03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حالت اکراہ میں زبانی طلاق کا حکم
88437طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

2012ء میں میر انکاح  رمشا جدون  سے ہوا ، تقریبا 2 سال ہماری شادی چلی، اللہ نے 2 بچے دیے، لیکن پھر اس کےنفسیاتی مریض ہونے کی وجہ سے طلاق کی نوبت آئی، نتیجہ با قاعدہ طلاق ثلاثہ سے طلاق واقع ہو گئی۔

پھر وہ تقریبا اڑھائی سال اپنے والد کے گھر رہی ،پھر اس کی کہیں اور شادی ہوئی جو 18 دن چلی اور وہاں سے بھی طلاق ہو گئی۔

2017ء میں عدت گزرنے کے بعد ہمارا دوبارہ با قاعدہ نکاح ہوا،جس کے بعد اللہ نے مزید 2 بچے عطا کیے ، اس دوران نفسیاتی امراض چلتے رہے اور بڑھتے ہی رہے اور یہاں تک کے خود کشی کی نوبت بھی آئی اور اس نے خود کو گولی ماری، 2022ء میں بھی اسی طرح کا ایک واقعہ پیش آیا جس کا ذکر میں اوپر منسلکہ فتوے میں تفصیل سے کر چکا ہوں ، بچوں کو زدو کوب کرنا ،چیزیں توڑنا اور مسلسل مجھ سے طلاق کا مطالبہ ہو تا رہا، میں ایسے الفاظ کے استعمال سے گریز کرتا رہا ،لیکن جب مجھے لگا کہ کہیں وہ خود کو یا بچوں کو دوبارہ نقصان نہ پہنچادے اور نتیجے میں مجھے پہلے کی طرح پھر پولیس کے مسائل نہ ہوں تو میں نے صرف اس کو روکنے کے لیے کہہ دیا :میں نے تمہیں 3 طلاقیں دیں، لیکن میرا کوئی ارادہ طلاق کا نہیں تھا۔

کچھ روز ہم الگ رہے، پھر میں نے ایک مقامی دار الافتاء میں دار العلوم کراچی کے متخصص سے فتوی لیا جو منسلک ہے ، جس میں انہوں نے ایک طلاق کے وقوع کا فتوی دیا، لہذا ہم دو بار و نارمل طریقہ سے رہنے لگے ، بہر حال نفسیاتی مسائل بڑھتے ہی رہے، یہاں تک کہ نشہ کےانجیکشن لگانے تک کی نوبت آگئی، اس دوران میرے ایک اہل حدیث عالم دوست نے مجھ سے کہا کہ در حقیقت تمہاری دو طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، ایک وہ جو پہلی دفعہ نکاح کے بعد دی تھی اور ایک  وہ جو 2022ء میں دی ہے۔

کچھ عرصہ پہلے پھر جھگڑے کی نوبت آئی اور نفسیاتی مسائل کی وجہ سے حالات کافی سنگین ہوگئے تو میں نے اس کے والدہ کو کہا اور وہ اس کو لے گئے، میں نے کہا :میں طلاق نہیں دے رہا،لیکن اس کا علاج کروائیں ، وہ لے گئے، لیکن وہ وہاں سے سے بھاگ کر پھر میرے پاس آرہی تھی تو میں نے فون پر اس کو ایک طلاق دی با قاعدہ ایک کی نیت سے اور میرے ذہن میں ان اہل حدیث عالم دوست کی بات کی وجہ سے یہ تھا کہ اب میں تیسری طلاق دے رہاہوں،لہذا طلاق دینے کے بعد میں نے بطور سند ایک طلاق نامہ بھی بنوالیا تھا جو ساتھ منسلک ہے،اب اس کے والد نے بھی اس کو لاتعلق کردیا ہے اور وہ باہر اکیلی کسی فلیٹ میں رہ رہی ہے،جہاں اچھی سے زیادہ بری زندگی میں جانے کا خدشہ ہے،پھر میری توجہ میرے ایک دوست نے اس طرف دلائی کہ 2012 ء والے نکاح کے ختم ہونے کے بعد تو اس طلاق کی حیثیت نہیں رہی،گویا کہ طلاقیں دو ہوئیں ہیں۔

لہذا عرض ہے کہ مذکورہ بالا تحریر اور منسلکہ فتوی کی روشنی میں ازروئے شریعت کیا اب میرے لئے گنجائش ہےکہ میں رمشا جدون سے رجوع یا نکاح جدید کرلوں؟ تاکہ اس کی زندگی بھی  اور ہمارے بچوں کی زندگی بھی خوشگوار ہوسکے؟

مزید اس مسئلہ سے متعلق میں نے اسی دارالافتاء سے دو بارہ رجوع کیا تھا،جس کا ذکر میں پہلے کرچکا ہوں،ان کے مطابق مجھے مزید ایک طلاق کا حق حاصل ہے،فتوی ساتھ منسلک ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ نے جو فتوی منسلک کیا ہے اس میں ایک طلاق کے وقوع کا مدار درج ذیل تین باتوں پر رکھا گیا ہے:

1۔حالت اکراہ میں طلاق کا وقوع کا معاملہ مجتہد فیہ ہے۔

2۔اگر کوئی طلاق کا لفظ متعدد بار بولے ،جبکہ اس کی کوئی نیت نہ ہو،یا ایک طلاق کی نیت ہو تو حنفیہ کے نزدیک دیانتا ایک طلاق واقع ہوتی ہے۔

3۔مذکورہ صورت میں شافعیہ کے نزدیک دیانتا اور قضاء ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے۔

پہلی بات کےحوالے سے عرض ہے کہ یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ حالت اکراہ میں زبانی طلاق دینے سے طلاق واقع ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ  اس صورت میں مجتہد فیہ ہے جب اکراہ ملجی ہو،یعنی وہ کام جس پر مجبور کیا جارہا ہو نہ کرنے کی صورت میں جان جانے،کسی عضو کے تلف ہونےیا لمبا عرصہ قیدہوجانے کا اندیشہ ہو،مذکورہ صورت اگرچہ اکراہِ ملجی کے تحت داخل ہے،کیونکہ بیوی خود کشی کی دھمکی دے رہی تھی اور اس سے یہ اقدام بعید بھی نہیں تھا،اس لئے کہ اس سے قبل وہ خود کو گولی مارچکی تھی،جس کے نتیجے میں شوہر پر پولیس کیس بن گیا تھا،جس کی وجہ سے شوہر کو اس موقع پر بھی اس بات کا ڈر تھا کہ اگر بیوی خود کو نقصان پہنچادے تو پہلے کی طرح اس کے خلاف پولیس کیس  بن جائےگا،جس کے نتیجے میں اسےتشدد کے ساتھ قیدوبند کی صعوبت جھیلنی پڑے گی،خاص کر بیوی کے خود کو قتل کرنے کی صورت میں اس کے خلاف قتل کا کیس بن سکتا تھا،لیکن احناف کامذہب اس حوالے سے یہ ہے کہ اکراہ ملجی کی حالت میں بھی زبانی طلاق واقع ہوجاتی ہے،البتہ تحریری طلاق واقع نہیں ہوتی  اورحنفی ہونے کی حیثیت سے ہم احناف کے مذہب کے مطابق عمل کرنے کے پابندہیں۔

اور دوسری بات کے حوالے سے پہلے تو یہ واضح ہو کہ یہ حکم پوچھی گئی صورت پر دیانتا ًبھی منطبق نہیں ہوتا،کیونکہ یہ حکم اس صورت سے متعلق ہے جب طلاق کا لفظ متعدد بار بولا جائے،جبکہ مذکورہ صورت میں تو شوہر نے متعدد بار طلاق کے الفاظ بولے ہی نہیں کہ ان میں دیانتا تاکید کی نیت معتبر قرار دی جائے،بلکہ اس کے الفاظ یہ تھے:"میں نے تمہیں تین طلاقیں دیں"۔

