| 89942 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
ہمارے شہر میں رواج ہے کہ نکاح کے موقع پر لڑکی والے بہت زیادہ حق مہر لکھواتے ہیں جو کہ شوہر کی استطاعت سے باہر ہوتا ہے ۔ مقصد اس کا یہ ہوتا ہے کہ بیوی کو تحفظ حاصل ہو اور شوہر آسانی سے بیوی کو طلاق نہ دے سکے ۔ اگر لڑکی والوں کی شرائط کو تسلیم نہ کیا جائے تو وہ رشتہ دینے سے صاف انکار کر دیتے ہیں ۔ شوہر ساری زندگی اپنی بیوی کا مقروض رہتا ہے اور بیوی کا حق مہر ادا نہیں کر سکتا ۔ حدیث میں حق مہر ادا نہ کرنے والے شوہر کے لیے بہت وعیدیں آئی ہیں اور حق مہر ادا نہ کرنے والے شوہر کو زانی قرار دیا گیا ہے ۔ کیا شریعت کی رو سے اتنا زیادہ حق مہر لکھوانا جائز ہے جو شوہر کی استطاعت سے باہر ہو اور شوہر ساری زندگی اسے ادا نہ کر سکتا ہو ؟؟؟ اگر ایسا شوہر حق مہر ادا نہ کر سکے تو کیا اس پر وعیدیں لاگو ہوں گی؟ وضاحت فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت مطہرہ میں مہر مقرر کرنے میں اعتدال اختیار کرنے کا حکم ہے نہ بہت زیادہ کم ہو کہ بیوی کے لیے باعث شرم ہو اور نہ ہی اتنا زیادہ ہوکہ شوہر کی استطاعت سے باہر ہو لہذا اس سلسلے میں علاقے کے دین دار اور سمجھدار لوگوں کو مل کر کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ عام لوگوں کو شادی میں دشواری نہ ہو ۔
مہر ادا نہ کرنے کی وعیدوں کا مصداق وہ شخص ہے جو نکاح کے وقت زیادہ مہر مقرر کرے اور اس کا مہر دینے کا ارادہ نہ ہو اور پوری زندگی مہر ادا نہ کرے جبکہ صورت مسئولہ میں مہر کی زیادتی کا مقصد یہ کہ شوہر بیوی کو طلاق نہ دے سکے لہذا مذکورہ شخص ان وعیدوں کا مصداق نہیں ہوگا البتہ ان فاسد رسموں کے خاتموں کے لیے اقدامات کرنے چاہییں اور نکاح کو آسان بنانا چاہیے۔
حوالہ جات
مصنف ابن أبي شيبة) 4/ 24(:
حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر، عن إسماعيل بن نافع، عن زيد بن أسلم، قال: سمعته يقول: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «من نكح امرأة وهو يريد أن يذهب بمهرها، فهو عند الله زان يوم القيامة.
مشکاۃ المصابیح،285/2)ص(:
عن عمر بن الخطاب قال: ألا لا تغالوا صدقة النساء؛ فإنها لو کانت مکرمة في الدنیا وتقوی عند اللہ لکان أولاکم بها نبي اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما علمت رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم نکح شیئًا من نسائه ولا أنکح شیئا من بناته علی أکثر من اثنتي عشرة أوقیة".
مرقاۃالمفاتیح ،2048/5)ص(:
(وعن عائشة) رضي الله عنها (قالت: «قال النبي صلى الله عليه وسلم الله عليه وسلم: إن أعظم النكاح بركة») أي: أفراده وأنواعه (أيسره) أي: أقله أو أسهله، (مؤنة) أي: من المهر والنفقة للدلالة على القناعة التي هي كنز لا ينفد ولا يفنى."
حاشیہ ابن عابدین،100/3)ص(:
والواجب بالعقد إنما هو مهر المثل، ولذا قالوا إنه الموجب الأصلي في باب النكاح وأما المسمى،فإنما قام مقامه للتراضي به.
سلیم اصغر بن محمد اصغر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
06/شعبان المعظم /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سلیم اصغر بن محمد اصغر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


