہوگا۔
8) علیحدگی یا کسی بھی ازدواجی مسئلے کی صورت میں، شوہر مجھ سے سامنے بیٹھ کر مسئلہ حل کرنے کی پوری کوشش کرے گا، جب تک دونوں آپس میں صلح ممکن نہ ہونے پر اتفاق نہ کرلیں۔
9) اختلاف، علیحدگی یا طلاق کی صورت میں، دونوں فریق ایک دوسرے کی عزت، وقار اور پرائیویسی کا خیال رکھیں گے، اور ایک دوسرے کی بدنامی یا ذاتی باتیں ظاہر نہیں کریں گے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال کے جواب سے پہلے بطور تمہیددو باتیں جاننا ضروری ہیں:
اول: نکاح انسانی فطرت کے عین مطابق شریعت کا ایک اہم حکم ہے، جس پر انسانیت کی بقاء موقوف ہے، نکاح کی مبارک سنت پر عمل کرنے میں بہت سے مقاصد کا حصول مقصود ہوتا ہے، جیسے اولاد اور پاکدامنی کا حصول، دو خاندانوں کے درمیان رشتہ داری کا قائم ہونا، گناہوں سے بچنا اور احساسِ ذمہ داری کا پیدا ہونا وغیرہ، لیکن یہ مقاصد اسی وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب اس میں شریعت کے احکام کی پاسداری کی جائے، اسی لیے شریعت نے نکاح سے متعلق مستقل احکام جاری فرمائے ہیں،ان احکامِ شریعہ کی پاسداری سے نکاح کے بعد والی زندگی پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس لیے خوشگوار زدواجی زندگی کے لیے ضروری ہے کہ عقدِ نکاح میں ایسی شرائط نہ رکھی جائیں جن سے شریعت نے منع کیا ہو یا ان کی وجہ سے میاں بیوی کے تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہو۔
دوم: اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے مطابق مردوں کو عورتوں پر فوقیت دی ہے، چنانہ قرآن کریم میں ارشاد ہے: {الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ} [النساء: 34] مرد عورتوں پر نگہبان اور ذمہ دار ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، اور اس وجہ سے کہ وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔
اس لیے شریعت نے بیویوں کو جائز کاموں میں اپنے شوہروں کی اطاعت اور فرمانبرداری کا حکم دیاہے، چنانچہ سنن الترمذی (2/456) کی ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "إذا الرجل دعا زوجته لحاجته فلتأته، وإن كانت على التنور" یعنی جب آدمی اپنی بیوی کو اپنی حاجت کے لیے بلائے تو اسے فوراً آنا چاہیے اگرچہ وہ(روٹی پکانے کےلیے) تنّور پر ہو“اس لیے شریعت نے جائز امور میں شوہرکی نافرمانی کرنے کو گناہ اور ناجائز قرار دیا ہے، لہذا نکاح نامہ میں جائز شروط لگانے کی صورت میں بھی عورت کو اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ کسی جائز کام میں شوہر کی نافرمانی نہ ہو، البتہ شوہر کی بھی ذمہ داری ہے کہ بلا وجہ بیوی کو تنگ نہ کرے اور اس کو جسمانی اور ذہنی طور پر اذیت پہنچانے سے انتہائی گریز کرے۔
اس تمہید کے بعد ذیل میں شریعت کی روشنی میں سوال میں ذکر کردہ شرائط کا بالترتیب حکم بیان کیا جاتا ہے:
- پہلی شرط میں دوسری شادی کو بیوی کی اجازت پر موقوف قراردینا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ شرعاً شوہر کو چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے، بشرطیکہ وہ شریعت کے مطابق سب کے حقوق ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مردوں کو خطاب کرتے ہوئےفرمایا: {فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً} [النساء: 3] یعنی پس تم عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرو: دو دو، تین تین، اور چار چار۔لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی (عورت سے نکاح کرو)۔