اور"  طلاق" کا لفظ متعدد بار بولنے کی صورت میں بھی اگر تاکید کی نیت ہو تو دیانتا ًاگرچہ ایک طلاق واقع ہوتی ہے،لیکن طلاق کے معاملےمیں  عورت قاضی کی طرح ظاہر کے مطابق عمل کی مکلف ہے،اس لئے مذکورہ صورت میں بھی عورت قضاء کے مطابق تین طلاقیں  واقع سمجھے گی،جس طرح قاضی شوہر کی نیت کا خلاف ظاہر ہونے کی وجہ سے اعتبار نہیں کرے گا،اسی طرح بیوی بھی اس کا اعتبار نہیں کرے گی۔

جبکہ تیسری بات کے حوالے سے عرض یہ ہے کہ شوافع کے نزدیک مذکورہ صورت میں ایک طلاق کے وقوع کا حکم سمجھ نہیں آیا،کیونکہ شوافع کے نزدیک جب حالت اکراہ میں طلاق واقع ہوتی ہی نہیں ہے تو پھر مذکورہ صورت میں  ان کے مذہب کے مطابق اکراہ کی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہونی چاہیے۔

علاوہ ازیں صحابہ کرام سے لے کر آج تک ائمہ اربعہ سمیت جمہور اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ اکٹھی تین طلاقیں دینے سے تین ہی واقع ہوتی ہیں ،خود حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فتاوی بھی اسی کے مطابق ہیں ،اس لئے اس حوالے سے غیر مقلدین کی رائے کے مطابق عمل کرنے کی گنجائش نہیں ہے، جس کی مدلل تردید پر علماء نے مفصل کتابیں لکھی ہیں ،تفصیل کے لئے دیکھیں:" الطلقات الثلاث" ،مولانا سرفراز خان صفد ر رحمہ اللہ  کی ،مسئلہ طلاق ثلاثہ ،مصنف مولانا شفیع اوکاڑوی صاحب اور"طلاق ثلاثہ صحیح ماخذ کی روشنی میں" جس کے مصنف مولانا حبیب قاسمی صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند  ہیں ،نیز" فتاوی محمودیہ:" 12\374اور "خیرالفتاوی": 5\30 پر بھی اس موضوع پر تفصیلی بحث موجود ہے۔

مذکورہ صورت میں 2017ء میں دی گئیں تین طلاقیں اگرچہ دوسری جگہ نکاح کی وجہ سے کالعدم ہوگئیں تھی،لیکن 2022ء میں دی گئیں تین طلاقوں کی وجہ سے آپ کی بیوی  دوبارہ آپ پر حرمت غلیظہ کے ساتھ حرام ہوچکی تھی،جس کے بعد رجوع اور دوبارہ نکاح ممکن نہیں تھا،لہذا اس کے بعد آپ دونوں کا میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنا جائز نہیں تھا،آپ دونوں کے ذمے لازم ہے کہ فوری طور پر ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجائیں اور اب تک بغیر نکاح کے ساتھ رہنے پر سچے دل سے ندامت کے ساتھ کثرت سے توبہ و استغفارکریں۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (6/ 133):

"(فإن أكره على أكل ميتة أو دم أو لحم خنزير أو شرب خمر بإكراه) غير ملجئ (بحبس أو ضرب أو قيد لم يحل) إذ لا ضرورة في إكراه غير ملجئ".

قال العلامة ابن عابدین رحمہ ﷲ:"(قوله: بحبس) قال بعض المشايخ: إن محمدا أجاب هكذا بناء على ما كان من الحبس في زمانه، فأما الحبس الذي أحدثوه اليوم في زماننا فإنه يبيح التناول كما في غاية البيان شرنبلالية".

"الفتاوى الهندية "(5/ 38):

"وإن هدده بالحبس المؤبد أو بالقيد المؤبد، لا يباح له التناول إذا كان لا يمنع منه الطعام والشراب. من مشايخنا من قال: إذا كان الرجل متنعما ذا مروءة يشق عليه ذلك بحيث يقع في قلبه أنه متى لم يتناول يموت بسبب الحبس أو القيد أو يذهب عضو من أعضائه يباح له التناول، وكذا لو هدده بالحبس في مكان مظلم، يخاف منه ذهاب البصر لطول مقامه فيه، فإنه يباح له التناول.

وقد قال بعض مشايخنا بأن محمدا - رحمه الله تعالى - إنما أجاب هكذا بناء على ما كان من الحبس في زمانه، فأما الحبس الذي أحدثوه اليوم في زماننا، فإنه يبيح التناول".

"الدر المختار " (3/ 235):

"(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح".

"بدائع الصنائع " (3/ 100):

"وأما كون الزوج طائعا فليس بشرط عند أصحابنا وعند الشافعي شرط حتى يقع طلاق المكره عندنا وعنده لا يقع ونذكر المسألة في كتاب الإكراه إن شاء ﷲ تعالى وذكر محمد بإسناده «أن امرأة اعتقلت زوجها وجلست على صدره ومعها شفرة فوضعتها على حلقه، وقالت: لتطلقني ثلاثا أو لأنفذنها فناشدها ﷲ أن لا تفعل فأبت فطلقها ثلاثا فذكر لرسول ﷲ- صلىﷲ عليه وسلم - فقال لا قيلولة في الطلاق»" .

"العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية" (1/ 37):

"(سئل) في رجل ،قال لزوجته :روحي طالق وكررها ثلاثا ناويا بذلك جميعه واحدة وتأكيدا للأولى وزجرها وتخويفها وهو يحلف بالله العظيم أنه قصد ذلك لا غيره فهل يقع عليه بذلك واحدة رجعية ديانة حيث نواها فقط وله مراجعة زوجته في العدة بدون إذنها حيث لم يتقدم له عليها طلقتان؟

(الجواب) : لا يصدق في ذلك قضاء ؛لأن القاضي مأمور باتباع الظاهر والله يتولى السرائر وإذا دار الأمر بين التأسيس والتأكيد، تعين الحمل على التأسيس كما في الأشباه .ويصدق ديانة أنه قصد التأكيد ويقع عليه بذلك طلقة واحدة رجعية ديانة حيث نواها فقط وله مراجعتها في العدة بدون إذنها حيث لم يتقدم له عليها طلقتان ؛لأن روحي طالق رجعي كما في الفتاوى الخيرية والتمرتاشي وغيرهما. وأما روحي فقط فإنه كناية ؛إذ هو كاذهبي كما صرح به صاحب البحر لكن لا يصدق أنه قصدا لتأكيد إلا بيمينه؛ لأن كل موضع كان القول فيه قوله إنما يصدق مع اليمين ؛لأنه أمين في الإخبار عما في ضميره والقول قوله مع يمينه كما في الزيلعي وأفتى بذلك التمرتاشي.

وقال في الخانية: لو قال أنت طالق، أنت طالق ،أنت طالق وقال: أردت به التكرار، صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا. اهـ. ومثله في الأشباه والحدادي وزاد الزيلعي أن المرأة كالقاضي فلا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو علمت به؛ لأنها لا تعلم إلا الظاهر. اهـ".

"البحر الرائق " (3/ 257):                                                                                                                                                    

"ولا حاجة إلى الاشتغال بالأدلة على رد قول من أنكر وقوع الثلاث جملة لأنه مخالف للإجماع كما حكاه في المعراج ولذا قالوا: لو حكم حاكم بأن الثلاث بفم واحد واحدة لم ينفذ حكمه؛لأنه لا يسوغ فيه الاجتهاد لأنه خلاف لا اختلاف".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

25/صفر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب