| 89964 | ایمان وعقائد | ایمان و عقائد کے متفرق مسائل |
سوال
میرا سوال حضرت امام مہدی کے بارے میں ہےکہ شیعہ اور سنی امام مہدی میں کیا فرق ہے؟ نیز ہمارے گلگت میں بعض لوگ جانے انجانے میں شیعیت کی دشمنی میں امام مہدی کی توہین کرتے ہیں۔ جیسے کچھ لوگوں کا امام غار میں چھُپ کر بیٹھا ہوا ہے وغیرہ۔ ایسے کلمات کہنا کیسا ہے؟ اس بارے میں بھی رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اہل سنت والجماعت کےعقیدے کے مطابق امام مہدی قرب ِ قیامت میں پیدا ہوں گے اور وہ عبداللہ کے بیٹے ہوں گے جن کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارت فرمائی ہے ۔ان کی قیادت میں مسلمان یکجا ہوں گے ۔امام مہدی کے ظہور سے متعلق کتب احادیث میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : " دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک شخص عرب کا بادشاہ نہ بن جائے ، جس کا نام میرے نام پر ہو گا ، اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا " یعنی اس کا نام محمد بن عبد اللہ ہو گا اور وہ حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی نسل سے ہو گا۔
امام مہدی علیہ الرضوان کے ظہور سے قبل ہر طرف ظلم و ستم چھایا ہوگا ، زلزلوں کی کثرت ہوگی اور ملک عرب و شام میں ایک شخص پیدا ہو گا جس کا تذکرہ کتابوں میں سفیانی کے نام سے موجود ہے ، جو سادات کو قتل کرے گا، شام اور عرب پر اس کی حکومت قائم ہو گی، اسی دوران شاہ روم کی عیسائیوں کی ایک جماعت سے جنگ اور دوسرے فرقہ سے صلح ہوگی ، شاہ روم ملک شام میں پہنچ جائے گا۔
اور عیسائیوں کے دوسرے فریق کی اعانت سے اسلامی فوج ایک خونریز جنگ کے بعد فریق مخالف پر فتح پائے گی ، دشمن کی شکست کے بعد فوج میں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی ، عیسائی ملک شام پر قبضہ کر لیں گے اور آپس میں ان دونوں عیسائی قوموں کی صلح ہو جائے گی، باقی مسلمان مدینہ منورہ چلے آئیں گے۔
اس وقت مسلمان اس فکر میں ہوں گے کہ امام مہدی کو تلاش کرنا چاہیے؛ تاکہ ان کے ذریعے سے یہ مصیبتیں دور ہوں، اور دشمن کے پنجے سے نجات ملے ، حضرت امام مہدی اس وقت مکہ معظمہ کی طرف چلے جائیں گے ، اس زمانے کے اولیاء کرام اور ابدال عظام آپ کو تلاش کریں گے ۔
حضرت مهدی علیہ الرضوان رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوں گے کہ ابدالوں کی ایک جماعت آپ کو پہچان لے گی اور آپ کے نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلے گی، ان کی بیعت کے بعد مخالفین کا ایک گروہ اٹھے گا، لیکن اللہ تعالی اس لشکر کو اول تا آخر مقام بیداء میں زمین میں دھنسا دیں گے (اس جماعت کو بعث الخسف سے تعبیر کیا جاتا ہے) جب یہ ماجرا شام کے ابدال اور عراق کی منتخب جماعتیں دیکھیں گی تو وہ بھی ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گی، پھر ایک قریشی شخص اٹھے گا جس کا ننہیال قبیلہ کلب ہوگا ، یہ قریشی شخص ان بیعت کرنے والوں کے خلاف ایک لشکر بھیجے گا ، لیکن اللہ کی مدد سے یہ لشکر بھی مغلوب ہو جائے گی (اس جماعت کو بعث کلب کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے)۔
جب کہ شیعہ کتب کے مطابق امام مہدی پیدا ہو چکے ہیں اور وہ حسن عسکری کے بیٹے محمد بن حسن عسکری ہیں جن کو امام زمانہ "قائم آل محمد "جیسے القابات سے یاد کیا جاتا ہے اور وہ اس وقت غار سر من رایٰ میں زمانہ غیبت گزار رہے ہیں آخر وقت میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ظہور فرمائیں گے ، شیعہ حضرات اب تک ان کے انتظار میں ہیں اسی لیے انہیں امام منتظر کہتے ہیں ۔
مزید تفصیل کے لیے البدایۃ والنھایۃ لابن کثیر رحمہ اللہ " اور تہذیب التہذیب لابن حجر رحمہ اللہ " کا مطالعہ مفید رہے گا۔
تاہم مختلف قسم کے طنزیہ جملے بول کر اہل تشیع کے عقائد اور ان کی مذھبی شخصیات کا مذاق اڑانا ایک غیر سنجیدہ طرز عمل ہے جس سے بچنا لازم ہے ۔ورنہ اس کے نتیجہ میں مخالف گروہ بھی ہماری مقدس شخصیات کی توھین کریں گے۔
حوالہ جات
سنن أبي داود (4/ 106 ت محيي الدين عبد الحميد):
حدثنا مسدد، أن عمر بن عبيد، حدثهم، ح وحدثنا محمد بن العلاء، حدثنا أبو بكر يعني ابن عياش، ح وحدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، ح وحدثنا أحمد بن إبراهيم، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا زائدة، ح وحدثنا أحمد بن إبراهيم، حدثني عبيد الله بن موسى، عن فطر، المعنى واحد، كلهم عن عاصم، عن زر، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لو لم يبق من الدنيا إلا يوم- قال زائدة في حديثه: لطول الله ذلك اليوم، ثم اتفقوا - حتى يبعث فيه رجلا مني- أو من أهل بيتي- يواطئ اسمه اسمي، واسم أبيه اسم أبي " زاد في حديث فطر: يملأ الأرض قسطا، وعدلا كما ملئت ظلما وجورا وقال: في حديث سفيان: لا تذهب، أو لا تنقضي، الدنيا حتى يملك العرب رجل من أهل بيتي، يواطئ اسمه اسمي. قال أبو داود: لفظ عمر وأبي بكر بمعنى سفيان.