اسی لیے فقہائے کرام رحمہم اللہ نے تصریح کی ہے کہ اگر کوئی عورت اس شرط پر نکاح کرے کہ شوہر دوسری شادی نہیں کرے گا تو یہ شرط فاسد اور ناجائز ہے، کیونکہ اس میں شرعاً جائز کام سے منع کرنا لازم آتا ہے، لہذا نکاح کے وقت یہ شرط لگانا درست نہیں کہ "شوہر میری لکھی ہوئی اجازت کے بغیر دوسری شادی نہیں کرے گا۔" اس شرط کو ختم کرنا ضروری ہے، البتہ شوہر کے دوسرا نکاح کرنے کی صورت میں عورت علیحدہ گھر اوردیگرحقوق میں عدل وانصاف کا مطالبہ کر سکتی ہے۔
- دوسری شرط بھی اپنے عموم کے ساتھ لکھنادرست نہیں، بلکہ اس کو یوں لکھنا چاہیے کہ"شریعت کے حدود کے اندر رہتے ہوئےشوہر مجھے تعلیم یا نوکری جاری رکھنے سے نہیں روکے گا" باقی اس میں تفصیل یہ ہے کہ اصولی طور پر عورت کو گھر میں ٹھہرے رہنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح طور پر عورتوں کو خطاب کرتے ہوئےفرمایا ہے:{وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى} [الأحزاب: 33] یعنی تم اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور زمانہٴ جاہلیت کی زینت کی طرح زینت اختیار نہ کرو۔
اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں مفسرینِ کرام رحمہم اللہ نے تصریح کی ہے کہ عورت کے لیے بغیر ضرورت کے گھر سے نکلنا جائز نہیں، البتہ اگر کوئی دینی یا دنیوی ضرورت ہو تو ضرورت کے مطابق عورت گھر سے نکل سکتی ہے۔ لہذا شادی کے بعد اگر شوہر عورت کے تمام اخراجات برداشت کر رہا ہو تو ایسی صورت میں عورت کے لیے گھر سے باہر جا کر ملازمت کرنا یا بلا ضرورت تعلیم کے لیے باہر جانا درست نہیں، البتہ اگر گھر میں تعلیم یا کسبِ معاش کا کوئی مناسب انتظام ہو تو ان دونوں چیزوں کو جاری رکھا جا سکتا ہے اور ایسی صورت میں شوہر کےلیے عورت کو منع کرنا بھی مناسب نہیں، بشرطیکہ شوہر کی خدمت اور اس کے حقوق کی ادائیگی میں خلل واقع نہ ہو۔اسی طرح اگر گھر میں انتظام نہ ہو، لیکن عورت کو اپنے ضرورت کے اخراجات کے لیے ملازمت کی ضرورت ہو یا معاشرے کو ضرورت کو جیسے لیڈی ڈاکٹر اور وہ کام جو خواتین کی خدمات سے متعلق ہوں تو ایسی صورتوں میں یہ شرط لگائی جا سکتی ہے کہ شوہر جائز حدود میں رہتے ہوئے ملازمت کی اجازت دے گا۔
- تیسری شرط درست ہے، کیونکہ شریعت نے میاں بیوی کی علیحدہ علیحدہ ملکیت کو ثابت مانا ہے، جس میں کسی دوسرے کو مالک کی رضامندی کے بغیر کسی قسم کا تصرف کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
- چوتھی شرط کو بھی عموم کی بجائے یوں لکھنا چاہیے کہ شوہر بیوی پر کسی بھی قسم کا غیر شرعی جسمانی یا ذہنی تشدد نہیں کرے گا۔
- شرط نمبر5اور6دونوں شرطیں درست ہیں،البتہ بیوی جب والدین یامحرم رشتہ داروں کو سے ملنے کے لیے جائے تو شوہر سے اجازت لے کر جائے، کیونکہ شادی کے بعد شریعت نے عورت کو شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلنے سے منع کیا ہے۔
- ساتویں شرط کی عبارت یوں ہونی چاہیے کہ اگر شوہر تین ماہ تک خرچہ نہ دےیا مجھ پر کسی بھی قسم کا ظلم کرےیا چھ ماہ تک بغیر وجہ کے غائب رہے تو مجھے شوہر کی تفویض کی بناء پر اپنے اوپر ایک طلاقِ بائن واقع کرنے کا حق حاصل ہوگا۔(اسی طرح اگر عورت یہ شرط لگائے کہ شوہر کے دوسری شادی کرنے کی صورت میں اس کو اپنے اوپر ایک طلاق بائن واقع کرنے کا اختیار حاصل ہو گا تو یہ بھی جائز ہے۔ سید عابد شاہ)
اس کے بعد جب شوہر مذکورہ بالا صورتوں میں سے کسی ایک صورت کا ارتکاب کرے اور دو سمجھدار اور صالح آدمی اس کے ارتکابِ جرم یعنی ظلم وتشدد کرنے یا تین ماہ تک نان ونفقہ نہ دینے یا چھ ماہ تک بلا وجہ غائب رہنے کی تصدیق کر دیں تو عورت کو اپنے اوپر ایک طلاقِ بائن واقع کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔
- آٹھویں اور نویں شرط بھی درست ہے۔
نوٹ: یاد رہے کہ نکاح میاں بیوی کے درمیان ایک محبت، الفت، ایک دوسرے کی غم خواری اور زندگی بھر کے لیے ایک قلبی تعلق کا نام ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہر ایک دوسرے کے دکھ، درد اور خوشی وغمی کا مکمل احساس ہو،جبکہ نکاح میں اپنے حقوق کے تحفظ کی خاطر اس طرح بہت زیادہ شرطیں لگانا بعض اوقات فریقین کے درمیان دوری اور نفرت کا باعث بن جاتا ہے، جس کی وجہ سے یہ مبارک رشتہ زیادہ دیر تک چل نہیں پاتا، اس لیے ضرورت سے زیادہ بلا وجہ نکاح میں شرائط لگانا مناسب نہیں۔
حوالہ جات
تفسير أبي السعود (7/ 102) دار إحياء التراث العربي – بيروت:
{وقرن فى بيوتكن} أمر من قريقر من باب علم وأصله اقررن فحذفت الراء الأولى وألقيت فتحتها على ما قبلها كما في قولك ظلن أو من قار يقار إذا اجتمع وقرئ بكسر القاف من وقر يقر وقارا إذا ثبت واستقر وأصله أوقرن ففعل به ما فعل بعدن من وعد أو من قريقر حذفت إحدى راءي اقررن ونقلت كسرتها إلى القاف كما تقول ظلن {ولا تبرجن} أي لا تتبخترن في مشيكن {تبرج الجاهلية الاولى} أي تبرجا مثل تبرج النساء في الجاهلية القديمة وهي ما بين أدم ونوح وقيل ما بين إدريس ونوح عليهما السلام وقيل الزمان الذي ولد فيه إبراهيم عليه السلام كانت المرأة تلبس درعها من اللؤلؤ فتمشي وسط الطريق تعرض نفسها على الرجال.
مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (25/ 167) دار إحياء التراث العربي – بيروت:
قوله تعالى: وقرن في بيوتكن من القرار وإسقاط أحد حرفي التضعيف كما قال تعالى: فظلتم تفكهون [الواقعة: 65] وقيل بأنه من الوقار كما يقال وعد يعد عد وقول: ولا تبرجن تبرج الجاهلية الأولى قيل معناه لا تتكسرن ولا تتغنّجن.
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 288) دار احياء التراث العربي – بيروت:
" وعلى الزوج أن يسكنها في دار مفردة ليس فيها أحد من أهله إلا أن تختار ذلك " لأن السكنى من كفايتها فتجب لها كالنفقة وقد أوجبه الله تعالى مقرونا بالنفقة وإذا أوجب حقا لها ليس له أن يشرك غيرها فيه؛ لأنها تتضرر به فإنها لا تأمن على متاعها ويمنعها ذلك عن المعاشرة مع زوجها ومن الاستمتاع إلا أن تختار لأنها رضيت بانتقاص حقها " وإن كان له ولد من غيرها فليس له أن يسكنه معها " لما بينا ولو أسكنها في بيت من الدار مفرد وله غلق كفاها لأن المقصود قد حصل " وله أن يمنع والديها وولدها من غيره وأهلها من الدخول عليها " لأن المنزل ملكه فله حق المنع من دخول ملكه " ولا يمنعهم من النظر إليها وكلامها في أي وقت اختاروا " لما فيه من قطيعة الرحم وليس له في ذلك ضرر وقيل لا يمنعهم من الدخول والكلام وإنما يمنعهم من القرار والدوام إن الفتنة في اللباث وتطويل الكلام وقيل لا يمنعها من الخروج إلى الوالدين ولا يمنعهما من الدخول عليها في كل جمعة وفي غيرهما من المحارم التقدير بسنة وهو الصحيح.
تفسير أبي السعود (2/ 173) دار إحياء التراث العربي – بيروت:
{الرجال قوامون على النساء} كلام مستأنف مسوق لبيان سبب استحقاق الرجال الزيادة في الميراث تفصيلا إثر بيان تفاوت استحقاقهم إجمالا وإيراد الجملة اسمية والخبر على صيغة المبالغة للإيذان بعراقتهم في الاتصاف بما أسند إليهم ورسوخهم فيه أي شأنهم القيام عليهن بالأمر والنهي قيام الولاة على الرعية وعلل ذلك بأمرين وهبي وكسبي فقيل{بما فضل الله بعضهم على بعض} الباء سببية متعلقة بقوامون أوبمحذوف وقع .
المحیط البرهانی (كتاب الطلاق ج : 3 ص : 240 ط : دارالكتب العلمية،بيروت):
والأصل في هذا: أن الزوج يملك إيقاع الطلاق بنفسه فيملك التفويض إلى غيره فيتوقف عمله على العلم؛ لأن تفويض طلاقها إليها يتضمن معنى التمليك، لأنها فيما فوّض إليها من طلاقها عاملة لنفسها دون الزوج، والإنسان فيما يعمل لنفسه يكون مالكا.
العناية شرح الهداية (5 / 11) الناشر: دار الفكر،بیروت:
(وإذا تزوجها على ألف على أن لا يخرجها من البلدة) قد تقدم أن النكاح لا يبطل بالشروط الفاسدة ،فإذا تزوج امرأة على ألف على أن لا يخرجها من البلدة ( أو على أن لا
يتزوج عليها) أو على أن يطلق فلانة فالنكاح صحيح وإن كان شرط عدم التزوج وعدم المسافرة وطلاق الضرة فاسد؛لأن فيه المنع عن الأمر المشروع.
البناية شرح الهداية (5/ 165) الناشر: مكتبة الرشد ناشرون - المملكة العربية السعودية:
م: (وإذا تزوجها على ألف) ش: أي إذا تزوج رجل امرأة على ألف درهم م: (على أن لا يخرجها من البلدة، أو على أن لا يتزوج عليها أخرى) ش: أي أو يتزوج بشرط أن لا يتزوج عليها امرأة أخرى، فالنكاح صحيح، وإن كان شرط عدم المسافرة، أو عدم التزويج فهو فاسد؛ لأن فيه المنع عن الأمر المشروع.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 603) الناشر: دار الفكر-بيروت:
(ولا يمنعهما من الدخول عليها في كل جمعة، وفي غيرهما من المحارم في كل سنة) لها الخروج ولهم الدخول زيلعي (ويمنعهم من الكينونة) وفي نسخة: من البيتوتة لكن عبارة منلا مسكين: من القرار (عندها) به يفتى خانية، ويمنعها من زيارة الأجانب وعيادتهم والوليمة، وإن أذن كانا عاصيين كما مر في باب المهر. وفي البحر: له منعها من الغزل وكل عمل ولو تبرعا لأجنبي ولو قابلة أو مغسلة - لتقدم حقه على فرض الكفاية، ومن مجلس العلم إلا لنازلة امتنع زوجها من سؤالها، ومن الحمام إلا النفساء وإن جاز بلا تزين وكشف عورة أحد. قال الباقاني: وعليه فلا خلاف في منعهن للعلم بكشف بعضهن، وكذا في الشرنبلالية معزيا للكمال.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
5/رجب المرجب1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


