03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق مغلظہ دینے کےبعد شوہرکا طلاق دینےسے مکرجانا
88324طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میں شازیہ مائی دختر ناصر علی ہوش وحواس کے ساتھ بیان کرتی ہوں کہ میرے خاوند کی میرے ساتھ لڑائی ہوئی،پھر اس نے مجھے کہاکہ میں نے طلاق دی،طلاق دی ،طلاق دی،کئی بار کہا،پھر کئی بار کہا کہ تو مجھ سے فارغ ہے،ناصر علی کا بیان ہے کہ اس کے بعد پھر لڑائی ہوئی تو اس نے میرے سامنے تین  دفعہ کہاکہ یہ شازیہ مائی مجھ سے فارغ ہے،اب شرعا مشتاق ولد اللہ دتہ پر کیا حکم لاگو ہوتا ہے؟

نوٹ: مشتاق نے پنچائیت کے سامنے بھی اقرار کیا ہے کہ اگر میں نے طلاق دی بھی ہو تو واقع نہیں ہوئی،کیونکہ بیوی حمل کی حالت میں ہے۔

اسی طرح اکبرجو اس کا چچا ہے کے گھر مارتے ہوئے بھی طلاق دی،مزید یہ بھی کہتا ہے کہ میں نے اس کو نہیں رکھنا،اس کو طلاق دے دینی ہے۔

تنقیح:سائل نے بتایا کہ شوہر نے طلاق کے الفاظ بھی متعدد بار دہرائے ہیں،یعنی تین بار سے زیادہ طلاق اور فارغ کے الفاظ دہراچکا ہے،لیکن اب طلاق دینے سے انکار کررہا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ حالتِ حمل میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے اورچونکہ طلاق کے معاملے میں عورت قاضی کی طرح ہے،اس لیے جب وہ خود اپنے کانوں سے شوہر کو طلاق دیتے سنے یا کوئی ایسا نیک آدمی اسے طلاق کی خبر دے جس کی بات پر اسے اعتماد ہو تو اس کے بعد عورت کے لیے شوہر کے ساتھ رہنا جائز نہیں رہتا،اگرچہ شوہر طلاق دینے سے انکاری ہو اور عورت کے پاس کوئی گواہ نہ ہو۔

لہذا مذکورہ صورت  میں جب بیوی نے خود اپنے کانوں سے شوہر کو اسے تین طلاقیں دیتے سنا ہےتو اب اس کےبعد شوہر کے انکار کا شرعا کوئی اعتبار نہیں ہے اور اس کے لیے سابقہ شوہر کے ساتھ رہنا ناجائز اور حرام ہے۔

لہذامذکورہ صورت میں اولا شوہر کو خوفِ خدا دلا کر آخرت کے عذاب سے ڈرایا جائے اور اسے اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے کہ وہ غلط بیانی کرکے ساری عمر حرام کاری میں مبتلا ہونے کے بجائے طلاق کا اقرار کرلے یا پھر کم از کم عورت کو علیحدہ کردے،اگر شوہر اس پر آمادہ نہ ہو تو مہر معاف کرکے یا کچھ مال وغیرہ دے کر اس سے عورت کو آزاد کروایا جائے،اگر وہ کسی بھی طریقے سے اس کی جان چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو تو عورت اس کا گھر چھوڑ کر میکے چلی جائے اور ہر ممکن طریقے سے اسے اپنے قریب آنے سے باز رکھے۔

چونکہ مذکورہ صورت میں شوہر کے جانب سے طلاقیں دینے پر عورت کے پاس شرعی شہادت(دو مردیا ایک مرد اور دو عورتیں) موجود نہ ہونے کی وجہ سے دیانت کے لحاظ سے طلاقیں واقع ہوئیں ہیں،قضاءً واقع نہیں ہوئیں،اس لیے  اگریہ عورت  اپنا مستقل نکاح دوسری جگہ کرنا چاہے تو ایسی صورت میں قانونی طور پر تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کرکے خلع کی ڈگری ضرور لے لے،تاکہ بعد میں اسے قانونی لحاظ سے سابقہ شوہر کی جانب سے کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية" (1/ 354):

" والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها".

"الدر المختار "(3/ 420):

"(سمعت من زوجها أنه طلقها ولا تقدر على منعه من نفسها) إلا بقتله (لها قتله) بدواء خوف القصاص، ولا تقتل نفسها. وقال الأوزجندي: ترفع الأمر للقاضي، فإن حلف ولا بينة فالإثم عليه، وإن قتلته فلا شيء عليها. والبائن كالثلاث، وفيها: شهدا أنه طلقها ثلاثا لها التزوج بآخر للتحليل لو غائبا انتهى. قلت: يعني ديانة. والصحيح عدم الجواز قنية. وفيها: لو لم يقدر هو أن يتخلص عنها ولو غاب سحرته وردته إليها لا يحل له قتلها، ويبعد عنها جهده (وقيل: لا) تقتله، قائله الإسبيجابي (وبه يفتى) كما في التتارخانية وشرح الوهبانية عن الملتقط أي، والإثم عليه كما مر".

قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :" (قوله: لو غائبا) تمام عبارة البزازية وإن كان حاضرا لا؛ لأن الزوج إن أنكر احتيج بالفرقة، ولا يجوز القضاء بها إلا بحضرة الزوج. اهـ. (قوله: والصحيح عدم الجواز) قال في القنية: وقال يعني البديع، والحاصل أنه على جواب شمس الأوزجندي ونجم الدين النسفي والسيد أبي شجاع وأبي حامد والسرخسي يحل لها أن تتزوج بزوج آخر فيما بينها وبين الله تعالى، وعلى جواب الباقين لا يحل، وفي الفتاوى السراجية: إذا أخبرها ثقة أن الزوج طلقها وهو غائب وسعها أن تعتد وتتزوج ولم يقيده بالديانة اهـ كذا في شرح الوهبانية.

قلت: هذا تأييد لقول الأئمة المذكورين: فإنه إذا حل لها التزوج بإخبار ثقة فيحل لها التحليل هنا بالأولى إذا سمعت الطلاق، أو شهد به عدلان عندها، بل صرحوا بأن لها التزوج إذا أتاها كتاب منه بطلاقها ولو على يد غير ثقة إن غلب على ظنها أنه حق وظاهر الإطلاق جوازه في القضاء ،حتى لو علم بها القاضي يتركها، فتصحيح عدم الجواز هنا مشكل، إلا أن يحمل على القضاء وإن كان خلاف الظاهر فتأمل، نعم لو طلقها وهو مقيم معها يعاشرها معاشرة الأزواج ليس لها التزوج لعدم انقضاء عدتها منه كما سيأتي بيانه في العدة.

وأطلق فشمل ما إذا كان الزوج الأول معترفا بالطلاق الثلاث أو منكرا بعد أن كان الواقع الطلاق الثلاث، ولذا قالوا ولو طلقها ثلاثا، وأنكر، لها أن تتزوج بآخر، وتحلل نفسها سرا منه إذا غاب في سفر فإذا رجع التمست منه تجديد النكاح لشك ،خالج قلبها لا لإنكار الزوج النكاح.

وقد ذكر في القنية خلافا فرقم للأصل بأنها إن قدرت على الهروب منه لم يسعها أن تعتد، وتتزوج بآخر؛ لأنها في حكم زوجية الأول قبل القضاء بالفرقة ثم رمز شمس الأئمة الأوزجندي، وقال :قالوا هذا في القضاء، ولها ذلك ديانة، وكذلك إن سمعته طلقها ثلاثا ثم جحد، وحلف أنه لم يفعل، وردها القاضي عليه لم يسعها المقام معه، ولم يسعها أن تتزوج بغيره أيضا قال يعني البديع.

والحاصل أنه علي جواب شمس الإسلام الأوزجندي ونجم الدين النسفي والسيد أبي شجاع وأبي حامد والسرخسي يحل لها أن تتزوج بزوج آخر فيما بينها وبين ﷲتعالى، وعلى جواب الباقين لا يحل انتهى، وفي الفتاوى السراجية: إذا أخبرها ثقة أن الزوج طلقها، وهو غائب، وسعها أن تعتد وتتزوج، ولم يقيده بالديانة، وﷲأعلم.

قال المصنف - رحمه ﷲ - وقد نقل في القنية قبل ذلك عن شرح السرخسي ما صورته :طلق امرأته ثلاثا، وغاب عنها فلها أن تتزوج بزوج آخر بعد العدة ديانة ونقل آخر أنه لا يجوز في المذهب الصحيح اهـ.

قلت: إنما رقم لشمس الأئمة الأوزجندي، وهو الموافق لما تقدم عنه، والقائل بأنه المذهب الصحيح لعلاء الترجماني ثم رقم بعده لعمر النسفي، وقال حلف بثلاثة فظن أنه لم يحنث، وعلمت الحنث، وظنت أنها لو أخبرته ينكر اليمين فإذا غاب عنها بسبب من الأسباب فلها التحلل ديانة لا قضاء ،قال عمر النسفي: سألت عنها السيد أبا شجاع فكتب أنه يجوز ثم سألته بعد مدة فقال: إنه لا يجوز، والظاهر أنه إنما أجاب في امرأة لا يوثق بها اهـ.

كذا في شرح المنظومة، وفي البزازية: شهد أن زوجها طلقها ثلاثا إن كان غائبا ساغ لها أن تتزوج بآخر، وإن كان حاضرا لا ؛لأن الزوج إن أنكر احتيج إلى القضاء بالفرقة، ولا يجوز القضاء بها إلا بحضرة الزوج. اهـ".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

08/صفر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب