03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ورثہ کے مشترکہ پیسوں سے خریدے ہوئے پلاٹ کی ملکیت کا حکم
89967شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

ہم چھ بھائی ،ایک حقیقی بہن اور ایک ماں شریک بہن ہے۔ ہم میں سے دو بھائی علیحدہ جبکہ چار بھائی اور ایک حقیقی بہن والدین کے ساتھ جوائنٹ فیملی میں رہتے تھے جو اپنے جیب خرچ کے علاؤہ تمام رقم والدہ  کے حوالے کر دیتے تھےتاکہ ان پیسوں سے وہ گھر کا خرچ چلائیں اور ہماری شادی وغیرہ کے انتظامات کر سکیں۔ والدہ نے ان پیسوں سے اپنی زندگی میں ایک پلاٹ خریدا جسے سیکورٹی کی غرض سے ایک بھائی کے نام جو نسبتاً مالی طور پر کمزور تھا  اس نے اپنے نام کرایاتاکہ انہیں خود بڑھاپے میں اور ہمارے ایک بھائی کو مسقبل میں تحفظ رہے۔ اب والدہ کا انتقال ہو چکا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ یہ پلاٹ ترکہ شمار ہو گا یا اپنی بچت امی کے ہاتھ دینے والے بھائیوں کی مشترکہ ملکیت تصور ہو گی۔ اگر ترکہ ہے تو اس میں علیحدہ رہنے والے بھائیوں اور ماں شریک بہن کا بھی حصہ ہو گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ  میں جوائنٹ فیملی میں رہنے والی  اولاد  اپنی کمائی سے جو پیسے والدہ کو دیتی رہی  وہ والدین کے لیے ہدیہ ہے   اور والدہ نے  ان پیسوں سے  جو پلاٹ خریدا  ہے  وہ والدین  کی وفات کے بعد  ترکہ میں شمار ہوگا، لہذا اس میں پیسے دینے والے ورثہ کے علاوہ علیحدہ رہنے والے ورثہ بھی حق دار ہو ں گے  ۔

حوالہ جات

: (431/4)  الفتاوی الھندیۃ

ولیس لہ  حق الرجوع بعد التسلیم فی ذی الرحم المحرم  .ولا یرجع فی الھبۃ من المحارم بالقرابۃ کالآباء والأمھات وإن علوا والأولاد وإن سفلوا۔ وأولاد البنین والبنات فی ذٰلك سواء.

العقود الدرایہ فی تنقیح الحامدیہ،226/2)ص(:

المتبرع لا يرجع بما تبرع به على غيره كما لو قضى دين غيره بغير أمره."

درر الحکام فی شرح مجلتہ الاحکام ،51/1)ص(:

المعروف عرفا کالمشروط شرطا.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي )4/ 325(:

لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له ألا ترى لو غرس شجرة تكون للأب ثم ذكر خلافا في المرأة مع زوجها إذا اجتمع بعملهما أموال كثيرة، فقيل هي للزوج وتكون المرأة معينة له، إلا إذا كان لها كسب على حدة فهو لها، وقيل بينهما نصفان.

سلیم اصغر بن محمد اصغر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

9/شعبان المعظم /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سلیم اصغر بن محمد اصغر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب