| 89305 | زکوة کابیان | مستحقین زکوة کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے ایک دوست کا پرانی کتابوں کا کاروبار ہے جنہیں وہ امپورٹ کرتا ہے۔ ان میں کچھ کتابیں نایاب ہوتی ہیں اور کچھ ایسی جن کی اصل قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے، مگر پرانے ہونے کی وجہ سے وہ وزن کے حساب سے سستی مل جاتی ہیں۔ کچھ دوست زکوٰۃ ادا کرنا چاہتے ہیں تو یہ تاجر ان سے کہتا ہے کہ وہ زکوٰۃ کی رقم اسے دے دیں، وہ بدلے میں اپنی طرف سے مستحقین کو کتابیں پہنچا دے گا۔ لوگ اسے رقم دے دیتے ہیں اور وہ مستحقین تک کتابیں پہنچا دیتا ہے۔ مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی قیمت کیسے مقرر کی جائے؟ مارکیٹ میں ان کتابوں کی خرید و فروخت بہت کم ہے، اس لیے مارکیٹ ریٹ معلوم نہیں ہوتا، اور اصل قیمت(نئی کتاب کی قیمت) کا اعتبار اس لیے مشکل ہے کہ ایک تو وہ اس قیمت پر فروخت نہیں ہوتیں، دوسرا تاجر کو وہ کتابیں اس سے کہیں کم قیمت پر ملی ہوتی ہیں۔ ایسے میں زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے کس قیمت کو بنیاد بنا کر کتابیں دی جائیں؟ اگر قیمت زیادہ رکھی جائے تو مستحقین کے حق میں کمی کا اندیشہ ہے، اور اگر کم رکھی جائے تو تاجر کے نقصان کا احتمال ہے، جبکہ کاروبار کی نوعیت کی وجہ سے کوئی یقینی مارکیٹ ریٹ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ لہٰذا رہنمائی فرمائیں۔ اللہ پاک دنیا و آخرت میں آپ کو اپنی عطاؤں سے نوازے۔ آمین۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زکوۃ کی ادائیگی میں بہتر صورت یہ ہے کہ مستحقین زکاۃ کو رقم دی جائے تاکہ وہ سہولت سے اپنی ضرورت کی اشیاء خرید سکیں، البتہ پیسوں کے بجائے کوئی شخص زکاۃ کی مد میں مستحقین زکاۃ کوکتابیں دینا چاہے، تو وہ بھی دے سکتا ہے،پھربہتریہ ہےکہ کتابیں نئی ہوں، تاہم اگرکوئی پرانی کتابیں بھی زکوة میں دیدےتو بہرحال زکوة اس کی ادا ہوجائے گی۔
مسئولہ صور ت میں زکوٰۃ کی ادائیگی کاطریقہ یہ ہےکہ آپ پہلے کتابیں خود یا کسی وکیل کے ذریعے اس تاجرسےخریدیں اور قبضہ حاصل کریں، پھر اسی تاجر کو بطور وکیل مستحقین تک کتابیں پہنچانے کا اختیار دیں۔ کتابیں خریدتے وقت جو قیمت باہمی رضامندی سے آپ دونوں میں طے ہوجائے، اسی قیمت کے مطابق زکوٰۃ دی جائے۔
براہِ راست تاجر کو پیسہ دے کر ان سے بغیرقبضہ کے کتابیں مستحقین کو دلوانا درست نہیں ہے، کیونکہ خریداری اور وکالت دونوں معاملات ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتےورنہ توتملیک قبل القبض کی خرابی لازم آئے گی،لہذا پہلے خریداری اورقبضہ ضروری ہوگااورپھر توکیل کی جائے گی، اس طریقے سے زکوٰۃ کی ادائیگی واضح اور شریعت کے مطابق ہو جائے گی،مستحقین کا حق بھی محفوظ رہے گا اور تاجر کو بھی نقصان نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
قال العلامۃ السرخسي رحمہ اللہ :
أداء القيمة أفضل ؛ لأنه أقرب إلى منفعة الفقير، فإنه يشتري به للحال ما يحتاج إليه. (المبسوط للسرخسي:4/ 114)
قال العلامۃ السرخسي رحمہ اللہ :
ويجزئه أن يعطي من الواجب جنسا آخر من المكيل والموزون أو العروض أو غير ذلك بقيمته، وهذا عندنا. (المبسوط للسرخسي: 2/ 203)
قال العلامۃ الکاساني رحمہ اللہ :
وأما الذي يرجع إلى المودي فمنها أن يكون مالا متقوما على الإطلاق سواء كان منصوصا عليه أو لا من جنس المال الذي وجبت فيه الزكاۃ أو من غير جنسه .والأصل أن كل مال يجوز التصدق به تطوعا يجوز أداء الزكاة منه وما لا فلا، وهذا عندنا .( بدائع الصنائع: 41/2)
قال جمع من العلماء رحمهم اللہ :
المال الذي تجب فیہ الزکاۃ إن أدی زکاتہ من خلاف جنسہ،أدی قدر قیمۃ الواجب إجماعا. (الفتاوى الهندية : 180/1)
وفی المعجم للطبرانی :
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تحل صفقتان في صفقة»."(باب الألف، من اسمه أحمد، ج: 2 ص: 169 ط: دار الحرمین)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
11/06/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


