| 89627 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
میرے گھر والوں نے مجھے طلاق نامہ پر دستخط کرنے پرمجبور کیا، اس میں میری رضامندی شامل نہیں تھی، میں نے زبان سے کچھ نہیں کہا اور نہ مجھے کسی نے پڑھ کر سنایا، البتہ یہ علم تھا کہ یہ طلاق نامہ ہے، میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہہ سکتا ہوں کہ مجھ سے زبردستی کی گئی، میں اور میری بیوی الگ نہیں ہونا چاہتے تھے، لیکن میرے گھر والوں اور سسرال نے ہمیں الگ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، ساس نے خلع کا کیس کروایا اور جب میں ان کے گھر گیا تھا تو اس وقت مارنے کی دھمکی بھی تھی۔ سوال یہ ہے کہ منسلکہ طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق ہوئی یا نہیں؟جبکہ میں نے زبان سے کوئی لفظ ادا نہیں کیا۔
وضاحت: سائل نے بتایا کہ دستخط کرتے وقت میرے والدین اور خالہ ساتھ تھیں، انہوں نے مجھ پر دباؤ ڈالا کہ اس پر دستخط کر دو، میرے والد صاحب معاملات کےبارے میں بہت زیادہ ٹنشن لے جاتے ہیں، اس لیے میں نے مجبوراً دستخط کیےتھے، جبکہ میرا ارادہ طلاق دینے کا نہیں تھا۔ نیز اس نے یہ بھی بتایا کہ دستخط نہ کرنے کی صورت میں نہ کوئی نقصان تھا نہ فائدہ۔والدین وغیرہ کی طرف سے کوئی مارپیٹ کرنے کی دھمکی نہیں تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگرچہ آپ کے طلاق نامہ پر دستخط کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا،لیکن دستخط نہ کرنے کی صورت میں آپ کو کسی خاطر خواہ نقصان کا اندیشہ نہیں تھا، بلکہ صرف والدین اور خالہ کی طرف سے دباؤ(Pressure) تھا اور دباؤ کی صورت میں تحریری طلاق واقع ہو جاتی ہے، اگرچہ زبان سے کوئی لفظ نہ بولا ہو۔ لہذا جب آپ نے طلاق نامہ کا علم ہونے کے باوجود ہر طلاق کے ساتھ علیحدہ علیحدہ دستخط کیے تو اسی وقت آپ کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو گئی، اب رجوع یا دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا، البتہ اگر عورت اس شخص کی عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے اور وہ اس کے ساتھ ازدواجی تعلقات (ہمبستری) بھی قائم کرے اور پھر وه اپنی مرضی سے طلاق یا خلع دیدے تو اس کی عدت پوری کر کے یہ عورت پہلے شخص سے نکاح کر سکتی ہے، اس کے علاوہ کسی صورت بھی پہلے شخص سے نکاح کرنا جائز نہیں۔
حوالہ جات
القران الکریم : [البقرة: 230]
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ }
الفتاوى الهندية (1 / 473) دار الفكر، بیروت:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.
الرد المحتار (کتاب الطلاق،3/ 235،ط:سعید):
"(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح."
الفتاوی الھندیة : (کتاب الطلاق،1/ 378،ط:رشیدية):
الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير موسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا وهو على وجهين مستبينة وغير مستبينة فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكن فهمه وقراءته ففي غير المستبينةلايقع الطلاق وإن نوى وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو."
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
8/رجب المرجب1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


