03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تہمت لگانے کی صورت میں بغیرلعان کے عدالتی خلع کا حکم
89628طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

ایک لڑکی پیدائشی طور پر بولنے اور سننے کی طاقت سے محروم ہے، ایف اے کیا ہوا ہے، کچھ سال قبل اس کا نکاح ہوا، شوہر نے شروع سے ہی اس پر الزامات لگانا شروع کر دیے اور کہا کہ یہ حمل میرا نہیں ہے، اس کو ضائع کر دو، لڑکی کو بہت تکلیف ہوئی، ایک ماہ بعد لڑکی اپنے والدین کے گھر آگئی اور واپس جانے سے انکار کر دیا، لڑکے کے گھروالے آئے اور بیٹھ کر مسئلہ حل کرنا چاہا، مگر لڑکے نے آنے سے انکار کیا، اسی دوران بچہ پیٹ میں فوت ہو گیا، جس کی وجہ سے اسقاط کروانا پڑا، جس کےاخراجات وغیرہ میں اس کے سسرال والے بالکل شریک نہیں ہوئے۔ آخر کار لڑکی نے والدین نے عدالت میں کیس دائر کیا، لڑکے نےعدالت آنے سے انکار کیا، عدالت نے  معاملہ یونین کونسل کے سپرد کیا، لڑکے کو باربار نوٹس ملنے کے باوجود لڑکا یونین کونسل بھی نہ آیا، یونین کونسل نے بولنے اور سننے کی طاقت سے محروم ایک شخص کو تحقیق کے لیے مقرر کیا کہ کہیں لڑکی پر کسی قسم کا دباؤ تو نہیں ہے؟ اس نے تحقیق کر کے بتایا ایسا کچھ نہیں ہے، پھرآخر کار یونین کونسل نے تھک ہار کر خلع کا فیصلہ صادر فرمایا، لڑکی کا مکمل سامان سسرال کے ہی گھر میں ہے، جو انہوں نے ابھی تک نہیں دیا، اب لڑکی کے والدین لڑکی کا دوسری جگہ نکاح کرنا چاہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا لڑکی کا دوسری جگہ نکاح کیا جا سکتا ہے؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ لڑکا نشہ بھی کرتا ہے،اس نے لڑکی پر زنا کی تہمت لگائی، پھربچہ کے ماں کے پیٹ میں فوت ہونے کی وجہ جب اسقاطِ حمل کرنا پڑا تو  موقع پر لڑکے اور اس کے گھر والوں نے کوئی رابطہ اور خرچہ وغیرہ نہیں کیا، نیز لڑکی پر تہمت لگانے اور اسقاط حمل کے دوران ایک ماہ کا وقفہ تھا، کام بھی کوئی نہیں کرتا، ہم نے خلع کا کیس دائر کیا اور عدالت میں اس کے میسجز وغیرہ سارے ثبوت دکھائے جو اس نے لڑکی کو بھیجے تھے، لڑنے کو نوٹس بھیجے گئے، لیکن لڑکا عدالت نہ آیا، پھر عدالت نے معاملہ یونین کونسل کے حوالے کیا تو تین ماہ تک معاملہ چلتا رہا، ہم آتے جاتے رہے، لڑکے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، یونین کونسل نے بھی اس کو نوٹس بھیجے، مگر لڑکا ایک مرتبہ بھی حاضر نہ ہوا، سوال یہ کہ کیا یہ فسخ ِ نکاح درست ہے یا نہیں؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ نان ونفقہ نہ دینے یا مارنےوغیرہ کی کوئی وجہ نہیں، اصل میں جب لڑکے والے اسقاط  حمل کے موقع پر بھی نہیں آئے تو لڑکی نے کہا میں اس کے پاس نہیں جاؤں گی تو ہم نے عدالت سے رجوع کیا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی وضاحت کےمطابق لڑکی تہمت کے علاوہ فریقین کے درمیان فسخِ نکاح کی کوئی وجہ موجود نہیں تھی، باقی شوہرکی طرف سے لڑکی پر تہمت لگانے کا ثبوت اگرچہ یقینی طور پر موجود ہے، کیونکہ تہمت لگانےاور اسقاطِ حمل کے درمیان چھ ماہ سے کم وقفہ ہے اور ایسی صورت میں حمل کی نفی سے تہمت  کا تحقق ہو جاتا ہے، لیکن زناکی تہمت لگانے کی صورت میں میاں بیوی کے درمیان لعان (یہ ایک شرعی اصطلاح ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر شوہر بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اور بیوی انکار کرے تو عدالت فریقین کو بلا کر ہرایک سےاپنے اپنے موقف پر چار چار مرتبہ قسم کے ساتھ گواہی لی جاتی ہے اور پانچویں مرتبہ مرد کہتا ہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے اوپر اللہ کی لعنت ہو اور عورت کہتی ہے کہ اگر یہ شخص سچا ہے تو میرے اوپر اللہ کا غضب ہو) واجب ہوتا ہے اور لعان کے بعد فریقین کے درمیان نکاح ختم کردیا جاتا ہے، لیکن اگر شوہر لعان پر تیار نہ ہو تو اس کو حدِ قذف(تہمت) لگائی جاتی ہے، فسخِ نکاح نہیں کیا جاتا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں فریقین کے درمیان جب لعان نہیں ہوا توعدالت کی طرف سےبغیر کسی معتبر وجہ کے فسخِ نکاح کیا گیا، جو کہ شرعاً معتبر نہیں۔ نیز اس عدالتی فیصلےکو خلع بھی قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ خلع کے لیے فریقین کی رضامندی ضروری ہے، جبکہ لڑکا خلع دینے پر رضامند نہیں، اسی لیے اس نے خلع کے فیصلے پر دستخط نہیں کیے، لہذا یک طرفہ طور پر عدالت کی طرف سے جاری گیا خلع کا یہ فیصلہ شرعاً معتبر نہیں، لہذا فریقین کے درمیان بدستور نکاح قائم ہے اور لڑکے سے طلاق یا اس کی رضامندی سےخلع لیے بغیرلڑکی کا کسی اور جگہ نکاح کرنا جائز نہیں۔

 

حوالہ جات

الفتاوى الهندیة (514/1) الناشر: دار الفكر،بيروت:

"الباب الحادي عشر في اللعان:اللعان عندنا شهادات مؤكدات بالأيمان من الجانبين مقرونة باللعن والغضب قائمة مقام حد القذف في حقه، ومقام حد الزنا في حقها، كذا في الكافي ... حكمه: حرمة الوطء والاستمتاع لما فرغ من اللعان، ولكن لا تقع الفرقة بنفس اللعان حتى لو طلقها في هذه الحالة طلاقاً بائناً يقع، وكذا لو أكذب الرجل نفسه حل الوطء من غير تجديد النكاح، كذا في النهاية. قال أبو حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى: الفرقة الواقعة في اللعان فرقة بتطليقة بائنة؛ فيزول ملك النكاح وتثبت حرمة الاجتماع والتزويج ما دام على حالة اللعان، كذا في البدائع".

بداية المجتهد ونهاية المقتصد (3/ 90) الناشر: دار الحديث – القاهرة:

 وأما ما يرجع إلى الحال التي يجوز فيها الخلع من التي لا يجوز: فإن الجمهور على أن الخلع جائز مع التراضي إذا لم يكن سبب رضاها بما تعطيه إضراره بها.

والأصل في ذلك قوله تعالى: {ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة} [النساء: 19] وقوله تعالى: {فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229].

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

9/رجب المرجب1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب