| 89948 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاتہ۔ براہِ کرم درجِ ذیل صورتِ حال میں اسلامی قوانینِ وراثت کے مطابق رہنمائی فرمائیں:شوہر کی وفات ہو چکی ہے اور ترکہ کی کل مالیت 18,500,000 ہے۔ترکہ درج ذیل ورثہ میں تقسیم کیا جانا ہے: • والدہ • بیوی • 3 بیٹیاں • 1 بھائی • 1 بہن • کوئی بیٹا نہیں ہے۔ جزاکم اللہ خیراً۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مورث نے اپنے انتقال کے وقت منقولہ ، غیر منقولہ جو کچھ چھوڑا ہےاور اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، وہ سب ان کا ترکہ ہے۔ اس میں سےسب سے پہلےان کی تجہیز و تکفین کےمتوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطور احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد دیکھا جائے گاکہ اگر ان کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے گا۔
اس کے بعد جو کچھ بچےاس میں سے فیصدی اعتبار سے میت کی بیوی کو12.5% (2,312,500) ہر ایک بیٹی کو22%.22 (4,110,700) والدہ کو%16.66 (3,082,100) بھائی کو78%.2 (515,533) اور بہن کو %39.1(257,767)ملے گا۔
|
ورثہ |
زوجہ |
بیٹی |
بیٹی |
بیٹی |
والدہ |
بھائی |
بہن |
|
عددی حصہ |
9 |
16 |
16 |
16 |
12 |
2 |
1 |
|
فیصدی حصہ |
12.5% |
22%.22 |
22%.22 |
22%.22 |
%16.66 |
78%.2 |
%39. 1 |
حوالہ جات
سورۃ النساء:آیت(11)
" يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ".
سورۃ النساء:آیت( 12)
"وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ".
الفتاوى الهندية (6/ 447)
التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف، كذا في المحيط ...ويكفن في مثل ما كان يلبس من الثياب الحلال حال حياته على قدر التركة من غير تقتير ولا تبذير، ...وأما ما ثبت بالبينة أو بالمعاينة فهو ودين الصحة سواء، كذا في المحيط ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث...
محمد شاہ جلال
دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
09/شعبان المعظم /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