سنن الترمذي (4/ 287):
حدثنا عبيد بن أسباط بن محمد القرشي، حدثني أبي، حدثنا سفيان الثوري، عن عاصم بن بهدلة، عن زر،عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تذهب الدنيا حتى يملك العرب رجل من أهل بيتي يواطئ اسمه اسمي".
وفي الباب عن علي، وأبي سعيد، وأم سلمة، وأبي هريرة.هذا حديث حسن صحيح.
الحاوي للفتاوي (2/ 72):
وأخرج (ك) البزار والحارث بن أبي أسامة والطبراني عن قرة المزني قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لتملؤن الأرض جورا وظلما، فإذا ملئت جورا وظلما بعث الله رجلا مني، اسمه اسمي واسم أبيه اسم أبي، فيملأها عدلا وقسطا كما ملئت جورا وظلما، فلا تمنع السماء شيئا من قطرها، ولا الأرض شيئا من نباتها، يمكث فيهم سبعا أو ثمانيا، فإن أكثر فتسعا".
وأخرج (ك) البزار عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم كان نائما في بيت أم سلمة، فانتبه وهو يسترجع، فقالت: يا رسول الله، مم تسترجع؟ " قال: من قبل جيش يجيء من قبل العراق في
طلب رجل من أهل المدينة، يمنعه الله منهم، فإذا علوا البيداء من ذي الحليفة خسف بهم، فلا يدرك أعلاهم أسفلهم، ولا يدرك أسفلهم أعلاهم إلى يوم القيامة ".
حوالہ شیعۃ کتب:
کتاب الغیبۃ للشیخ الطوسی :ص۴۳۷
٤٢٨ - الفضل بن شاذان ، عن الحسن بن علي الوشاء ، عن أحمد بن عائد ، عن أبي خديجة قال : قال أبو عبد الله عليه السلام : لا يخرج القائم حتى يخرج اثنا عشر من بني هاشم كلهم يدعو إلى نفسه .
کتاب الغیبۃ :ص:۴۳۶
٤٢٦ -وبهذا الإسناد ، عن ابن فضال ، عن حماد ، عن الحسين بن المختار ، عن أبي نصر ، عن عامر بن واثلة ، عن أمير المؤمنين عليه السلام قال :قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : عشر قبل الساعة لا بد منها :
السفياني ، والدجال ، والدخان ، والدابة وخروج القائم ، وطلوع الشمس من مغربها ، ونزول عيسى عليه السلام ، وخسف بالمشرق وخسف بجزيرة العرب ، ونار تخرج من قعر عدن تسوق الناس إلى المحشر .
فتاوى نور على الدرب لابن باز - بعناية الشويعر (4/ 287):
هل صحيح أن المهدي المنتظر سوف يظهر، أم أنها بدعة مع العلم أنه لا يوجد بعد وفاة نبينا محمد صلى الله عليه وسلم معجزات، أرشدونا جزاكم الله خيرا مع التحيات؟
ج: المهدي المنتظر صحيح، وسوف يقع في آخر الزمان، قرب خروج الدجال ونزول عيسى عند اختلاف بين الناس، عند موت خليفة فيخرج المهدي، ويبايع ويقيم العدل في الناس سبع سنوات أو تسع سنوات، وينزل في وقته عيسى ابن مريم، عليه الصلاة والسلام، هذا جاءت به أحاديث كثيرة، أما المهدي الذي يدعي الرافضة هذا لا أصل له، مهدي الشيعة صاحب السرداب هذا لا أصل له عند أهل العلم، بل هو خرافة لا أساس لها ولا صحة لها.
أما المهدي المنتظر الذي جاءت به الأحاديث الصحيحة، ومن بيت النبي صلى الله عليه وسلم، من أولاد فاطمة رضي الله عنها، وهو سمي النبي محمد وأبوه عبد الله فهذا حق وجاءت به الأحاديث الصحيحة، وسيقع في آخر الزمان، ويحصل بسبب خروجه وبيعته مصالح للمسلمين في إقامة العدل ونشر الشريعة، وإزالة الظلم عن الناس، وجاء في الأحاديث أن الأرض تملأ عدلا،
بعدما ملئت جورا في زمانه وأنه يخرج عند وجود فتنة بين الناس واختلاف على أثر موت الخليفة القائم فيبايعه أهل الإيمان والعدل بما يظنه فيه من الخير والاستقامة وأنه من بيت النبوة.
عادل ارشاد
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
20/شعبان المعظم /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


