03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایرانی بارڈر سے تیل لانے کے لیے رجسٹرڈ ٹوکن کی بیع کا حکم
89852خرید و فروخت کے احکام دین )معاوضہ جو کسی عقدکے نتیجے میں لازم ہوا(کی خرید و فروخت

سوال

ہمارے علاقے ضلع کیچ تربت مکران  (بلوچستان)میں  گاڑیوں کو ایران بارڈر سے تیل لانے کے لیے انتظامیہ کی طرف سے تقریباً دو ڈھائی سال سے ایک اجازت نامہ ٹوکن کے نام سے جاری کیا گیا ہے۔ابتداء میں گاڑی رجسٹر کرنے کا طریقہ یہ تھا کہ گاڑی کا مالک اپنا شناختی کارڈ ،گاڑی کا انجن نمبر اور دیگر تفصیلات  انتظامیہ کے پاس جمع کرواتا تو گاڑی  انتظامیہ کے ہاں رجسٹرڈ ہوجاتی تھی،پھر سرکاری علاقوں کی ترتیب سے مہینے میں ایک یا دو مرتبہ ان گاڑی مالکان کو تیل لانے کی اجازت اس طرح دی جاتی کہ انتظامیہ کی طرف سے مجاز افراد کے  نام اور شناختی کارڈ نمبرایک  لسٹ کی صورت میں سوشل میڈیا  پر  شائع کردیے جاتے،جس شخص  کا نام لسٹ میں آجاتا ہےوہ بارڈر کے قریب چو کی پر اپنا اصل شناختی کارڈ اور سیریل نمبر دکھا کر گیٹ پاس حاصل کرتا اور اسے جانے کی اجازت ملتی تھی۔ پہلے پہل اس کا حصول ہر ایک کے لیے آسان تھا ، علاقے کے لوگوں کے لیے اس کا اجراء ہوا تھا اور ان کو بآسانی مل جاتا تھا ،اور اس کے لیے زیادہ مشقت اور مال صرف کرنے کی ضرورت بھی  نہیں پڑتی تھی، البتہ اب لوگوں کی بہتات کے سبب اس کا حصول مشکل ہو گیا ہے ،  لوگ اثر ورسوخ استعمال کر کے اور رشوت دے کر یہ حاصل کرتے ہیں، اور غریب بے چارے اس سے محروم ہیں ۔

  ایک بات واضح کرتا چلوں کہ یہ اجازت نامہ اشخاص کو دیا جاتا ہے، گاڑی کا ابتداء میں صرف وجود اس کے حصول کے لیے ضروری ہے ، بعد میں کوئی بھی گاڑی بارڈر پر لے جا سکتے ہیں ، مطلب  یہ کہ اس کا تعلق کسی خاص گاڑی سے نہیں ہوتا۔نیز اس دوران بعض لوگوں نے اپنی سواری کی کرولا اور  مہران وغیرہ گاڑی  کوبھی  مال بردار گاڑی ظاہر کیا،اوران کا انجن نمبر درج کروا کر (ٹوکن) بیچنے کی نیت سے اپنا نام ٹوکن لسٹ میں شامل کیا ہے،جبکہ  بعض لوگوں کے پاس گاڑی بھی نہیں ہے یا صرف ایک گاڑی ہے اور  انہوں نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے تین تین چار چار ٹوکن حاصل کر لیے ہیں۔ اب ان کا نام آنے پر(یہ ٹوکن  لے کر دوسروں کو) فروخت کر دیتے ہیں۔ ہر ٹوکن کے لیے انتظامیہ کی طرف سے شناختی کارڈ کا مطالبہ کیا جاتا ہے، کیونکہ نام اور شناختی کارڈ نمبر سے باری کا اعلان کیا جاتا ہے، اس لئے ایک سے زیادہ ٹوکن رکھنے والوں نے دوسرے لوگوں کا شناختی کارڈ ان  کی رضامندی سے اس شرط پر حاصل کیا  ہوتا ہے کہ جب آپ کا نام آئے گا تو میں آپ کو پانچ یا دس ہزار روپے دوں گا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکار کی طرف سے اس کو بیچنے کی اجازت نہیں ہے، کیونکہ اگر بیچنے کی اجازت ہوتی تو یہ حق سرکاری لحاظ سے دوسرے کی ملک میں منتقل ہو سکتا ، مگر ایسا نہیں بلکہ جس کے نام پر یہ ٹوکن جاری ہوا ہو صرف اسی کو اس کے استعمال کا  حق ہوتا ہے ، کیونکہ جو حضرات اس کو بیچتے ہیں ، پھر بھی (زیادہ ٹوکن رکھنے والے)بائع کے شناختی کارڈ کے بغیر(ان کے خریدار)  اس کو استعمال نہیں کر سکتے ، مطلب یہ کہ بیچنے کے باوجود بھی کارڈ  سے استفادہ بائع کی اجازت پر موقوف ہوتا ہے۔باقی انتظامیہ بھی اس معاملے میں چشم پوشی سے کام لیتی ہے، کیوں کہ انتظامیہ کو کیا پر واہ کہ صاحبِ حق بارڈر پاس کر رہا ہے یا کوئی اور ؟  بلکہ اس کو اپنے لین ( تیل اتارنے کی باری) کے پیسے ملتے ہیں ، اس لیے انتظامیہ یہ سب دیکھ کر بھی خاموش ہے۔

لین کی اصطلاح جو معروف ہے وہ یہ ہے کہ انتظامیہ نے ہر علاقے میں کچھ آدمی مقرر کیے ہیں، وہ بغیر ٹوکن والی  گاڑیوں کو مزید باری لگانے کے لیے بارڈر پر جانے کے واسطے ان سے ٹوکن کی قیمت کے بقدر پیسے لے کر تیل لینے کے لیے بھیجتے ہیں،نیز ٹوکن انہی کی قہرستانیوں کا ثمرہ ہے ، روک ٹوک سے ان کے جیب آباد رہتے ہیں۔

آج کل ان ٹوکنوں کی  ویلیو بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ایک ٹوکن کی قیمت تین یا ساڑھے تین لاکھ تک پہنچ چکی ہے، اس لیے  بہت سے گاڑی والے اپنی باری کو بیچنے لگے ہیں، جس کی وجہ سے گاڑی بھی محفوظ ہو گی اور سفر کی مشقت بھی نہیں اٹھانی پڑے گی،اور جو شخص اپنی باری بیچتا ہےتو اسے اپنا شناختی کارڈ بھی مشتری کے حوالے کرنا پڑتا ہے۔

نوٹ: یہ عارضی طور پر بغیر کسٹم ڈیوٹی کے بے روزگاری کی وجہ سے اجازت دی گئی ہے ، اور یہ اجازت عمومی اور ہمیشہ کے لیے  نہیں جیساکہ  کسٹم ڈیوٹی کی صورت ہے، بلکہ یہ کبھی بھی بند ہو سکتی ہے۔ نیز اب تک اس اجازت نامہ کی کوئی سرکاری دستاویز بھی  نہیں ہے۔ حال ہی میں انتظامیہ کی طرف سے14ڈرم سے زیادہ تیل لانے کی ممانعت بھی کی گئی ، اور یہ بھی کہا گیا  کہ ہر شخص خود تیل لائے، مگر لوگ  (کیونکہ ٹوکن خریدا ہوا ہوتا ہے یا ان کا اپنا نہیں ہوتا) یہ کہہ کر کہ اصل مالک بیمار ہےیاوہ اصل مالک کا  بیٹا ہےاور وہ پڑ ھائی میں مصروف ہے وغیرہ عذر بناتے ہیں، جب کہ حقیقت اس کے بر خلاف ہے۔ بعض حضرات اس کو سیکیورٹی کلیئرنس  کہتے ہیں، خلاصہ یہی ہے کہ یہ ایک عارضی چیز ہے ، مستقل نہیں، کبھی بھی اس کے بند ہونے کے امکانات ہیں۔

مذ کو رہ مسئلہ کے بارے میں مقامی علماء کے درمیان دوآ راء  سامنے آئی ہیں: کچھ علماء ٹوکن کے بیچنے کے جواز کے قائل ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ٹو کن کا بیچنا  اب ابتلاء عام ہو گیا ہے، لہٰذا عرف کی وجہ سے ان کا بیچنا جائز  ہے،جبکہ  دیگر بعض علماء ٹوکن  بیچنے کو نا جائز کہتے ہیں، کیونکہ یہ حقوق مجر دہے، اورائمہ ثلاثہ کے نزدیک  اس کی خرید و فروخت جائز نہیں، رہی بات عرف کی تو وہ عرف خاص ہے اوراس صورت میں وکالت کا حیلہ بھی ممکن ہے، نیز  چونکہ یہ مستقل (کسٹم ڈیوٹی) کی طرح نہیں ، لہذا اس کی وجہ سے مذہبِ غیر پر فتویٰ دینا قرینِ مصلحت نہیں ہے۔اب پو چھنا یہ ہے کہ:

۱۔جن کے پاس واقعی اپنی گاڑی ہے کیا ان کے لیے اپنا ٹوکن بیچنا جائز  ہے ؟

۲۔ جن لوگوں نے اپنی سواری کی گاڑی کو مال بردار ظاہر کرکے رجسٹرڈ کروایا، ان کے لیے ٹوکن بیچنا کیسا ہے؟

۳۔جن لوگوں کے پاس گاڑی نہیں اور انہوں نے اثر رسوخ استعمال کرکے اور رشوت دے کر ٹوکن حاصل کیا،  ان  کےلیے ٹوکن بیچنے کا کیا حکم ہے؟

۴۔جنہوں نے اپنا شناختی کارڈ اثر و رسوخ  والے کو دیا  اور اپنا نام آنے پر پانچ دس ہزار روپے حاصل کیے،  کیا ان کے لئے ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

۵۔ٹوکن بیچنے پر جو رقم حاصل کی جاتی ہے، کیا وہ شرعاً حلال ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔بلوچستان میں ایرانی تیل لانے کے لیے رائج ٹوکن سسٹم اور اس کی خریدوفروخت سے متعلق سوال میں دی گئی تفصیل اورقائلینِ جواز کا فتویٰ ملاحظہ کرنے کے بعد  دارالافتاء  جامعۃ الرشید کراچی کی رائے اب بھی  اپنے سابقہ  فتویٰ   کے مطابق عدمِ جواز کی ہے، کیونکہ جن افراد میں ٹوکن کے حصول کی قانونی اہلیت نہیں ، یعنی جن لوگوں کے پاس اپنی گاڑی نہیں، بلکہ وہ کسی اور کی گاڑی کانمبر لگا کر اسے اپنی گاڑی ظاہر کرتے ہیں یا وہ اپنے ذاتی استعمال کی گاڑی مثلا کرولا اور مہران وغیرہ کو مال بردار گاڑی ظاہرکرتے ہیں یا یہ کہ ان کے پاس ایک مال بردار گاڑی ہوتی ہے، مگر وہ دوسرے لوگوں کا شناختی کارڈ دکھا کر اسی ایک گاڑی کے ذریعہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے تین تین چار چار ٹوکن حاصل کرتے ہیں تو یہ سب ناجائز اور غیرشرعی کام ہے، لہذاانتظامیہ کی جانب سے ایسے شخص کو ٹوکن جاری  کرنا  اور  دوسرے فریق کا  ٹوکن حاصل کرنا  دھوکہ دہی ،  قانون کی خلاف ورزی اور دوسروں  کی حق تلفی  ہے ،اس کی شرعاً قطعاً اجازت نہیں، بلکہ یہ عمل جھوٹ، غلطی بیانی اور دھوکہ دہی جیسے عناصر پائے جانے کی وجہ سے گناہِ کبیرہ کے زمرے میں آتاہے، جس سے بچنا ضروری ہے۔

2۔  ٹوکن خواہ اہل شخص کے پاس ہو یا نا اہل کے پاس ، بہرصورت  اِس  کی  آگے خرید  وفروخت  جائز نہیں ، کیونکہ ٹوکن کے استعمال کا قانوناً  صرف وہی شخص  مجاز ہے ،جس کے نام پریہ ٹوکن جاری کیا جاتاہے، دوسرے شخص کو یہ ٹوکن بیچنا قانوناً وشرعاً دونوں طرح منع ہے، کیونکہ حکومت کی جانب سے منع ہونے کے ساتھ ساتھ شرعی اعتبار سے  یہ محض حقِ مجرد ہے، جس کی بیع اور اجارہ کی حنفیہ کے ہاں تو ویسے ہی اجازت نہیں، جہاں تک ائمہ ثلاثہ رحمہم اللہ کا تعلق ہے، جیسا کہ منسلکہ فتوی میں اس کو بنیاد بنایا گیا ہے تو ان کے مسلک کے مطابق بھی جائز نہیں، کیونکہ سوال میں ذکر کی گئی صورت  حکومت کی طرف سے صرف اسی شخص کو یہ ٹوکن استعمال کرنے کی اجازت ہوتی ہے جس کے نام پر وہ ٹوکن جاری کیا گیا ہو، کسی دوسرے شخص کو یہ ٹوکن دینا ایسے ہی ہے جیسے کسی ملک میں داخلے کے لیے اجازت نامہ کے طور پر اپنا پاسپورٹ اور ویزہ کسی دوسرے شخص کو دینا، جیسے پاسپورٹ اور ویزہ کسی شخص کو دینا شرعاً وقانوناً منع اور ناجائز ہے، اس لیے ائمہ ثلاثہ رحمہم اللہ کے مسلک کے مطابق بھی اپنا کارڈ کسی کو دے کر اس پر رقم لینا شرعاًوقانوناًدونوں طرح جائز نہیں،  البتہ اگر کسی شخص کی اپنی گاڑی کا اصلی کارڈ ہو اور وہ کسی وجہ سے اپنے لیے پٹرول اور ڈیزل نہیں لاتا، بلکہ اپنی گاڑی پر کسی اور شخص کے لیے پٹرول اور ڈیزل لے کر آتا ہے تو وہ اس سے اس وکالت اور خدمت کی اجرت لے سکتا ہے۔ 

3۔ اس کا جواب سوال نمبر1کے جواب میں گزر چکا ہے۔

4۔ جن لوگوں نے اپنا شناختی کارڈ اثر و رسوخ  والے کو دیا  اور اپنا نام آنے پر پانچ دس ہزار روپے حاصل کیے ان کے لیے بھی ایسا کرنا ناجائز اور گناہ ہے، کیونکہ شناختی کارڈ کوئی ایسی قابلِ منفعت چیز نہیں کہ جس کو اجارہ پر دے کرآدمی اجرت حاصل کرے، یہ صرف اسی شخص کے لیے شناخت نامہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے نام پر حکومت کی طرف سے یہ شناختی کارڈ جاری کیا گیا، کسی اور کے شناختی کارڈ کو اپنی طرف منسوب کرنے میں جھوٹ اور دھوکہ دہی کا ارتکاب کرنا لازم آتا ہے، اس لیے یہ عمل ناجائز اور اس پر اجرت لینا حرام ہے۔

5۔ یہ رقم حلال نہیں، جیسا کہ جواب نمبر4میں تفصیل گزر چکی ہے۔

حوالہ جات

فقہ البیوع (ج 1 ص280-281)مكتبة معارف القرآن كراتشي:

113- بیع الاسم التجاري أو العلامة التجاریة:

الکلام في جواز الاعتیاض عن الاسم التجاری في الموضعین: الأول: هل یجوز الاعتیاض عن استعمال الاسم التجاری رغم أنه لیس عینًا مادیًا، وإنما هو مجرد حق؟…… فعلی ضوء القواعد التی استخلصناها في موضوع بیع الحقوق، ینبغي أن یجوز الاعتیاض عنه علی طریق التنازل دون البیع. وبهذا أفتی شیخ مشایخنا الأمام أشرف علي التهانوي رحمه الله تعالی وقاسه علی مسألة التنازل عن الوظائف بمال.

ویبدو لهذا العبد الضعیف عفا الله عنه أن حق الاسم التجاري والعلامات التجاریة، وإن کان في الأصل حقا مجردا غیر ثابت في عین قائمة، ولکنه بعد التسجیل الحکومي الذي یتطلب جهدا کبیرا وبذل أموال جمة، والذي تحصل له بعد ذلك صفة قانونیة تمثلها شهادات مکتوبة بید الحامل وفي دفاتر الحکومة، أشبه الحق المستقر في العین، والتحق في عرف التجار بالأعیان، فینبغي أن یجوز الاعتیاض عنه علی وجه البیع أیضا….. الخ.

115- الترخیص التجاري:

وما قلنا في حکم الاسم التجاري والعلامة التجاریة من جواز الاعتیاض عنهما یصدق علی الترخیص التجاري. وحقیقة هذا الترخیص أن معظم الحکومات الیوم لاتسمح بإیراد البضاعات من الخارج أو إصدارها إلیه إلا برخصة تمنحها الحکومة.

والذي یظهر أن هذا نوع من الحجر علی التجار، ولاتستحسنه الشریعة إلاسلامیة إلا لحاجة ملحة، ولکن الواقع في معظم البلاد هکذا. وإن حامل هذه الرخصة ربما یبیعها إلی آخر لیتمکن المشتري من استیراد البضائع من الخارج أو یصدرها إلیه بدلًا من البائع.والواقع في هذه الرخصة أنها لیست عینًا مادیة، ولکنها عبارة عن حق بیع البضاعة في الخارج أو شراءها منه، فیتأتی فیه ما ذکرنا في الاسم التجاري من أن هذا الحق ثابت أصالةً، فیجوز النزول عنه بمال.

وبما أن الحصول علی هذه الرخصة من الحکومة یتطلب کلًا من الجهد والوقت والمال. وإن لهذه الرخصة صفة قانونیة تمثلها الشهادات المکتوبة ویستحق بها التجار تسهیلاتٍ توفرها الحکومة لحاملیها، فصارت هذه الرخصة في عرف التجار ذات قیمة کبیرة یُسلك بها مسلك الأموال، فلایبعد أن تلتحق بالأعیان في جواز بیعها وشراءها.  ولکن کل ذلك إنما یتأتی إذا کان القانون یسمح بنقل هذه الرخصة إلی رجل آخر. أما إذا کانت الرخصة باسم رجل مخصوص أو شرکة مخصوصة، و لایسمح القانون بنقلها إلی رجل آخر أو شرکة أخری، فلا شبهة في عدم جواز بیعها؛ لأن بیعه حینئذٍ یؤدي إلی الکذب والخدیعة؛ فإن المشتري یستعمله  باسم البائع، لا باسم نفسه، فلایحل ذلك لما فیه من الکذب، إلا بأن یؤکل حامل الرخصة بالبیع والشراء، وحینئذٍ لایکون ذلك بیعًا للرخصة، وإن کان یجوز لحامل الرخصة أن یطالب الموکل بأجرة الوکالة. والله سبحانه وتعالی أعلم.

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (4/ 2852) الناشر: دار الفكر - سوريَّة – دمشق:

 الحقوق المجردة وغير المجردة:

الحق المجرد أو المحض: هو الذي لا يترك أثرا بالتنازل عنه صلحا أو إبراء، بل يبقى محل الحق عند المكلف (أو المدين) بعد التنازل كما كان قبل التنازل. مثل حق الدين، فإن الدائن إذا تنازل عن دينه، كانت ذمة المدين بعد التنازل هي بعينها قبل التنازل، ولا يترتب على التنازل عن الحق أثر من الآثار. وكذلك حق الشفعة إذا أسقط الشفيع حقه في الشفعة، كانت ملكية المشتري للعقار بعد التنازل عن الشفعة هي بعينها قبل التنازل. ومثله حق المدعي في تحليف خصمه اليمين، وحق الخيار، والحق في وظائف الأوقاف.

والحق غير المجرد: هو الذي يترك أثرا بالتنازل عنه، كحق القصاص فإنه يتعلق برقبة القاتل ودمه، ويترك فيه أثرا بالتنازل عنه، فيتغير فيه الحكم، فيصير معصوم الدم بالعفو بعد أن كان غير معصوم الدم، أي مباح القتل بالنسبة إلى ولي المقتول المستحق للقصاص، ولكن برأي الحاكم. ومثل حق استمتاع الزوج بزوجته، يتعلق بالزوجة، ويمنعها من إباحة نفسها لغير زوجها بالعقد عليها، فإذاتنازل الزوج عن هذا الحق بالطلاق، استردت المرأة حريتها، فتتزوج بمن تشاء.

 وتظهر فائدة هذا التقسيم فيما يأتي:

الحق غير المجرد تجوز المعاوضة عنه بالمال، كحق القصاص وحق الزوجة يجوز لكل من ولي المقتول والزوج أخذ العوض المالي في مقابل التنازل عن حقه بالصلح.

أما الحق المجرد: فلا يجوز الاعتياض عنه كحق الولاية على النفس والمال وحق الشفعة، وهذا رأي الحنفية، ويجوز عند غير الحنفية أخذ العوض عنه.

بدائع الصنائع (4/ 192) الناشر: دار الكتب العلمية،بيروت:

ومنها أن تكون المنفعة مقصودة يعتاد استيفاؤها بعقد الإجارة ويجري بها التعامل بين الناس؛ لأنه عقد شرع بخلاف القياس لحاجة الناس، ولا حاجة فيما لا تعامل فيه للناس، فلا يجوز استئجار الأشجار لتجفيف الثياب عليها والاستظلال بها؛ لأن هذه منفعة غير مقصودة من الشجر. ولو اشترى ثمرة شجرة، ثم استأجر الشجرة لتبقية ذلك فيه لم يجز؛ لأنه لا يقصد من الشجر هذا النوع من المنفعة، وهو تبقية الثمر عليها، فلم تكن منفعة مقصودة عادة. وكذا لو استأجر الأرض التي فيها ذلك الشجر يصير مستأجرا باستئجار الأرض، ولا يجوز استئجار الشجر. وقال أبو يوسف: إذا استأجر ثيابا ليبسطها ببيت ليزين بها ولا يجلس عليها، فالإجارة فاسدة؛ لأن بسط الثياب من غير استعمال ليس منفعة مقصودة عادة. وقال عمرو عن محمد في رجل استأجر دابة ليجنبها يتزين بها فلا أجر عليه؛ لأن قود الدابة للتزين ليس بمنفعة مقصودة. ولا يجوز استئجار الدراهم والدنانير ليزين الحانوت، ولا استئجار المسك والعود وغيرهما من المشمومات للشم؛ لأنه ليس بمنفعة مقصودة، ألا ترى أنه لايعتاد استيفاؤها بعقد الإجارة.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

17/رجب المرجب1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب